انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات و اُمورِ زندگی محض تاریخی بیانات نہیں بلکہ ہدایت، تربیت اور روحانی اصلاح کا خزانہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان قصص کو اس لیے بیان فرمایا تاکہ انسان ان سے سبق حاصل کرے۔ یونہی حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید میں نہایت عبرت آموز، روحانی گہرائی اور تربیتی پہلوؤں سے بھرپور انداز میں بیان ہوا ہے۔ یہ قصہ انسان کو صبر، توکل، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وسیع ہونے کا درس دیتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ انبیاء میں سے ہیں۔ آپ کو "ذوالنون" یعنی "مچھلی والے"کہا جاتا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے قدیم شہر نینویٰ (موجودہ عراق میں واقع) کی طرف نبی بنا کر بھیجا، جہاں لوگ بت پرستی اور گناہوں میں مبتلا تھے۔جبکہ آپ کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔قرآنِ مجید میں آپ کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے، خاص طور پر قرآن مجید کی سورۃ یونس، سورۃ الانبیاء، سورۃ الصافات اور سورۃ القلم میں۔

مذکور ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴ منقول تفسیرِ صراط الجنان)

اِس معاملے کی منظر کشی کرتے ہوئے قرآن کریم ناطق ہے فرمایا:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

نوٹ:علماء اکرام کے نزدیک انبیاء سے گناہ صادر نہیں ہوتے، البتہ اجتہادی خطا ممکن ہے، جس پر فوراً اصلاح کر دی جاتی ہے۔

مچھلی کے پیٹ میں آزمائش: جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۷ / ۴۸۷، ملخصاً)

قرآن کریم میں آتا ہے:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (سورۃ الصافات: 142)

حضرت یونس علیہ السلام کی مبارک سیرت خصوصاً ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو مشکلات، آزمائشوں اور مایوسیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔لہٰذا حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ محض ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر انسان غلطی کر بھی بیٹھے تو اللہ کی طرف رجوع کرے، کیونکہ وہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔خلّاق عالم ہمیں سیرتِ اسلاف و انبیاء کرام کا مطالعہ کر کے اپنے اُمور زندگی کے سانچے میں ڈھالنے کی توفیق عمل نصیب کرے آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ۔