آپ عَلَیْہِ
السَّلَام کا نامِ پاک یونس بن متٰی ہے اور چونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے
پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو’’ذوالنون ‘‘اور’’ صاحِبُ الْحُوْت یعنی
مچھلی والے بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں ۔
حضرت یونس علیہ السلام اور قرآن:حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ قرآن مجید میں آپ کا
ذکر بڑے احترام اور عبرت کے انداز میں آیا ہے۔ آپ کو نینوٰی (موجودہ عراق کا ایک
علاقہ) کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ آپ اپنی قوم کو اللہ کی توحید کی
دعوت دیتے رہے، لیکن انہوں نے آپ کی بات نہ مانی اور نافرمانی پر قائم رہے۔جب قوم
نے مسلسل انکار کیا تو حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہاں
سے چلے گئے۔ قرآن مجید میں اس واقعہ کو ایک سبق کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ نبی
بھی اگر جلدی کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرماتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام ایک
کشتی میں سوار ہوئے، لیکن سمندر میں طوفان آ گیا۔ کشتی کو ہلکا کرنے کے لیے قرعہ
اندازی کی گئی اور حضرت یونس علیہ السلام کا نام آیا۔ چنانچہ آپ کو سمندر میں ڈال
دیا گیا، اور ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ اس حالت میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے
دل کی گہرائیوں سے دعا کی :لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء :87)
اللہ تعالیٰ
نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ آپ کو ساحل پر چھوڑ دے۔ پھر
اللہ نے آپ کو صحت دی اور دوبارہ آپ کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس بار پوری قوم ایمان
لے آئی، جو ایک منفرد واقعہ ہے ۔قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ سے
ہمیں صبر، توبہ، اور اللہ پر مکمل بھروسہ کرنے کا درس ملتا ہے یہ واقعہ ہمیں یہ بھی
سکھاتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اللہ کو پکارنا چاہیے، کیونکہ وہی نجات دینے
والا ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا ہے ذیل چند
آیات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا
فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ
اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے
وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض
کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ (سورۃ الانعام:86،87)
ایک اور مقام پر آپ کی رسالت کا بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)
Dawateislami