ابو
مجتبیٰ محمد حمزہ عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
حضراتِ
انبیاءِ کرام علیہم السلام کائنات کی وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے تذکرے سے دلوں کو
جِلا اور روح کو تازگی ملتی ہے۔ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر ان
بَرگُزیدہ شخصیات کے حالاتِ زندگی بیان فرما کر انسانیت کے لیے ہدایت کے روشن چراغ
مُنور کیے ہیں۔ ان میں سے ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں،
جن کا ذکر قرآنِ پاک میں نہایت سبق آموز پیرائے میں کیا گیا ہے۔
مختصر
تعارف: آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی، جبکہ لقب "ذوالنون" اور
"صاحب الحوت" ( یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ عَلَيْهِ السلام حضرت ہود علیہ
السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے، جو مُوصَل کے علاقہ میں
دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ (سیرت الانبیاء، ص491)
قرآنِ پاک
میں حضرت یونس علیہ السلام کے حوالے سے جو اہم نکات بیان ہوئے ہیں، ان میں سے چند
ملاحظہ کیجیے:
(1)مچھلی کے پیٹ میں ذکر و تسبیح:جب سمندر
میں مچھلی نے آپ کو نگل لیا، تو اس اندھیرے میں آپ نے اپنے رب کو پکارا۔ چنانچہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17،الانبیاء:87)
اس آیت کے
تحت "تفسیر مدارک" میں لکھا ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم
کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی
قائم رہی، تو حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف
لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف
کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس
ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں
مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں۔جیسے دریا کی تاریکی ،
رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ
"اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک
ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی
جدا ہو گیا"۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: 87، ص724)
(2) نجات کا قرآنی وعدہ:آپ علیہ
السلام کی اس تسبیح کو اللہ پاک نے قبول فرمایا اور آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات
عطا کی۔ قرآن پاک فرماتا ہے:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (پ17،الانبیاء:88)
(4،3) تسبیح کی برکت:اللہ پاک
نے حضرت یونس علیہ السلام کی اس عبادت گزاری اور تسبیح کی اہمیت بیان کرتے ہوئے
فرمایا:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (پ23،الصّٰفّٰت:144،143)
اللہ پاک
ہمیں انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات اور قرآنِ پاک کی نصیحتوں سے ہدایت حاصل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ النبیِ الامین ﷺ ۔
Dawateislami