قرآنِ کریم
وہ مقدس کتاب ہے جو انسانوں کی فلاح اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں
سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ایمان افروز واقعات بیان فرما کر ہمیں صبر،
استقامت اور توبہ کا درس دیا ہے۔ ان ہی جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک حضرت یونس
علیہ السلام ہیں، جن کا ذکرِ خیر قرآنِ پاک کی مختلف سورتوں میں نہایت فصاحت و
بلاغت کے ساتھ آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کو قرآن میں "ذوالنون" اور
"صاحب الحوت" (مچھلی والا) کے القابات سے بھی یاد کیا گیا ہے۔
(1) قومِ یونس کی توبہ:حضرت یونس
علیہ السلام کو نینوٰی (موجود عراق کا شہر موصل) کے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا
گیا۔ جب آپ کی قوم نے ابتدا میں دعوتِ حق کو قبول نہ کیا تو عذاب کی نشانیاں دیکھ
کر وہ سب سچے دل سے تائب ہو گئے۔ قرآنِ پاک میں اس قوم کی اس انفرادیت کا ذکر یوں
ملتا ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ یونس:98)
(2) کشتی کا سفر اور آزمائش :مشیتِ
الٰہی سے حضرت یونس علیہ السلام ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوئے۔ جب کشتی بوجھ کی
وجہ سے توازن کھونے لگی تو وہاں موجود مسافروں کے درمیان قرعہ اندازی کی گئی، جس میں
آپ علیہ السلام کا نام مبارک نکلا۔ قرآنِ مجید اس منظر کی گواہی یوں دیتا ہے:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ الصافات، آیت: 141،142)
(3)مچھلی کے پیٹ میں تسبیح کی
برکات:جب آپ کو سمندر میں ڈالا گیا تو اللہ کے حکم سے ایک عظیم مچھلی نے آپ کو
نگل لیا۔ اس بڑی آزمائش میں بھی آپ علیہ السلام کی زبان پر اللہ کی پاکی بیان ہوتی
رہی۔ قرآن فرماتا ہے کہ آپ کی نجات کا سبب آپ کی تسبیح تھی:فَلَوْ لَاۤ
اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔
(4)اندھیروں میں پکار :اندھیروں
میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے
اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب
سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے
پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
جسے ہم
"آیتِ کریمہ" کے نام سے جانتے ہیں:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔
(سورۃ الانبیاء:87)
(5) نجات اور شجرِ یقطین کا سایہ:بالآخر
اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسبیح و دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا
کہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔ اس وقت آپ کی جسمانی کمزوری کے پیشِ نظر اللہ نے وہاں
کدو کا درخت اگا دیا:
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔(سورۃ الصفت:146)
جس جگہ
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مچھلی کے پیٹ سے باہرتشریف لائے وہاں
کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ
رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی
اور اپنا تھن حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دہنِ مبارک میں دے کر
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا جاتی یہاں تک کہ جسم
مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں
توانائی آئی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۶، ۴ / ۲۷)
حضرت سعد
رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ذوالنون (حضرت یونس
علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ” پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا “ کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی
مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“۔(سنن
ترمذی،كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله علیہ وسلم،حدیث: 3505)
حضرت یونس
علیہ السلام کے واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان جب دنیا کے تمام سہاروں سے
کٹ کر صرف اور صرف رب کریم کی طرف رجوع کرتا ہے، تو اللہ اسے ناممکن حالات سے بھی
نجات عطا فرماتا ہے اس کی مشکلات آسان فرما دیتا ہے ۔ تسبیح، استغفار اور اللہ کی
رحمت پر کامل یقین ہی ایک مومن کا اصل اثاثہ ہے۔
Dawateislami