قرآنِ کریم محض قصص و واقعات کی کتاب نہیں، بلکہ یہ نصیحت اور ہدایت کا منبع ہے۔ ان میں سے ایک ایمان افروز واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے "موصل" (عراق) کے علاقے "نینویٰ" کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ جب قوم نے سرکشی کی اور حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے حکم کے انتظار کے بغیر بستی سے نکل گئے، تو آزمائش شروع ہوئی۔

(1) بستی سے روانگی اور قرآنی تذکرہ:حضرت یونس علیہ السلام ایک بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوئے، مگر قرعہ اندازی میں ان کا نام نکلا اور انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (الصافات: 142)

(2) مچھلی کے پیٹ میں پکار (دعائے یونس):سمندر کی گہرائیوں اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے صرف اپنے رب کو پکارا۔ وہ دعا جو آج بھی ہر مسلمان کے لیے پریشانی سے نجات کا ذریعہ ہے:

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (الانبیاء: 87)

(3) اللہ کی رحمت اور نجات:اللہ تعالیٰ نے ان کی اس پکار کو سنا اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں ساحل پر اگل دے۔ قرآن پاک میں اس کا ذکر یوں ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (الانبیاء: 88)

(4) قومِ یونس کی خصوصیت:عام طور پر قومیں عذاب دیکھ کر ایمان لائیں تو فائدہ نہیں ہوتا، لیکن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم وہ واحد قوم تھی جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر سچی توبہ کی اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (یونس: 98)

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی تاریک اور کٹھن کیوں نہ ہوں، اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ سچے دل سے توبہ اور "سبحان اللہ" کی تسبیح سمندر کی گہرائیوں سے بھی نجات دلا سکتی ہے۔