محمد
حنظلہ (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ،پاکستان)
اس واقعہ
کا ذکر کرتے ہوئے خداوند قدوس نے قرآنِ مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ ۱۱، یونس: ۹۸)
مطلب یہ
ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آ جاتا ہے تو عذاب آ جانے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں
ہوتا مگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی بدلیاں آ جانے کے بعد بھی جب وہ
لوگ ایمان لائے تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔
عذاب ٹلنے
کی دعا: طبرانی شریف کی روایت ہے کہ شہر نینوٰی پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے
اور حضرت یونس علیہ السلام باوجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے
گھبرا کر اپنے ایک عالم کے پاس گئے جو صاحبِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد
کرنے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر دعا مانگو: یَا حَیُّ حِیْنَ لَا حَیَّ وَ یَا حَیُّ یُحْیِی الْمَوْتٰی وَ یَا حَیُّ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا
مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور صاحبِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ
الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینوٰی کا عذاب جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی
کہ اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ
عَظُمَتْ وَ جَلَّتْ وَ اَنْتَ اَعْظَمُ وَ اَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ
اَھْلُہٗ وَ لَا تَفْعَلْ بِنَا مَا نَحْنُ اَھْلُہٗ بہر حال عذاب ٹل جانے
کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام شہر کے قریب آئے تو آپ نے شہر میں عذاب کا کوئی
اثر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی قوم میں تشریف لے جائیے۔ تو آپ نے
فرمایا کہ کس طرح اپنی قوم میں جا سکتا ہوں؟ میں تو ان لوگوں کو عذاب کی خبر دے کر
شہر سے نکل گیا تھا، مگر عذاب نہیں آیا۔ تو اب وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھ کر قتل کر دیں
گے۔ آپ یہ فرما کر اور غصہ میں بھر کر شہر سے پلٹ آئے اور ایک کشتی میں سوار ہو
گئے۔ کشتی جب بیچ سمندر میں پہنچی تو کھڑی ہو گئی۔ وہاں کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا
کہ وہی کشتی سمندر میں کھڑی ہو جایا کرتی تھی جس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام
سوار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کشتی والوں نے قرعہ نکالا تو حضرت یونس علیہ السلام کے
نام کا قرعہ نکلا۔ تو کشتی والوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور کشتی لے کر
روانہ ہو گئے اور فوراً ہی ایک مچھلی آپ کو نگل گئی اور مچھلی کے پیٹ میں جہاں
بالکل اندھیرا تھا آپ مقید ہو گئے۔ مگر اسی حالت میں آپ نے آیتِ کریمہ: لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (۸۷)
کا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اندھیری
کوٹھڑی سے نجات دی اور مچھلی نے کنارے پر آ کر آپ کو اُگل دیا۔ اس وقت آپ بہت ہی
نحیف و کمزور ہو چکے تھے۔ خدا عزوجل کی شان ہے کہ اس جگہ کدو کی ایک بیل اُگ گئی
اور آپ اس کے سایہ میں آرام کرتے رہے پھر جب آپ میں کچھ توانائی آگئی تو آپ اپنی
قوم میں تشریف لائے اور سب لوگ انتہائی محبت و احترام کے ساتھ پیش آکر آپ پر ایمان
لائے۔(تفسیر الصاوی، ج ۳، ص ۸۹۳، پ ۱۱، یونس: ۹۸)
حضرت یونس
علیہ السلام کی اس دردناک سرگزشت کو قرآنِ کریم نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:
وَ اِنَّ يُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَؕ (۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ (۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِيْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِيْمٌ (۱۴۲) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِيْنَۙ (۱۴۳) لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَۚ (۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِيْمٌۚ (۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَّقْطِيْنٍۚ (۱۴۶) وَ اَرْسَلْنٰهُ
اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَۚ (۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍؕ (۱۴۸)
ترجمہ
کنزالایمان: اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت
کرتا تھا تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ
اٹھائے جائیں گے پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا اور ہم نے اس پر
کدو کا پیڑ اُگایا اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ تو وہ ایمان
لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔(پ ۲۳، الصافات:
۱۳۹ تا ۱۴۸)
درسِ ہدایت:نینوٰی والوں کی سرگزشت
سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی قوم پر کوئی بلا یا عذاب بن کر نازل ہو تو اس بلا سے
نجات پانے کا یہی طریقہ ہے کہ لوگوں کو توبہ و استغفار میں مشغول ہو کر دعائیں
مانگنی چاہئیں تو امید ہے کہ بندوں کی بے قراری اور ان کی گریہ وزاری پر ارحم الراحمین
رحم فرما کر بلاؤں کے عذاب کو دفع فرما دے گا۔
Dawateislami