نفاق عربی
زبان کا لفظ ہے جو نفق سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں چھپانا یا دو رُخی راستہ اختیار
کرنا۔ شرعی اصطلاح میں زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے
انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتاہے۔ (باطنی
گناہوں کی معلومات، ص 164)
نفاق ایک بہت
بڑا اخلاقی اور روحانی مرض ہے۔ نفاق کا مطلب ہے کہ انسان ظاہر میں مسلمان ہو لیکن
دل میں ایمان نہ ہو، یا زبان سے کچھ اور کہے اور دل میں کچھ اور رکھے۔ منافق شخص
بظاہر نیک اور دیندار نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ سچائی سے دور ہوتا ہے۔ اسلام نے
نفاق کو سختی سے منع کیا ہے اور منافقین کو خطرناک دشمن قرار دیا ہے کیونکہ وہ
مسلمانوں کے درمیان رہ کر نقصان پہنچاتے ہیں۔
اللہ قرآن پاک
میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ
خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ
النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ
5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب
دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے
جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
حدیث کریمہ
میں بیان ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں؛ جب بات کرے جھوٹ
بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
نفاق کے بے
شمار نقصانات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ملاحظہ کیجیے تاکہ ان سے بچا جاسکے
نفاق ایمان کو
کمزور کرتا ہے، معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، اللہ ناراض ہوتا ہے، آخرت میں
سخت عذاب ملتا ہے، منافق کو عزت نصیب نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے
کہ نفاق ایک خطرناک باطنی بیماری ہے جو انسان کے ایمان اور کردار کو تباہ کر دیتی
ہے۔ قرآن و حدیث میں منافقین کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ
وہ سچائی، امانت داری اور اخلاص کو اختیار کرے اور نفاق جیسی بری صفت سے اپنے آپ
کو بچائے تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں نفاق اور اس جیسی تمام مہلک بیماریوں سے محفوظ فرماے اللہ کریم
اپنا ڈر اور مسلمانوں کا احترام عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami