امام علاؤ الدین علی بن محمد الخازن فرماتے ہیں کہ منافق وہ ہوتا ہے جو زبان سے مومن ہونے کا اعتراف کرے اور دل میں اس کا انکار کرے، اور اس کی صبح کسی حالت پر اور شام کسی حالت پر ہو۔ (تفسیر خازن، 1/152)

نفاق کی دو اقسام ہیں:

منافق اعتقادی: وہ شخص جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتا ہو مگر اپنے دل میں کفر چھپائے ہوئے ہو۔

منافق عملی: وہ شخص جس کے ایمان و عقائد میں کوئی خرابی و نفاق نہیں ہوتا، لیکن اس کے اعمال یا خصلتیں منافقوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔

حدیث مبارکہ میں نفاق عملی کی چار علامات بیان ہوئی ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ خالص منافق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک ہو، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب کسی سے وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ جب جھگڑا کرے تو بد زبانی کرے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)

علمائے امت کا اتفاق ہے کہ اگرچہ یہ خصلتیں منافقوں کی علامات ہیں، لیکن اگر کسی صادق الایمان مسلمان میں یہ چار خصلتیں پائی جائیں تو اسے منافق نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس میں منافقانہ عادت موجود ہے۔ کیونکہ منافق کی علامات کا پایا جانا اور منافق ہونا دو مختلف باتیں ہیں، جیسے کہ کوے کی علامت سیاہی ہے مگر ہر کالی چیز کو کوا نہیں کہہ سکتے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بدترین شخص دو چہروں والا ہے، جو ایک کے پاس ایک چہرہ اور دوسروں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے، قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی۔ (ترغیب و ترہیب، 3/371، حدیث: 4)

ہمیں قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں خلوص ہونا چاہیے، جبکہ نفاق انسان کے دل کو کمزور اور سیاہ کر دیتا ہے، جس سے معاشرے میں بے اعتمادی اور فساد پیدا ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان سچائی، اخلاص اور دیانت داری اختیار کرے اور اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرے۔

اللہ پاک ہمیں نفاق اور دیگر بری عادات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں اصلاح کا درس دیتا ہے۔اسلام میں اخلاص،سچائی اور امانت داری کو بنیادی اخلاقی اصول قرار دیا گیا ہے جبکہ نفاق کو ایک نہایت خطرناک اخلاقی اور روحانی بیماری بتایا گیا ہے۔نفاق دراصل دل کی ایسی خرابی ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن میں تضاد پیدا کر دیتی ہے۔ منافق بظاہر مسلمان اور نیک دکھائی دیتا ہے لیکن اسکے دل میں اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا۔

اسی وجہ سے قرآن مجید میں منافقین کا ذکر بار بار آیا ہے اور ان کے انجام کے بارے میں بھی نبی کریم ﷺ نے منافقین کی علامات بیان فرمائی ہیں تاکہ مسلمان اس خطرناک بیماری سے بچ سکے۔

نفاق کا لغوی اعتبار سے مطلب دوغلا پن یا ظاہر و باطن کا اختلاف ہے۔شریعت کی اصطلاح میں نفاق اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ انسان ظاہر میں اسلام کا اظہار کرے مگر دل میں ایمان نہ رکھتا ہو۔

علمائے کرام نے نفاق کی دو بڑی اقسام بیان کی ہیں:

نفاق اعتقادی: یہ وہ نفاق ہے جس میں انسان بظاہر میں مسلمان ہوتا ہے لیکن دل سے ایمان نہیں لاتا۔ایسا شخص حقیقت میں مسلمان نہیں بلکہ کافر ہوتا ہے۔قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے سخت عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے۔

نفاق عمل: اس میں انسان کا عقیدہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کے اعمالِ منافقین جیسے ہوتے ہیں، مثلا جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا اور جھگڑے میں گالی گلوچ کرنا وغیرہ۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشادِ فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

احادیث مبارکہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)

ارشاد فرمایا: منافق اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اللہ ہی اسے دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔

نفاق کے نقصانات: نفاق انسان کی روحانی اور اخلاقی زندگی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے چند اہم نقصانات درج ذیل ہیں:

نفاق انسان کو اللہ کی ناراضی کا مستحق بنا دیتا ہے۔یہ انسان کے دل کو تاریک کر دیتا ہے۔منافق شخص معاشرے میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔ اس کے قول اور فعل میں تضاد ہونے کی وجہ سے معاشرتی فساد پیدا ہوتا ہے۔ نفاق انسان کو اخلاص اور تقویٰ سے دور کر دیتا ہے۔

اگر انسان اپنے دل کی اصلاح کرے اور اخلاص اختیار کرے تو وہ نفاق جیسی بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نفاق جیسی مہلک بیماری سے محفوظ فرمائے۔ آمین

نفاق یعنی (منافقت) کی تعریف: زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219)

نفاق (منافقت) ایک خطرناک بیماری ہے اس مرض اور بیماری میں مبتلا رہتے ہوئے بھی آدمی اس مرض اور بیماری کا احساس نہیں کر پاتا عام طور پر لوگ اس سے نا واقف ہوتے ہیں نفاق و منافقت ایک ایسی بیماری ہیں جو انسان کو پستی کی اخری حد تک پہنچا دیتی ہے نفاق انسان کی حق بینی اور حق پرستی کی صلاحیت کو فنا کر دیتا ہے۔ عربی زبان میں نفاق کو نفق کہتے ہیں اور اس سرنگ کو جس کے دو دہانے ہوں اور نافقاء جنگلی چوہے کے بل کو کہتے ہیں جس میں ایک طرف داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف نکل جاتا ہے اس سے نفاق ماخذ ہے جس کے معنی ہیں دین میں ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جانا۔ (امثال الحدیث، ص 219)

نفاق سے انسان کا نور بصیرت سلب ہو جاتا ہے یہ وجہ ہے کہ صحابہ کرم کثرت سے نفاق سے پناہ مانگتے تھے۔ حضرت ابن ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے 30 صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ملاقات کی ان میں سے ہر ایک کو اپنے متعلق نفاق سے خوفزدہ پایا۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نفاق کی طرف سے صرف منافق ہی مطمئن ہو سکتا ہے اور اسے چوکنا رہنا مومن کی صفت ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد باری ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

صدر الافاضل محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ منافق کا عذاب کافر کے عذاب سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مغالطہ دینا اور سلام کے ساتھ استہزاء کرنا آسکا شیوہ رہا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220)

فرمان مصطفی ﷺ: چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب امانت دی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)

نفاق اعتقادی و عملی کے بعض اسباب: بندہ جب صحیح طریقے سے عقائد فرائض و واجبات کا علم حاصل نہیں کرتا تو شیطان دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتا ہے جس سے بندہ نفاق جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو سچائی اخلاص اور دیانت داری کی تعلیم دیتا ہے اس کے برعکس نفاق ایک ایسی بری صفت اور عادت ہے جو انسان کے کردار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے جیسے ایک کھوکلا بانس ہوتا ہے۔ اس کے اعمال کام نہیں آتے اور اس کے تمام کے تمام اعمال جو اس نے کیے ہوتے ہیں وہ سب ضائع ہو جاتے ہیں نفاق کا مطلب ہے کہ انسان بظاہر کچھ اور ہو اور اندر سے کچھ اور ہو یعنی اس کا باطن ظاہر کے برعکس ہو یعنی زبان سے ایمان اور اچھائی کا دعوی کرنا مگر دل سے ایمان اور اچھائی کا دعوی نہ کرتا ہو اور اس کے ظاہر کے خلاف خیالات ہوں۔

اسلام میں نفاق کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اسے ایک بری اخلاقی برائی اقرار دیا گیا ہے اس کے متعلق بہت سی وعیدیں قرآن پاک میں بھی نازل ہوئی ہیں، احادیث مبارکہ میں بھی حضور اکرم ﷺ کی زبانی منقول ہے، قرآن پاک میں ایک جگہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ استہزا کرنا اس کا شیوہ رہا ہے نفاق کے زبان سے دعوی اسلام کرنا دل میں اسلام سے انکار یہ بھی خالص کفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفر باطنی پر قرآن ناطق ہوا نیز نبی کریم ﷺ نے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرمایا کہ یہ منافق ہے اب اس زمانہ میں کسی خاص شخص کو نیت قطع کے ساتھ منافق نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے سامنے جو دعوی اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو منافی ایمان ہے نہ صادر ہو، البتہ نفاق کے ایک شاخ زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریات دین کا انکار بھی ہے۔ (بہار شریعت، 1/182، حصہ: 1)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں: وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)

علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ یہ تین خصلت نفاق کی ہیں اور ان تین خصلتوں والا منافق کے مشابہ ہے اور ان کے اخلاق سے متخلق ہے کیونکہ نفاق کا معنی ہے باطن کے خلاف ظاہر کرنا اور جو شخص کسی سے جھوٹ بولتا ہے یا اس سے وعدہ کی خلاف کرتا ہے یا اس کی امانت میں خیانت کرتا ہے وہ اس سے نفاق کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے باطن کے خلاف ظاہر کرتا ہے پس وہ صرف اس شخص سے نفاق کر رہا ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اسلام میں منافق ہے اور اس کے ساتھ نفاق کر رہا ہے جس شخص میں ان تین خصلتوں کا غلبہ ہو وہ منافق ہوگا نہ وہ جس میں کبھی کبھی یہ خصلتیں پائی جائیں وہ مراد نہیں ہے۔ (نعمۃ الباری، 1/232)

ایک دوسرے قسم نفاق کی نفاق عملی بھی ہے نفاق عملی سے مراد یہ ہے کہ انسان دل سے مسلمان ہو لیکن اس کے بعض اعمال اور عادت منافقوں جیسی ہوں یہ اعتقادی نفاق (یعنی دل سے کافر ہو اور ظاہر میں مسلمان بننا) سے مختلف ہوتا ہے نفاق عملی بہت بڑی اخلاقی برائی ہے اور اسلام میں اس کی سخت مذمت کی گئی ہے نفاق عملی اس وقت ہوتا ہے جب کسی شخص میں ایسی عادات پیدا ہو جائیں جو منافقوں کی پہچان سمجھی جاتی ہیں جیسے جھوٹ بولنا وعدہ خلافی کرنا امانت میں خیانت کرنا جو پیچھے حدیث میں ہم نے بیان کی ہے ایسا شخص مسلمان رہتا ہے مگر اس کے یہ صفات و خصلتیں گناہگار بناتی ہیں۔

اسلام میں اس عمل کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ یہ معاشرے میں بے اعتمادی اور فساد پیدا کرتا ہے نفاق عملی کے ہماری زندگی میں بہت زیادہ نقصانات پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ اس سے لوگوں کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے معاشرے میں بدگمانی اور فساد پیدا ہو جاتا ہے آخرت میں سخت مواخذے کا سبب بن سکتا ہے۔

نفاق عملی کی مثال یوں ہے کہ جیسا کہ کوئی شخص نماز پڑھتا ہو اور جب وہ لوگوں کے سامنے نماز ادا کرتا ہے تو بہت ہی اچھے انداز اور اس کے حقوق و واجبات کو اچھے طریقے سے ادا کرتا ہے کیونکہ لوگ اس کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کو دیکھنے کے لیے اپنی نماز کو خوب اچھے طریقے سے ادا کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے جبکہ وہ تنہا ہوتا ہے یعنی تنہائی میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کی یعنی نماز کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اس کے حقوق واجبات شرائط کا کچھ بھی خیال نہیں کرتا اور یہ ریاکاری کے طور پر عمل کرتا ہے اور یہ سب کچھ دکھاوا ہوتا ہے۔

قرآن پاک میں بھی اس کی مذمت کی گئی ہے، ایک جگہ ارشاد ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔

یعنی جو شخص نماز صرف دکھاوے کے لیے پڑھے اور دل میں اخلاص نہ ہو تو یہ منافقانہ عمل شمار ہوتا ہے۔

نفاق سے بچنے کے لیے ایک حکایت ملاحظہ ہو چنانچہ امام محمد ابن سرین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص سے اس کا حال دریافت کیا تو وہ بڑی مایوسی سے بولا اس کا حال کیا ہوگا جس پر 500 درہم قرض ہو بال بچوں والا ہو مگر پلے کچھ نہ ہو آپ یہ سن کر گھر تشریف لائے اور ایک ہزار درہم لا کر اس کو پیش کرتے ہوئے فرمایا 5 سو درہم سے اپنا قرض ادا کر دو مزید 5 سو اپنے گھر والوں پر خرچ کر لو اس کے بعد آپ نے اپنے دل میں عہد کیا کہ آئندہ کسی کا حال دریافت نہیں کروں گا۔

امام غزالی فرماتے ہیں: امام ابن سیرین نے یہ عہد اس لیے کیا کہ اگر میں نے کسی کا حال پوچھا اور اس نے اپنی پریشانی بتائی پھر اگر میں نے اس کی مدد نہیں کی تو میں پوچھنے کے معاملے میں منافق ٹھہروں گا۔

نفاق کی وجہ سے انسان کا کردار کمزور ہو جاتا ہے ایک منافق شخص نہ تو اللہ کے سامنے سچا ہوتا ہے اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اس کے دل میں ہمیشہ خوف اور بےسکونی سی رہتی ہے کیونکہ وہ ہر وقت اپنی حقیقت کو لوگوں سے چھپاتا ہے اور اس کے برعکس وہ شخص جو سچا ہوتا ہے اور مخلص ہوتا ہے اپنی ہر نیت میں اپنے ہر قول و فعل میں وہ شخص عزت اور سکون حاصل کر لیتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں سچائی ایمانداری اخلاص کو اپنائیں اور نفاق جیسی بری عادت سے بچیں ہمیں اپنے قول و فعل میں مخلص سچا رہنا چاہیے اور اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کریں تاکہ ہمارا کردار مضبوط ہو اگر ہر فرد اپنے اندر اخلاص پیدا کرے گا تو وہ اس طرح کے وصف اور خصلت سے محفوظ رہے گا اور اس طرح انسان خود کو اس برے فعل و وسو سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور اس سے معاشرہ امن کا گہوارہ اور معاشرتی انتشار سے محفوظ رہ سکتا ہے۔