نفاق
یعنی (منافقت) کی تعریف: زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرنا اور
دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق
عملی کہلاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219)
نفاق (منافقت)
ایک خطرناک بیماری ہے اس مرض اور بیماری میں مبتلا رہتے ہوئے بھی آدمی اس مرض اور
بیماری کا احساس نہیں کر پاتا عام طور پر لوگ اس سے نا واقف ہوتے ہیں نفاق و
منافقت ایک ایسی بیماری ہیں جو انسان کو پستی کی اخری حد تک پہنچا دیتی ہے نفاق
انسان کی حق بینی اور حق پرستی کی صلاحیت کو فنا کر دیتا ہے۔ عربی زبان میں نفاق
کو نفق کہتے ہیں اور اس سرنگ کو جس کے دو دہانے ہوں اور نافقاء جنگلی چوہے کے بل
کو کہتے ہیں جس میں ایک طرف داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف نکل جاتا ہے اس سے نفاق
ماخذ ہے جس کے معنی ہیں دین میں ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل
جانا۔ (امثال الحدیث، ص 219)
نفاق سے انسان
کا نور بصیرت سلب ہو جاتا ہے یہ وجہ ہے کہ صحابہ کرم کثرت سے نفاق سے پناہ مانگتے
تھے۔ حضرت ابن ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے 30 صحابہ کرام علیہم
الرضوان سے ملاقات کی ان میں سے ہر ایک کو اپنے متعلق نفاق سے خوفزدہ پایا۔ حضرت
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نفاق کی طرف سے صرف منافق ہی مطمئن ہو سکتا
ہے اور اسے چوکنا رہنا مومن کی صفت ہے۔
قرآن پاک میں
ارشاد باری ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ
مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
صدر الافاضل
محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ منافق کا عذاب کافر کے
عذاب سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے
بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مغالطہ دینا اور سلام کے ساتھ استہزاء
کرنا آسکا شیوہ رہا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220)
فرمان مصطفی ﷺ:
چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس
شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب امانت دی جائے
تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب
جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
نفاق
اعتقادی و عملی کے بعض اسباب: بندہ جب صحیح طریقے سے عقائد فرائض و
واجبات کا علم حاصل نہیں کرتا تو شیطان دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتا ہے جس
سے بندہ نفاق جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
Dawateislami