اسلام ایک
ایسا دین ہے جو سچائی اخلاص اور دیانت داری کی تعلیم دیتا ہے اس کے برعکس نفاق ایک
ایسی بری صفت اور عادت ہے جو انسان کے کردار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے جیسے
ایک کھوکلا بانس ہوتا ہے۔ اس کے اعمال کام نہیں آتے اور اس کے تمام کے تمام اعمال
جو اس نے کیے ہوتے ہیں وہ سب ضائع ہو جاتے ہیں نفاق کا مطلب ہے کہ انسان بظاہر کچھ
اور ہو اور اندر سے کچھ اور ہو یعنی اس کا باطن ظاہر کے برعکس ہو یعنی زبان سے
ایمان اور اچھائی کا دعوی کرنا مگر دل سے ایمان اور اچھائی کا دعوی نہ کرتا ہو اور
اس کے ظاہر کے خلاف خیالات ہوں۔
اسلام میں
نفاق کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اسے ایک بری اخلاقی برائی اقرار دیا گیا ہے اس
کے متعلق بہت سی وعیدیں قرآن پاک میں بھی نازل ہوئی ہیں، احادیث مبارکہ میں بھی
حضور اکرم ﷺ کی زبانی منقول ہے، قرآن پاک میں ایک جگہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء:
142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں
اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا
دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ
النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء:
145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز
ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
صدر الافاضل
حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت مبارکہ
کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار
اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو
مغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ استہزا کرنا اس کا شیوہ رہا ہے نفاق کے زبان سے
دعوی اسلام کرنا دل میں اسلام سے انکار یہ بھی خالص کفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لیے
جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے
اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفر باطنی پر قرآن ناطق ہوا نیز نبی کریم ﷺ نے
وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرمایا کہ یہ منافق ہے اب اس زمانہ میں کسی خاص
شخص کو نیت قطع کے ساتھ منافق نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے سامنے جو دعوی اسلام
کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو منافی ایمان ہے نہ
صادر ہو، البتہ نفاق کے ایک شاخ زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ
کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریات دین کا انکار
بھی ہے۔ (بہار شریعت، 1/182، حصہ: 1)
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں: وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب
وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں
خیانت کرتا ہے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
علامہ نووی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ یہ تین خصلت نفاق کی ہیں اور
ان تین خصلتوں والا منافق کے مشابہ ہے اور ان کے اخلاق سے متخلق ہے کیونکہ نفاق کا
معنی ہے باطن کے خلاف ظاہر کرنا اور جو شخص کسی سے جھوٹ بولتا ہے یا اس سے وعدہ کی
خلاف کرتا ہے یا اس کی امانت میں خیانت کرتا ہے وہ اس سے نفاق کرتا ہے کیونکہ وہ
اپنے باطن کے خلاف ظاہر کرتا ہے پس وہ صرف اس شخص سے نفاق کر رہا ہے یہ مطلب نہیں
ہے کہ وہ اسلام میں منافق ہے اور اس کے ساتھ نفاق کر رہا ہے جس شخص میں ان تین
خصلتوں کا غلبہ ہو وہ منافق ہوگا نہ وہ جس میں کبھی کبھی یہ خصلتیں پائی جائیں وہ
مراد نہیں ہے۔ (نعمۃ الباری، 1/232)
ایک دوسرے قسم
نفاق کی نفاق عملی بھی ہے نفاق عملی سے مراد یہ ہے کہ انسان دل سے مسلمان ہو لیکن
اس کے بعض اعمال اور عادت منافقوں جیسی ہوں یہ اعتقادی نفاق (یعنی دل سے کافر ہو
اور ظاہر میں مسلمان بننا) سے مختلف ہوتا ہے نفاق عملی بہت بڑی اخلاقی برائی ہے
اور اسلام میں اس کی سخت مذمت کی گئی ہے نفاق عملی اس وقت ہوتا ہے جب کسی شخص میں
ایسی عادات پیدا ہو جائیں جو منافقوں کی پہچان سمجھی جاتی ہیں جیسے جھوٹ بولنا
وعدہ خلافی کرنا امانت میں خیانت کرنا جو پیچھے حدیث میں ہم نے بیان کی ہے ایسا
شخص مسلمان رہتا ہے مگر اس کے یہ صفات و خصلتیں گناہگار بناتی ہیں۔
اسلام میں اس
عمل کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ یہ معاشرے میں بے اعتمادی اور فساد
پیدا کرتا ہے نفاق عملی کے ہماری زندگی میں بہت زیادہ نقصانات پیدا ہوتے ہیں جیسا
کہ اس سے لوگوں کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے معاشرے میں بدگمانی اور فساد پیدا
ہو جاتا ہے آخرت میں سخت مواخذے کا سبب بن سکتا ہے۔
نفاق عملی کی
مثال یوں ہے کہ جیسا کہ کوئی شخص نماز پڑھتا ہو اور جب وہ لوگوں کے سامنے نماز ادا
کرتا ہے تو بہت ہی اچھے انداز اور اس کے حقوق و واجبات کو اچھے طریقے سے ادا کرتا
ہے کیونکہ لوگ اس کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کو دیکھنے کے لیے اپنی نماز
کو خوب اچھے طریقے سے ادا کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے جبکہ وہ تنہا ہوتا ہے
یعنی تنہائی میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کی یعنی نماز کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اس
کے حقوق واجبات شرائط کا کچھ بھی خیال نہیں کرتا اور یہ ریاکاری کے طور پر عمل
کرتا ہے اور یہ سب کچھ دکھاوا ہوتا ہے۔
قرآن پاک میں
بھی اس کی مذمت کی گئی ہے، ایک جگہ ارشاد ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان:
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے
مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ
کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
یعنی جو شخص
نماز صرف دکھاوے کے لیے پڑھے اور دل میں اخلاص نہ ہو تو یہ منافقانہ عمل شمار ہوتا
ہے۔
نفاق سے بچنے
کے لیے ایک حکایت ملاحظہ ہو چنانچہ امام محمد ابن سرین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص
سے اس کا حال دریافت کیا تو وہ بڑی مایوسی سے بولا اس کا حال کیا ہوگا جس پر 500
درہم قرض ہو بال بچوں والا ہو مگر پلے کچھ نہ ہو آپ یہ سن کر گھر تشریف لائے اور
ایک ہزار درہم لا کر اس کو پیش کرتے ہوئے فرمایا 5 سو درہم سے اپنا قرض ادا کر دو
مزید 5 سو اپنے گھر والوں پر خرچ کر لو اس کے بعد آپ نے اپنے دل میں عہد کیا کہ آئندہ
کسی کا حال دریافت نہیں کروں گا۔
امام غزالی
فرماتے ہیں: امام ابن سیرین نے یہ عہد اس لیے کیا کہ اگر میں نے کسی کا حال پوچھا
اور اس نے اپنی پریشانی بتائی پھر اگر میں نے اس کی مدد نہیں کی تو میں پوچھنے کے
معاملے میں منافق ٹھہروں گا۔
نفاق کی وجہ
سے انسان کا کردار کمزور ہو جاتا ہے ایک منافق شخص نہ تو اللہ کے سامنے سچا ہوتا
ہے اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اس کے دل میں ہمیشہ خوف اور بےسکونی سی
رہتی ہے کیونکہ وہ ہر وقت اپنی حقیقت کو لوگوں سے چھپاتا ہے اور اس کے برعکس وہ
شخص جو سچا ہوتا ہے اور مخلص ہوتا ہے اپنی ہر نیت میں اپنے ہر قول و فعل میں وہ
شخص عزت اور سکون حاصل کر لیتا ہے۔
Dawateislami