قرآن مجید فرقان حمید میں فرمان باری ہے کہ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

نفاق ہلاکت ڈالنے والے امور، جہنم میں لے جانے و الے اعمال میں سے ایک ہے جس کی یہاں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔چنانچہ نفاق کے لیے منافقت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس کی دو صورتیں ہیں: پہلی نفاق اعتقادی یہ کہ زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا،یہ کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے اور ایسے کو کل بروزِ قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا اور دوسری صورت نفاق عملی یہ کہ زبان و دل کا یکساں نہ ہونا، یہ گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220) اس کی قرآن وحدیث میں شدید مذمت وارد ہوئی۔

منافقت نیک اعمال کی قبول نہ ہونے اور اکارت و بربادی کا سبب ہے چنانچہ قرآن پاک میں منافق کے بارے میں فرمایا گیا کہ قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْؕ-اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(۵۳) (پ 10، التوبۃ،53) ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ کہ تم خوشدلی سے خرچ کرو یا ناگواری سے (بہرصورت) تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ بیشک تم نافرمان قوم ہو۔

منافق دو چہرے والا اور بدترین شخص ہے،چنانچہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں میں سے بدترین شخص دو چہروں والا ہوتا ہے، جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور ان لوگوں کے پاس دوسرے چہرے سے آتا ہے۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)

منافق زبان کا عالم دل کا جاہل ہےکہ اللہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنے بعد نہ کسی مومن سے خوف ہے نہ کافرسے کیونکہ مومن کو اس کا ایمان برائی سے روکے رکھے گااور کافر کو اللہ اس کے کفر کے سبب ذلیل فرمائے گا۔ البتہ مجھے تم پر منافق کا ڈر ہے جو زبان کا عالم ہو، دل کا جاہل ہو، زبان سے وہ کہے جسے تم اچھا سمجھتے ہو اور کام وہ کرےجسے تم برا سمجھتے ہو۔ (مسند الربیع، 1/362- حضرت ابو عبیدہ بن جراح، ص 55)

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے، جب بھی وہ کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو سوچتا ہے اگر اس کے حق میں ہو تو بولتا ہے اور اگر مخالف ہو تو رُک جاتا ہے جبکہ منافق کا دل اس کی زبان کے کنارے پر ہوتا ہے، یعنی دل میں جو خیال پیدا ہوتا ہے بول دیتا ہے، لمحہ بھر توقف نہیں کرتا بلکہ اس بات سے واپس بھی نہیں پلٹتا۔ (قوت القلوب مترجم، 1/468)

منافق دو بکروں کے درمیان گھومنے والی بکری کی مثل ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے (چکر لگائے)کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی اس بکرے کے پاس۔ (مسلم، ص 1498، حدیث:2784)

یہ اتنی مذموم خصلت ہے کہ حضور ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا گیا کہ الٰہی میرے دل کو نفاق سے پاک رکھ۔ (مراۃ المناجیح، 4/117)

نیز صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔( باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220 (

اس مذموم صفت سے مومن کا بچنا چاہیے کہ اور اس کے لیے نفاق کی نشانیوں،شاخوں اور علامات کو جاننا ضروری ہے۔

فحش گوئی زیادہ بولنا نفاق کی دو شاخیں ہیں۔ (یعنی ہر بات بے دھڑک منہ سے نکال دینا منافق کی پہچان ہے،زیادہ بولنے والا گناہ بھی زیادہ کرتا ہے یعنی اسی فی صدی گناہ زبان سے ہوتے ہیں۔ اسی طرح منافق کی چار نشانیاں بیان کی گئیں کہ جس میں چار عیوب ہوں وہ نرا منافق ہے اورجس میں ایک عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ اُسے چھوڑ نہ دے: جب امانت دی جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)

منافق کی پہچان: منافق کی پہچان یہ بھی بیان کی گئی کہ دوخصلتیں اچھے اخلاق اور دینی فقہ منافق میں جمع نہیں ہوتیں۔ منافق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کرتا۔ منافقوں پرفجراورعشاءسے زیادہ کوئی نمازبھاری نہیں۔ نماز میں سستی کرنا منافقوں کی علامت ہے۔ نماز نہ پڑھنا یا صرف لوگوں کے سامنے پڑھنا جبکہ تنہائی میں نہ پڑھنا یا لوگوں کے سامنے خشوع و خضوع سے اور تنہائی میں جلدی جلدی پڑھنا یا نماز میں ادھر ادھر خیال لیجانا، دلجمعی کیلئے کوشش نہ کرنا وغیرہ سب سستی کی علامتیں ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ان باتوں سے بچیں اور کوئی علامت یا پہچان ہم میں جمع نہ ہو، اللہ پاک اپنی امان میں رکھے۔ آمین