انسان میں جس طرح کبھی جسمانی امراض پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح بعض باطنی روحانی/ قلبی ( دل کے امراض )بھی ہوتے ہیں۔ جسمانی امراض انسان کے لیے دنیاوی زندگی میں نقصان کا باعث بنتے ہیں جبکہ باطنی امراض زیادہ مہلک ہیں کیونکہ یہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے کا سبب ہیں۔

انہی باطنی امراض میں سے ایک مرض نفاق بھی ہے۔

نفاق یعنی دل کا معاملہ ظاہر کے خلاف ہو (ظاہر کچھ اور کرنا اور دل میں معاملہ اسکے برعکس ہو)۔

نفاق کی دو قسمیں ہیں: نفاق اعتقادی اور نفاق عملی۔

نفاق اعتقادی نفاق عملی سے زیادہ خطرناک ہے۔ نفاق اعتقادی یعنی زبان سے اسلام کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا۔یہ خالص کفر ہے اور ایسوں کے لیے جہنم کا سب سے نچلا طبقہ ہے۔

اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔

جبکہ نفاق کی دوسری قسم جس میں کوئی شخص دعویٰ اسلام میں تو سچا ہو لیکن منافقین کی علامات، عادات اس میں پائی جاتی ہوں ( اخلاق اچھے نہ ہوں ) جیسے جھوٹ ہولنا،جھگڑاکرنا، وعدہ خلافی وغیرہ۔

قرآن و حدیث میں نفاق کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے اور دونوں طرح کے نفاق سے بچنے کا فرمایا گیا ہے

یہاں تک کہ قرآن کریم میں ایک پوری سورت ہے جس کا نام سورہ منافقون ہے۔اسکے آغاز میں بھی منافقین کا عمل بیان ہوا۔

احادیث مبارکہ میں بھی نفاق کی مذمت بیان ہوئے اور نفاق کی علامات کو خود سے دور کرنے کا فرمایا گیا۔ نفاق کی کئی علامتیں ہیں اس لیے احادیث مبارکہ میں مختلف تعداد کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔

ایک روایت میں کچھ یوں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: (1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔ (بخاری،1/24، حدیث: 33)

نفاق کی مذمت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے آقا ﷺ نفاق سے بچنے کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے۔ روایت ہے حضرت ام معبد سے وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: الٰہی میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو دکھلاوے سے اور میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو بددیانتی سے پاک رکھ کیونکہ تو جانتا ہے خیانت والی آنکھ کو اور اس کو جسے سینے چھپاتے ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 4/117)

نفاق آج بھی پایا جاتا ہے لیکن ہم کسی کو منافق نہیں کہہ سکتے پیارے آقا ﷺ کو اللہ پاک نے علم عطا فرمایا تھا، لیکن اب اگر کوئی اعتقادی منافق ہو تو وہ کافر ہی ہے جبکہ عملی نفاق ہو تو اس کو خود سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنا جائزہ لیں اور نفاق کی اگر کوئی نشانی ہم میں پائی جاتی ہو تو اس کو خود سے دور کریں جھوٹ حسد کینہ خیانت وغیرہ باطنی امراض سے بچنے کی کوشش کریں اور اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں اخلاص ہوگا تو نفاق بھی نہیں رہےگا اور ذکر و درود کی عادت اپنانے اور جسمانی روحانی امراض سے بچنے کے لیے اللہ پاک سے دعا کو اپنا معمول بنائیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ہمارے ظاہر وباطن کو پاک فرمائے اور اخلاص عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ