حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت طارق محمود،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ پاک کا
امت مسلمہ پر یہ احسان ہے کہ اس نے اسے ایسی عظیم ہستیاں عطا فرمائیں۔ جنہیں تاریخ
میں بلند مقام حاصل ہے جن کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں۔ ان عظیم ہستیوں میں
منفرد خصوصیات کی حامل شخصیات نیر تاباں
عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ ہیں۔
آپ کی زندگی
کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ
عام انسانیت کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ آپ عشرہ
مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کا شمار حضور اکرم ﷺ
کے صحابہ میں بھی ہوتا ہے۔امت مسلمہ میں کامل الحیا والا ایمان کے الفاظ آپ ہی کی
شان میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا: میں اس شخص سے حیا کیسے نہ کروں جس سے
فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ (مستدرک، 3/11، حدیث:4546)
قبول اسلام کے
کچھ ہی عرصہ بعد آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح حضور اکرم ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی
اللہ عنہا سے ہو گیا تھا۔بعد ازاں آپ کوہجرت حبشہ کا شرف بھی ملا۔جب حضور ﷺ نے
مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ بھی مدینہ چلے آئے۔جہاں آپ نے مسلمانوں کے لیے گرانقدر
کارنامے انجام دیے۔جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو آپ ﷺ نے اپنی
دوسری صاحبزادی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ
عنہ سے کر دیا۔ جس کے بعد آپ کا لقب ذوالنورین (یعنی دو نوروں والا)ہو گیا۔
حضرت علی رضی
اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایسی عظیم الشان ہستی ہیں کہ جنہیں آسمانوں
میں ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ (اصابۃ، 4/457)
نبی
کے نور دو لے کر وہ ذوالنّورين کہلائے
انہیں
حاصل ہوئی یوں قربت محبوب رحمانی
عموماً دیکھا
جاتا ہے ایک غلام تو اپنے آقا کی عنایتوں اور اس کے لطف و کرم کے سبب اس کی تعریف
کرتا رہتا ہے۔لیکن کمال تو یہ جب آقا بھی اپنے غلام کی خوبیوں پر تعریف کرے،حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شمار بھی ان خوش نصیب صحابہ کرام میں ہوتا ہے جن کے حق
میں حضور اکرم ﷺ کے لبہائے مبارک نے جنبش فرمائی کبھی آپ رضی اللہ عنہ کو دربار
رسالت ﷺ جنت کا مژده عطا ہوا،تو کبھی آپ کو میٹھے مصطفی، شہنشاہ دوسرا ﷺ نے اپنا
رفیق قرار دیا۔
حضور کی حضرت
عثمان غنی سے محبت پر مبنی پانچ احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ عثمان مجھ
سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/102، حديث: 7878)
2۔ جنت میں ہر
نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث:
3898)
3۔ بروز قیامت
عثمان کی شفاعت سے 70 ہزار ایسے آدمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں گےجن پر جہنم واجب
ہو چکی ہوگی۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/122، حدیث: 7916)
4۔ میری امت
سب سے زیادہ پیکر شرم و حیا اور معزز و مکرم عثمان بن عفان ہیں۔ (فردوس الاخبار، 1/250،
حدیث: 1790)
5۔ میری امت میں
سب سے زیادہ باحیا انسان عثمان بن عفان ہیں۔ (مستدرک، 4/689، حديث:6335)
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از پنت طارق محمود، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
مفسر قرآن
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی محبت کے لیے اس
کے رسول سے محبت ضروری ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے کے لیے حضور کے تمام
صحابہ، حضور کے اہل بیت اور اولاد پاک اور ازواج مطہرات سے محبت لازم ہے یہ تمام
محبت ایمان میں داخل بلکہ عین ایمان یعنی (ایمان کی بنیاد ہیں)۔ (تفسیر نعیمی، 2/137)
تمام امت میں
سے حضرت عثمان کو ہی یہ شرف ملا کہ نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیاں ان کے نکاح میں
آئیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر میری 40 بیٹیاں بھی
ہوتیں تو میں ان سب کو یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں دے دیتا یہاں تک کہ ان میں
سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔
نبی کریم ﷺ نے
اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! اپنے شوہر
عثمان کی خدمت کرنا کیونکہ وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق و کردار میں مجھ سے زیادہ
مشابہ ہے۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)
نبی پاک ﷺ نے
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا کے متعلق ان کی شان مبارکہ میں ایک فرمان ارشاد فرمایا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ (مستدرک،
3/11، حدیث: 4556)
اس مضمون کا
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ صرف صحابی رسول، داماد رسول ﷺ تھے بلکہ
آپ ﷺ کے بہت ہی زیادہ محبوب صحابیوں میں سے تھے۔ جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت
سنا دی گئی تھی۔ نبی پاک ﷺ ان کی دین کی خدمت اور ان کی حیا کی وجہ سے ان سے بہت
زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے۔ یہ محبت بھی خدائی تھی اور اخلاص پر مبنی تھی۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں بھی ان کی محبت کا کچھ حصہ نصیب فرمائے اور ان کی سیرت مبارکہ پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کا ایک مرتبہ ذکر خیر ہونے لگا تو نواسہ رسول حضرت امام حسن
مجتبی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابھی امیر المؤمنین تشریف لائیں گے۔ پھر حضرت علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان خوش
نصیبوں میں سے ہیں جن کی شان میں قرآن کریم میں یہ فرمان نازل ہوا: لَیْسَ عَلَى
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا
مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ
اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳) (پ 7،
المائدة: 93) ترجمہ کنز الایمان: جو ایمان لائے
اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور
ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور
اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، 17/91، حدیث:
32723)
یوں تو آخری نبی ﷺ کی مبارک صحبت پانے والا اور پھر حالت ایمان میں دنیا سے
جانے والا ہر مسلمان اہل ایمان کے سر کا تاج ہیں لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی
شان نرالی ہے۔ عثمان غنی کے علاوہ کسی صحابی کے نکاح میں حضور انور ﷺکی دو
شہزادیاں نہیں آئیں اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے
ہیں:
نور
کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
شفقت
مصطفی مرحبا: ایک
روایت میں ہے سرکار ﷺ نے دعا کرتے ہوئے عرض
کیا: مولی ٰ! میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا
ہے۔ تو کل قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کہ وہ شرم و حیا کی وجہ سے تیرے سامنے
کھڑے ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/432، تحت الحدیث: 6070 )
ہمارے آقا ﷺ
عثمان غنی سے بے حدد محبت فرماتے تھے اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ
حضرت عبد الله فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغی گروہ نے عثمان غنی کے مکان کا محاصرہ
کیا تھا ان کے گھر پانی کا ایک قطرہ نہ تھا اور عثمان غنی پیاس کی شدت سے تڑپ رہے
تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو آپ اس دن روزہ دار تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا: اے عبد الله بن سلام میں نے آج
رات تاجدار رسالت ﷺ کو اس روشن دان میں دیکھا آپ ﷺ نے بے حد مشفقانہ لہجے میں
فرمایا: اے عثمان ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں بے قرار کر دیا ؟ میں نے عرض
کی: جی ہاں ! تو فورا آپﷺ نے ایک ڈول میری
طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا میں اس سے سیراب ہوا اور اس وقت بھی پانی کی
ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں میں محسوس کر رہا ہوں۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو ان لوگوں کے
مقابلے میں تمہاری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو،
میں نے عرض کی آپکے پاس آنا مجھے زیادہ عزیز ہے عبد الله بن سلام فرماتے ہیں کہ اسی
دن ان باغیوں نے آپکو شہید کر دیا۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 3/74، رقم: 109)
کئی
دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی
شہادت
حضرت عثمان کی بے شک ہے لاثانی
محبت
سرکار ﷺ: رسول
ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ (اپنے شوہر ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا
سر دھو رہی تھیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا
سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے بہت مشابہ
(یعنی ملتی جلتی ) ہے۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)
رک
جائیں مرے کام حسن ہو نہیں سکتا فیضان
مدد گار ہے عثمان غنی کا
اللہ پاک کی
ان پر رحمت ہو اور انکے صدقے ہماری بے حساب بخشش ہو۔
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت مشتاق احمد، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
اس تحریر میں
ان شاء اللہ آقا کریم ﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کے متعلق احادیث کریمہ
اور کچھ واقعات بیان کیے جائیں گے اور احادیث کریمہ کو ان شاء اللہ حوالہ جات کے
ساتھ بیان کیا جائے گا۔۔
احادیث
مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان رضی اللہ
عنہ ہے، (ترمذی، 5/624، حدیث: 3698)
رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بے شک عثمان میرے صحابہ میں سے خلق کے اعتبار سے سب سے زیادہ میرے
مشابہ ہے۔ (المعجم الکبیر، 1/76، حدیث: 99)
اللہ پاک کا
اس امت پر یہ احسان ہے کہ اس نے اسے ایسی عظیم الشان ہستیاں عطا فرمائیں جنہیں
تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے جن کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں انہی عظیم
ہستیوں میں سے منفرد خصوصیات کی حامل شخصیت عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ
ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ عالم
انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں آپ کا شمار
حضور اکرم ﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے امت مسلمہ میں کامل الحیاء و ایمان کے
الفاظ آپ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کے
بارے میں ارشاد فرمایا میں اس شخص سے کیسے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے
ہیں۔ (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ اسلام کے سابقین اولین میں سے ہیں اور عظیم قدرو منزلت کے مالک ہیں
انہوں نے اللہ کی راہ میں سخت تکلیفیں اٹھائیں اسکے باوجود وہ نبی کریم ﷺ کی محبت
میں آگے بڑھتے گئے اور نبی کریم ﷺ کی محبت ان سے بڑھتی گئی اور جب ابولہب کے دو
بیٹوں نے (جو کہ نبی کریم ﷺ کے داماد تھے ) اپنے والدین کے حکم سے آپ کی دو
صاحبزادیوں رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دے دی تا کہ اسطرح نبی کریم ﷺ
کو دکھ پہنچے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا
رشتہ طلب کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا
حضرت رقیہ ان کی حسن معاشرت سے بہت خوش ہوئیں۔
حضرت عثمان کو
مشرکین مکہ کی طرف سے بہت تکلیفیں اٹھانی پڑیں آخر کار اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ کی
طرف دو بار ہجرت فرمائی پھر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ اور آقا کریم ﷺ میں محبت اتنی بڑھ گئی کہ آپ ﷺ نے اپنی دوسری
صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو آپ کے نکاح میں دے دیا اور یہ سن 3ھ کا واقعہ ہے۔
حضور کی حضرت
عثمان سے اگر انتہائی محبت نہ ہوتی اور حضرت عثمان کی آپ سے غایت محبت نہ ہوتی تو
آپ ان سے دوسری صاحبزادی کا نکاح نہ فرماتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو
مستقبل میں حضرت عثمان پر بڑا اعتماد تھا اور حضرت عثمان کی یہ عظیم منقبت ہے کہ
سابقہ امتوں میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے نبی کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہو
سوائے حضرت عثمان بن عفان کے۔
حضرت علی سے
یہاں تک روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور کا یہ فرمان سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان سے فرما
رہے تھے کہ اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتی تو یکے بعد دیگرے میں ان سب کا نکاح اے
عثمان! تم سے کر دیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 121
حضور ﷺ اور حضرت عثمان غنی ( رضی اللہ عنہ) کے درمیان محبت اور احترام کے بے شمار واقعات
ملتے ہے۔ ایک قابل ذکر واقعہ جنگ تبوک کے موقع پر پیش آیا۔ جب حضور ﷺ نے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت عثمان نے کھڑے ہو کر
عرض کی: یا رسول اللہ ! ساز و سامان کے ساتھ ایک سو اونٹ میں دیتا ہوں۔
حضور ﷺ نے پھر
ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی نے مزید دو سو اونٹ دینے کی پیشکش کی۔ آخر کار انہوں
نے تین سو اونٹ اور ایک ہزار دینار بھی حضور ﷺ کے سامنے پیش کر دیئے۔
حضور ﷺ
نے حضرت عثمان کی یہ سخاوت دیکھی تو آپ کے پیش کردہ دیناروں میں اپنا دست مبارک ڈال کر فرمایا، عثمان کے اس نیک عمل کے بعداب انہیں کوئی بات ضررنہ پہنچائے گی۔
یہ واقعہ
کتاب مشکوۃ شریف کے صفحہ 553 پر بھی ذکر کیا گیا ہے مزید برآں، طبرانی کی روایت کے
مطابق، حضور ﷺ نے حضرت عثمان کے بارے میں فرمایا ان کا عزت بجالاؤ، بے شک وہ میرے صحابہ میں سے
خلق کے اعتبار سے سب سے زیادہ میرے مشابہ ہیں۔
بخاری شریف
میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل مختلف احادیث میں بیان کیے گے ہیں یہاں کچھ احادیث کا ذکر کیا۔
جیش
عسرہ کی تیاری: حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر قربانی دی۔ آپ نے 900 اونٹ
100گھوڑے اور 10000 دینار کا سامان پیش کیا۔ رسول ﷺ نے فرمایا۔ آج کے بعد عثمان جو بھی کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے
گا۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:3720)
اللہ پاک نے
اپنے پیارے حبیب ﷺ کی صحبت فیض اثر کیلئے دنیا کے بہترین افراد کا انتخاب فرمایا۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان سب کے سب اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کو پیارے ہیں۔ البتہ
بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی۔انہی صاحبان فضیلت عظمی میں سے جامع قرآن حضرت عثمان
بن عفان رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہیں۔ حیا
کا وصف آپ رضی اللہ عنہ پر غالب تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا دریا بھی ہر وقت
جوش پر رہتا تھا۔نبی کریم ﷺ کے محب بھی تھے اور محبوب بھی۔آئیے حضور اکرم ﷺ کی
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت فرمانے کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کرتی ہیں:
داماد
مصطفےٰ: انبیائے
کرام علیہم السلام کی دامادی کا شرف پانے والے خوش نصیب افراد یقینا عزت و عظمت
والے ہیں۔مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک نہیں بلکہ سید المرسلین
ﷺ کی دو شہزادیاں یکے بعد دیگرے آئیں۔ (خلفائے راشدین، ص 181) بیٹی کی محبت والد
کو اپنی بساط بھر بہترین داماد تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا حضرت
رقیہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد اپنی دوسری شہزادی حضرت
ام کلثوم رضی
اللہ عنہا کو بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دینا نبی کریم ﷺ کی آپ رضی
اللہ عنہ سے محبت اور شہزادیوں کے معاملے میں اعتماد کے معاملے میں واضح ثبوت ہے۔
نور
کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذو النّورین جوڑا نور کا
یہ
عثمان کا ہاتھ ہے:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکے
والوں کی نظر میں بھی معزز ہونے کے سبب 6 ھ میں مسلمانوں کا قاصد بنا کر قریش کی
طرف بھیجا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی میں صھابہ کرام علیہم الرضوان سے بیعت رضوان لی گئی۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے
اپنا ایک دست مبارک دوسرے پر رکھا اور فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ (تاریخ الخلفاء،
ص 208)
میرے
بغیر طواف نہ کریں گے:چونکہ حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ مکہ شریف گئے تھے تو ان پر رشک کرتے ہوئے صحابہ کرام علیہم
الرضوان نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عثمان تو خوب عمرہ کریں گے حضور نے
فرمایا کہ میرا عثمان میرے بغیر نہ عمرہ کرے گا نہ طواف۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا
کفار نے طواف کی پیش کش کی مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر انکار کر
دیا میں حضور انور کے بغیر کعبہ کو دیکھوں گا بھی نہیں۔
کیا دو طرفہ
محبت تھی کہ محب نے محبوب کی غیر موجودگی میں طواف سے انکار کردیا ادھر محبوب کو
بھی عاشق پر کیسا مان تھا کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے۔
اللہ
سے کیا پیار ہے عثمان غنی کا محبوب خدا یار ہے
عثمان غنی کا
بعدِ
وصال ظاہری بھی کرم: اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ
عنہ پر بے حد و بے انتہا مہربان تھے۔نبی کریم ﷺ کے وصال ظاہری شریف کے بعد خلافت
عثمانی میں باغیوں کے محاصرے کے دوران نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو رات میں جلوہ دکھایااور نہایت شفقت کے ساتھ فرمایا
ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں پیاس سے بے قرار کر دیا ہے؟ عرض کی جی ہاں تو
فورا پانی سے بھرا ہوا ڈول عطا فرمایا پھر فرمایا چاہو تو ان کے مقابلے میں میں
تمہاری مدد کروں اور چاہو تو تم ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو عرض کی: یا رسول
اللہ! آپ کے دربار پر انوار میں حاضر ہو کر روزہ افطار کرنا مجھے زیادہ عزیز ہے۔
اسی دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔ (کتاب المنامات، 3/76، رقم: 109)
ظاہری حیات
شریف میں تو محبت کا اظہار فرماتے ہی تھے بعد وصال شریف بھی اپنے عاشق کو شفقتوں
سے نوازا۔
جنت
میں رفیق:
نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ علیہم الرضوان جنتی ہیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ
عنہ کے بارے میں حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: عثمان جنتی ہیں ان کا رفیق میں خود
ہوں۔ (ریاض النضرہ، 1/35)
مصطفی کریم ﷺ کا
جنت میں آپ رضی اللہ عنہ کو بطور خاص اپنا رفیق فرمانا کمال محبت پر دلالت کرتا
ہے۔
اے کاش عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کے صدقے ہم گنہگاروں پر
بھی آقا کریم ﷺ کی نظر کرم ہو جائے۔
یہی
آرزو جو ہو سرخرو ملے دوجہاں کی آبرو
میں
کہوں غلام ہوں آپکا وہ کہیں کہ ہم کو قبول ہے
نبی کریم ﷺ کا
ارشاد ہے:جس نے میرے صحابہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی،جس نے میرے صحابہ سے
بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
مفسّر قرآن،
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی محبت کے لئے اس
کے رسول ﷺ سے محبت ضروری ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کے لئے حضور کے تمام صحابہ سے، حضور کے
اہل بیت،اولاد پاک اور ازواج مطہرات سے محبت لازم و ضروری ہے،یہ تمام محبتیں ایمان
میں داخل بلکہ عین ایمان (یعنی ایمان کی بنیاد) ہیں۔ (تفسیر نعیمی، 2/137)
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ نبی پاک ﷺ کے صحابی ہیں اور مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہیں۔
حضور ﷺ حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت فرماتے جس کا اظہار کئی احادیث مبارکہ سے
بھی ثابت ہوتا ہے۔
1۔ رسول اکرم ﷺ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت
فرماتے تھے کہ آپ نے ایک ایک کر کے اپنی دو شہزادیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے
نکاح میں دیں۔
اعلیٰ حضرت
امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نور
کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذو النّورین جوڑا نور کا
2۔ایک حدیث
پاک میں فرمایا: اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں ان میں سے ایک کی وفات ہوتی تو میں دوسری عثمان کے نکاح
میں دیتا اس کا انتقال ہوتا تو میں تیسری عثمان کے نکاح میں دیتا یہاں تک کہ میں
اپنی سو کی سو شہزادیاں ایک ایک کر کے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔ (کنز العمال، جز:13،
7/21، حدیث: 36201)
3۔حضور اکرم ﷺ
نے فرمایا:عثمان کتنا اچھا انسان ہے! میرا داماد ہے،میری دو بیٹیوں کا شوہر ہے،
اللہ پاک نے اس میں میرا نور جمع فرما دیا۔ (روض الفائق، ص 313)
نبی
کے نور دو لے کر وہ ذو النّورین کہلائے
انہیں
حاصل ہوئی یوں قربتِ محبوب رحمانی
حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ
اپنی صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح کیا تو ان سے فرمایا کہ تمہارے شوہر عثمان غنی
تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمہارے باپ محمد ﷺ سے شکل و صورت میں
بہت مشابہ ہیں۔
حضور ﷺ اپنے
صحابہ سے بہت محبت فرماتے ہر ایک کے ساتھ محبت کا ایک الگ انداز ہوا کرتا تھا۔حضور
ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی ہیں آپ خلفائے راشدین
میں تیسرے خلیفہ ہیں۔آپ نے آغاز اسلام ہی
میں قبول اسلام کرلیا تھا۔ حضور ﷺ ان سے بہت محبت فرماتے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جنت
میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/104)
حضور نبی کریم
ﷺ نے اپنی دو شہزادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان غنی کے نکاح میں دی تھیں۔حضور ﷺ
کی دوسری شہزادی حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان غنی کی زوجہ محترمہ ہیں۔
اللہ پاک کے
آخری نبی ﷺ کی پیاری پیاری شہزادی حضرت رقیہ جب وفات پا گئیں تو حضرت عثمان غنی بہت
روئے، حضور اکرم ﷺ نے پوچھا: عثمان کیوں روتے ہو؟ عرض کیا: یارسول اللہ! میں حضور
کی دامادی سے محروم ہو گیا ہوں یہ سن کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ سے جبریل
امین نے عرض کیا ہے کہ اللہ پاک کا حکم ہے کہ میں اپنی دوسری صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح تم سے کروں بشرطیکہ وہی مہر
ہو جو رقیہ کا تھا اور تم اس سے وہ ہی سلوک کرو جو رقیہ سے کیا۔ چنانچہ حضرت ام
کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی سے کر دیا گیا۔ دنیا میں ایسا کوئی
نہیں جس کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں۔ یہ حضرت عثمان غنی کی خصوصیت تھی
اور اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین(یعنی دو نور والے) کا لقب ملا۔ (مرقاة المفاتیح، 10/445،
تحت الحدیث: 6080)
میرے آقا اعلی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
نور کی سرکار سے پایا دوشالا نور کا
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
حضرت
عثمان غنی پر کرم: پیاری اسلامی بہنو! نبی پاک ﷺ جامع القرآن حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ پر کس قدر مہربان تھے، اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے
چنانچہ
حضرت عبد اللہ
بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضرت عثمان کے مکان کا
محاصرہ کیا ہوا تھا، ان کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک نہیں جانے دی جا رہی تھی اور
حضرت عثمان غنی پیاس کی شدت سے تڑپتے رہتے تھے۔ میں ملاقات کےلیے حاضر ہوا تو آپ اس
دن روزہ دار تھے۔ مجھ کو دیکھ کر فرمایا: اےعبداللہ بن سلام! میں نے آج رات حضور کو
اس روشن دان میں دیکھا۔ آپ نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: اے عثمان!
ان لوگوں نے پانی بند کرکےتمہیں پیاس سے بے قرارکردیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ تو فوراً ہی آپ ﷺ نے
ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا، میں اس سے سیراب ہوا اور اب
اس وقت بھی اس پانی کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں اور دونوں کندھوں کے درمیان محسوس
کر رہا ہوں۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عثمان! اگر تمہاری خواہش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہاری امداد
کروں اور اگر چاہو تو ہمارے پاس آکر روزہ افطار کرو۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ!
آپ کے دربار پر انوار میں حاضر ہو کر روزہ افطار کرنامجھے زیادہ عزیزہے۔ حضرت
عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ میں اس کے بعد رخصت ہو کر چلا آیا اور اسی روز
باغیوں نے آپ کو شہید کردیا۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 3/74، رقم: 109)
حضرت علاّمہ
جلال الدّین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علّامہ ابن باطیش رحمۃ
اللہ علیہ اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ (سرکار ﷺ کے دیدار والا) یہ واقعہ خواب میں
نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں پیش آیا۔ (جامع کرامات الاولیاء، 1/151)
کئی دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی
Dawateislami