حضور ﷺ  اور حضرت عثمان غنی ( رضی اللہ عنہ) کے درمیان محبت اور احترام کے بے شمار واقعات ملتے ہے۔ ایک قابل ذکر واقعہ جنگ تبوک کے موقع پر پیش آیا۔ جب حضور ﷺ نے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت عثمان نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ ! ساز و سامان کے ساتھ ایک سو اونٹ میں دیتا ہوں۔

حضور ﷺ نے پھر ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی نے مزید دو سو اونٹ دینے کی پیشکش کی۔ آخر کار انہوں نے تین سو اونٹ اور ایک ہزار دینار بھی حضور ﷺ کے سامنے پیش کر دیئے۔

حضور ﷺ نے حضرت عثمان کی یہ سخاوت دیکھی تو آپ کے پیش کردہ دیناروں میں اپنا دست مبارک ڈال کر فرمایا، عثمان کے اس نیک عمل کے بعداب انہیں کوئی بات ضررنہ پہنچائے گی۔

یہ واقعہ کتاب مشکوۃ شریف کے صفحہ 553 پر بھی ذکر کیا گیا ہے مزید برآں، طبرانی کی روایت کے مطابق، حضور ﷺ نے حضرت عثمان کے بارے میں فرمایا ان کا عزت بجالاؤ، بے شک وہ میرے صحابہ میں سے خلق کے اعتبار سے سب سے زیادہ میرے مشابہ ہیں۔

بخاری شریف میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل مختلف احادیث میں بیان کیے گے ہیں یہاں کچھ احادیث کا ذکر کیا۔

جیش عسرہ کی تیاری: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر قربانی دی۔ آپ نے 900 اونٹ 100گھوڑے اور 10000 دینار کا سامان پیش کیا۔ رسول ﷺ نے فرمایا۔ آج کے بعد عثمان جو بھی کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:3720)