آقا جان ﷺ کو اپنے صحابہ کرام رضی الله عنہ سے بہت محبت تھی اور ان میں حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کا مقام بہت بلند تھا۔ آپﷺ حضرت عثمان رضی الله عنہ سے خاص محبت فرماتے تھے کیونکہ وہ بہت نیک، نرم دل، اور سخی انسان تھے۔حضرت عثمان نے دین اسلام کے لیے بڑی قربانیاں دیں اور آپﷺ کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے رہے۔ نبی کریمﷺ نے ان سے کئی بار محبت کا اظہار بھی فرمایا اور اپنی دو بیٹیاں ان کے نکاح میں دیں، اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والے کہا جاتا ہے۔

1۔ حضرت عثمان غنی سے حیا: حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں: ایک دن رسول الله ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ کے کپڑے مبارک ران سے کچھ ہٹے ہوئے تھے اتنے میں حضرت ابو بکر رضی الله عنہ اندر تشریف لائے، تو آپ اسی حالت میں لیٹے رہے اور ان سے باتیں کرتے رہے۔ پھر حضرت عمر تشریف لائے، آپ اسی طرح رہے اور ان سے بھی بات کرتے رہے۔ لیکن جب حضرت عثمان غنی تشریف لائے تو رسول الله اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے مبارک درست کر لئے۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا: یا رسول الله! جب ابو بکر اور عمر تشریف لائے تو آپ نے کچھ خیال نہ کیا، لیکن عثمان کے تشریف لانے پر آپ سنبھل کر بیٹھ گئے؟تو آپﷺ نے فرمایا:کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟ (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)

2۔ کوئی بھی عمل نقصان نہیں دے گا: رسول اللهﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب ارشاد فرمائی تو حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ نے ایک ہزار دینار لا کر آپﷺ کی گود میں رکھ دیئے۔تو رسول اللهﷺ نے دیناروں کو اپنے ہاتھ مبارک سے الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: آج کے بعد عثمان کوئی بھی عمل کریں گے وہ انہیں نقصان نہیں دے گا۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:3720)

3۔ جنت میں رفیق: نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان غنی کے بارے میں فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوتا ہے اور (جنت میں) میرا رفیق عثمان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

4۔ شفاعت کی بشارت:نبی کریمﷺ نے ایک ہی موقع پر دس صحابہ کرام رضی الله عنہم کو زندگی میں ہی جنت کی بشارت عطا فرما دی۔ جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ان میں عثمان غنی رضی الله عنہ بھی شامل ہیں جن کو دنیا میں رہتے ہوئے جنت کی خوشخبری سے نوازا گیا۔

نبی کریمﷺ کا صحابہ کرام سے محبت کا انداز انتہائی دلنشین، نرم، مشفقانہ اور دل کو چھو لینے والا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نہ صرف ان سے محبت کرتے بلکہ ان پر اعتماد کرتے، ان کی عزت کرتے، ان کے جذبات کا خیال رکھتے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے جیسے وہ سب آپﷺ کے بہت قریبی عزیز ہوں۔

رسول الله ﷺ کی حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے محبت ایک گہری، خالص اور باعمل محبت تھی، جو صرف جذباتی نہیں بلکہ کردار، قربانی، حیاء، اور دین کے لیے دی گئی خدمات پر مبنی تھی۔ نبی کریمﷺ کا حضرت عثمان بن عفان سے محبت کا انداز ہمیں کئی پہلوؤں سے سیکھنے کی دعوت دیتا ہےکہ ایمان، اخلاص اور قربانی کے بدلے میں محبت اور اعتماد کا اظہار کرنا سنت نبویﷺ ہے۔اچھے اخلاق کی قدر کرنا اور ان خوبیوں کو دوسروں کے سامنے سراہنا بھی سنت نبوی ﷺ ہے۔نبی کریمﷺ نے دنیاوی مفادات کے بغیر صحابہ کرام سے محبت کی، جو صرف دین اور کردار کی بنیاد پر تھی۔

نبی کریمﷺ کی حضرت عثمان رضی الله عنہ سے محبت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت الفاظ سے نہیں، عمل سے ظاہر کی جاتی ہے۔ محبت میں اعتماد، عزت، رشتہ اور دعا سب شامل ہیں۔

الله سے دعا ہے کہ ہمیں بھی آقا جانﷺ سے محبت کا ایک قطرہ نصیب فرمائے، آپ کی کی سنتوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین