حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلفاء راشدین میں سے تیسرے خلیفہ ہیں رسول اللہ ﷺ آ پ سے بہت محبت فرماتے تھے رسول اللہ ﷺ نے کئi بار آ پ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا حضور ﷺ نے آ پ کو ذوالنورین کا لقب عطا فرمایا۔

حضور ﷺ نے اپنی دو شہزادیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو یکے بعد دیگرے آ پ کے نکاح میں دیااور یہ شرف صرف عثمان غنی کو ہی ملا کسی اور صحابی کو نہ ملا۔

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھ یعنی جنت میں عثمان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

غزوہ تبوک کے موقع پر جب مسلمانوں کو لشکر کی تیاری کے لیے مالی مدد کی ضرورت پڑی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک بڑا حصہ عطیہ کیا جس پر نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے بہت خوشی اور دعائیں فرمائی۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت زیادہ حیا والے تھے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فرشتے ان سے حیا فرماتے ہیں۔

حضرت عبد الرحمن ابن سمرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب لشکر عسرت کو سامان دیا تو اپنی استین میں ہزار اشرفیاں لائے انہیں حضور کی گود میں ڈال دیا میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں الٹ پلٹ کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی عمل جو وہ کرے نقصان نہ دے گا۔ (ترمذی، 5/585، حدیث: 3701