عثمان ذوالنورین:اے عاشقان صحابہ اہل بیت! حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے ۔حضور ﷺ آپ سے کس قدر محبت فرماتے ہیں۔ کہ آپ کے نکاح میں اپنی دو بیٹیاں دے دی اور یہ شان صرف حضرت عثمان غنی کے ساتھ خاص ہے اس لیے آپ کو ذوالنورین کہتے ہیں اور صرف یہ نہیں بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہاں تک روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتی تو یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح عثمان تم سے کر دیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (خلفائے راشدین، ص 178)

آپ کی طرف سے بیعت فرمائی: جب رسول اللہ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایا اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے۔ لوگوں نے حضور ﷺ کے ہاتھ پربیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو فرمایا: عثمان خدا اور رسول خدا ﷺ کے کام سے گئے ہوئے ہیں پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ لہذا رسول اللہ ﷺ کا مبارک ہاتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے ان ہاتھوں سے بہتر ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بیعت کی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)

حضور ﷺ کا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت کا کیا عالم ہے کہ حضور نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا اور یہ وہ فضیلت ہے جو صرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے اس میں کوئی بھی آپ کے ساتھ شریک نہیں۔

جنتی ساتھی: فرمان مصطفی ﷺ ہے: ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے اور میرا ساتھی( یعنی جنت میں) عثمان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ حضرت عثمان غنی سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا عثمان جنت میں بھی میرا ساتھی ہوگا۔

حساب نہ لینا: ایک روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی: مولا میرا عثمان بڑا ہی شرملہ ہے تو قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کیونکہ وہ شرم و حیا کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑا ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/ 432، تحت الحدیث: 6070 ملتقطا)

حضور ﷺ حضرت عثمان غنی سے کس قدر محبت فرماتے ہیں اس کا اندازہ ہم حدیث مبارکہ سے لگا سکتے ہیں کہ آپ اپنے رب سے عثمان غنی کے حساب نہ لینے کے لیے دعا فرما رہے ہیں۔

یہ تمام احادیث حضور ﷺ کی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت کی علامت ہے۔