حضور ﷺ حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور انہیں مختلف القابات اور
اعزازات سے نوازا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے داماد اور عشرہ مبشرہ
میں سے تھے نبی کریم ﷺ نے انہیں ذوالنورین کا لقب عطا فرمایا تھا جس کا مطلب دو
نوروں والا اس کی وجہ سے یہ تھی کہ انہوں نے آپ ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔
حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس نے صحابہ سے محبت
کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے صحابہ سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
رسول اللہ ﷺ نے
دو شہزادیاں حضرت عثمان کے نکاح میں دی ایک کے بعد ایک کو حضور ﷺ کی وہ صاحبزادیاں
حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما تھی۔
حدیث مبارکہ
کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری سو بیٹیاں ہوتی تو ایک فوت ہوتی تو
دوسری بیٹی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا دوسری فوت ہوتی تو تیسری
پھر ایسے ہی سو بیٹیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ آسمان والوں کے لیے نور ہیں اور زمین والوں اور جنت والوں کے لیے
چراغ ہیں۔
روایت ہے حضرت
عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے تھے اپنی رانیں یا پنڈلیاں
کھولے تو جناب ابوبکر نے اجازت مانگی انہیں اجازت دی اسی حالت پر انہوں نے کچھ بات
چیت کی پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی پھر انہوں
نے بھی بات چیت کی پھر جناب عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور
اپنے کپڑے درست کر لیے جب وہ چلے گئے تو جناب عائشہ نے کہا کہ جناب ابوبکر آئے آپ نے
ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے
نہ جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے پھر تو آپ بیٹھ
گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے تو فرمایا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے
بھی حیا کرتے ہیں (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)اور ایک روایت میں ہے کہ جناب عثمان
شرمیلے آدمی ہیں مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت پر اجازت دے دی تو وہ
مجھ تک اپنی حاجت نہ پہنچا سکیں گے۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/432، تحت الحدیث: 6070 )
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان ہیں۔ (ترمذی،
5/583، حدیث: 3898)
روایت ہے حضرت
انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کا حکم دیا تو عثمان رسول اللہ
ﷺ کے قاصد تھے مکہ کی طرف حضور ﷺ نے لوگوں سے بیعت لی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
عثمان اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں گئے ہیں پھر حضور ﷺ نے اپنے دونوں
ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ عثمان رضی اللہ عنہ
کے لیے ان کے ہاتھ سے بہتر ہو گیا جو ان کے اپنے لیے تھا۔ (ترمذی، 5/392، حدیث:
3722)
ایک آدمی نے
حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کیا: جنت میں بجلی ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس ذات کی قسم جس
کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! بے شک عثمان رضی اللہ عنہ جب جنت میں منتقل ہوں گے
تو پوری جنت اس کی وجہ سے چمک اٹھے گی۔
Dawateislami