یوں تو تمام ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان ہمارے سروں کے تاج ہیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی توشان ہی نرالی ہے۔ اللہ پاک کے کسی نبی علیہ السلام کا داماد ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو خوش نصیب انسانوں کو ہی نصیب ہوتا ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی علیہ السلام کی دو بیٹیاں نہیں آئیں۔ اسی وجہ سے آپ کو ذو النورین یعنی  دونور والا بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ نبی کریم ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کو بھی بیان کرتا ہے چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اس شہزادی کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں یعنی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ارشاد فرمایا: اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ضرور ایک کے بعد ایک ان سب کا نکاح عثمان سے کر دیتا اور میں نے صرف آسمان سے آنے والی وحی یعنی اللہ پاک کے حکم پر ان کے ساتھ یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح کروایا ہے۔(معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

حضور ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کی ایک واضح دلیل یہ روایت بھی ہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں ہر نبی کا کوئی خاص ساتھی ہوتا ہے اور میرے خصوصی ساتھی عثمان ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/78، حدیث: 109)

شہزادی کو حسن سلوک کی وصیت: حضور ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کا ایک نرالا انداز یہ بھی تھا کہ آپ نے اپنی شہزادی کو آپ رضی اللہ عنہ کے متعلق وصیت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سر دھو رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمايا: اے میری بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے بہت مشابہ یعنی ملتی جلتی ہے۔ (اربعین عثمانی، ص 17)

حضرت عثمان غنی پر کرم نوازی: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بےحد محبت فرماتے اور حضور بھی جامع القرآن حضرت عثمان پر بے حد و بے انتہا مہربان تھے، اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ حضرت عبد الله بن سلام رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضرت سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کے مكان رفيع الشان کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ان کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک نہیں جانے دی جا رہی تھی اور حضرت سید نا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پیاس کی شدت سے تڑپتے رہتے تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ اس دن روزه دار تھے۔ مجھ کو دیکھ کر فرمایا: اے عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ! میں نے آج رات سرکار ﷺ کو اس روشن دان میں دیکھا، آپ نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: اے عثمان! ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں پیاس سے بے قرار کر دیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ تو فورا ہی آپ ﷺ نے ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا، میں اس سے سیراب ہوا اور اب اس وقت بھی اس پانی کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں اور دونوں کندھوں کے درمیان محسوس کر رہا ہوں۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمايا: اگر تمہاری خواہش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہاری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہمارے پاس آکر روزه افطار کرو۔ میں نے عرض کی: يا رسول الله! آپ ﷺ کے دربار انور میں حاضر ہو کر روزہ افطار کرنا مجھے زیادہ عزیز ہے۔ حضرت عبد الله بن سلام فرماتے ہیں کہ میں اس کے بعد رخصت ہو کر چلا آیا اور اسی روز باغیوں نے آپ کو شہید کر دیا۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ الله علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علامہ ابن باطیش اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ سرکار ﷺ کے دیدار والا یہ واقعہ خواب میں نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں پیش آیا۔

کئی دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی

شهادت حضرت عثمان کی بے شک ہے لاثانی

(كرامات عثمان غنی، ص 12، 13، 14)

اللہ اللہ ایسا محبت کا انوکھا انداز اور ایسی کرم نوازی اللہ پاک سے دعاہے کہ وہ ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے حقیقی محبت نصیب فرمائے اور ان کی برکتوں سے ہمیں بھی حصہ نصیب فرمائے۔ آمین بجاه خاتم النبيين ﷺ