حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت محمد شفیق عطاری، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان رضی
اللہ عنہ ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ نے جب لشکر عسرت سامان دیا تو اپنی آستین میں ہزار ا شرفیاں لائے
انہیں حضور ﷺ کی گود میں ڈال دیا میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں الٹ
پلٹ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اج کے بعد سے عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی عمل جو
وہ کریں نقصان نہ دے گا۔ ( مسند امام احمد، 7/358، حدیث: 20655)
روایت ہے کہ
نبی ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چپکے سے کہنے لگے اور حضرت عثمان رضی اللہ
عنہ کا رنگ بدلنے لگا پھر جب دار والا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم جنگ نہ کریں
فرمایا نہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ایک عہد لیا ہے میں اس پر اپنے کو قائم رکھے
ہوئے ہوں۔ (ابن ماجہ، 1/80، حدیث: 113 )
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے داماد اور
حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو صاجزادیاں یکے بعد دیگرے آ پ کے نکاح میں دیں۔ حضور
نبی کریم ﷺ میں پہلے اپنی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کیا جب ان
کی وفات ہو گئی تو دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی سے کیا، جب حضرت ام کلثوم کا وصال
ہوگیا تو فرمایا کہ اگر میری اور کوئی بیٹی نکاح کے قابل ہوتی تو میں اس کا نکاح
عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیتا۔ (سیرت حضرت عثمان غنی، ص 70)
یا اللہ ہمیں
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کےنقش قدم پر چل کر ان جیسا عشق رسول نصیب فرما اور
سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
Dawateislami