سرکار ﷺ نے
ارشاد فرمایا: سخاوت ایک جنتی درخت ہے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس کی شاخوں میں
سے ایک شاخ ہیں۔ ( کنز العمال، جز: 6، 11/ 273، حدیث: 32849)
ایک مرتبہ ایک
شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو حضور اکرم ﷺ نے اس سے مصافحہ فرمایا: اور جب تک
اس شخص نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا اس شخص نے پوچھا یا
رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کیسے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ جنتیوں میں
سے ایک شخص ہیں۔ ( معجم کبیر، 12/ 309، حدیث 13495 )
فرمایا: ہر
نبی کا کوئی ساتھی ہے ( یعنی جنت میں ) اور میرے ساتھی عثمان ہے۔(ترمذی، 5/583، حدیث:
3898)
حکیم الامت
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں
میرے خصوصی ساتھی حضرت عثمان ہوں گے ورنہ مطلقا ساتھی اور بہت سے خوش نصیب حضرات
بھی ہوں گے۔ (مراۃ المناجیح، 8/ 393)
حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بے مثال خصوصیت: اے عاشقان صحابہ
و اہل بیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے اللہ پاک کے نبی کا داماد ہونے کی حیثیت سے جو خصوصیات اور
انفرادیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی وہ کائنات میں کسی اور کو حاصل
نہ ہو سکی حضرت آدم سے لے کر حضور پاک ﷺ تک کسی کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں
نہیں ائیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خوش نصیب اورجنتی صحابی ہیں جن کے
نکاح میں کسی اور نبی کی بیٹیاں نبی کی نہیں بلکہ سارے نبیوں کے سردار جناب احمد
مختار ﷺ کی دو صاحبزادیاں ایک کے بعد دوسری نکاح میں ائی اس لیے آپ کا ایک لقب
ذوالنورین یعنی دو نور والے بھی ہیں اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا: اگر میری
دس بیٹیاں بھی ہوتی تو میں ایک کے بعد دوسری سے تمہارا نکاح کر دیتا۔ (معجم کبیر،
22/ 436، حدیث: 1061 )
عثمان مجھ سے
ہیں اور میں عثمان سے ہوں ( تاریخ دمشق 39 / 102 )
بروز قیامت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شفاعت سے 70 ہزار ایسے آدمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں
گے جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔ ( تاریخ دمشق 39 / 122 )
حیا ایمان سے
اور میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار عثمان ہے۔ (تاریخ دمشق، 39/92 )
حضرت عثمان کی
شرم و حیا کے بھی کیا کہنے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بھی آپ سے حیا فرماتے ہیں عموما
دیکھا جاتا ہے کہ ایک غلام تو آپنے آقا کی عنایتوں اور اس کے لطف کرم کے سبب اس کی
تعریف میں رطب اللسان رہتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ جب آقا ﷺ بھی اپنے غلام کی
خوبیوں پر اس کی تعریف کریں اور اس کی محبت اور والہانہ تعلق کا اظہار کریں امیر
المومنین حضرت عثمان غنی کا شمار بھی ان خوش نصیب صحابہ کرام میں ہوتا ہے کہ جن کے
حق میں حضور پاک ﷺ کے لب و جان بخش نے کئی بار جنبش فرمائی کبھی آپ کو دربار رسالت
ﷺ سے جنت کا مژدہ عطا ہوا تو کبھی آپ کو میٹھے مصطفی ﷺ نے اپنا جنتی رفیق قرار دیا
کبھی آپ کو کامل حیات کی سند عطا فرمائی تو کبھی شفاعت کے ذریعے لوگوں کے جنت پانے
کا اعلان فرمایا۔
اللہ کی پاک
بارگاہ میں عرض ہے کہ ہمیں بھی عثمان غنی کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
Dawateislami