اللہ پاک کا امت مسلمہ پر یہ احسان ہے کہ اس نے اسے ایسی عظیم ہستیاں عطا فرمائیں۔ جنہیں تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے جن کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں۔ ان عظیم ہستیوں میں منفرد خصوصیات کی حامل  شخصیات نیر تاباں عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ ہیں۔

آپ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ عام انسانیت کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کا شمار حضور اکرم ﷺ کے صحابہ میں بھی ہوتا ہے۔امت مسلمہ میں کامل الحیا والا ایمان کے الفاظ آپ ہی کی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا: میں اس شخص سے حیا کیسے نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ (مستدرک، 3/11، حدیث:4546)

قبول اسلام کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح حضور اکرم ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہو گیا تھا۔بعد ازاں آپ کوہجرت حبشہ کا شرف بھی ملا۔جب حضور ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ بھی مدینہ چلے آئے۔جہاں آپ نے مسلمانوں کے لیے گرانقدر کارنامے انجام دیے۔جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو آپ ﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ جس کے بعد آپ کا لقب ذوالنورین (یعنی دو نوروں والا)ہو گیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایسی عظیم الشان ہستی ہیں کہ جنہیں آسمانوں میں ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ (اصابۃ، 4/457)

نبی کے نور دو لے کر وہ ذوالنّورين کہلائے

انہیں حاصل ہوئی یوں قربت محبوب رحمانی

عموماً دیکھا جاتا ہے ایک غلام تو اپنے آقا کی عنایتوں اور اس کے لطف و کرم کے سبب اس کی تعریف کرتا رہتا ہے۔لیکن کمال تو یہ جب آقا بھی اپنے غلام کی خوبیوں پر تعریف کرے،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شمار بھی ان خوش نصیب صحابہ کرام میں ہوتا ہے جن کے حق میں حضور اکرم ﷺ کے لبہائے مبارک نے جنبش فرمائی کبھی آپ رضی اللہ عنہ کو دربار رسالت ﷺ جنت کا مژده عطا ہوا،تو کبھی آپ کو میٹھے مصطفی، شہنشاہ دوسرا ﷺ نے اپنا رفیق قرار دیا۔

حضور کی حضرت عثمان غنی سے محبت پر مبنی پانچ احادیث ملاحظہ فرمائیے:

1۔ عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/102، حديث: 7878)

2۔ جنت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

3۔ بروز قیامت عثمان کی شفاعت سے 70 ہزار ایسے آدمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں گےجن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/122، حدیث: 7916)

4۔ میری امت سب سے زیادہ پیکر شرم و حیا اور معزز و مکرم عثمان بن عفان ہیں۔ (فردوس الاخبار، 1/250، حدیث: 1790)

5۔ میری امت میں سب سے زیادہ باحیا انسان عثمان بن عفان ہیں۔ (مستدرک، 4/689، حديث:6335)

اے الله عثمان غنی کے صدقے ہمیں باحیا بنا اور ان کے صدقے ہماری مغفرت فرما۔ آمین