حضور ﷺ اپنے صحابہ سے بہت محبت فرماتے ہر ایک کے ساتھ محبت کا ایک الگ انداز ہوا کرتا تھا۔حضور ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بھی ہیں آپ خلفائے راشدین میں تیسرے  خلیفہ ہیں۔آپ نے آغاز اسلام ہی میں قبول اسلام کرلیا تھا۔ حضور ﷺ ان سے بہت محبت فرماتے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جنت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/104)

حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو شہزادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان غنی کے نکاح میں دی تھیں۔حضور ﷺ کی دوسری شہزادی حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان غنی کی زوجہ محترمہ ہیں۔

اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کی پیاری پیاری شہزادی حضرت رقیہ جب وفات پا گئیں تو حضرت عثمان غنی بہت روئے، حضور اکرم ﷺ نے پوچھا: عثمان کیوں روتے ہو؟ عرض کیا: یارسول اللہ! میں حضور کی دامادی سے محروم ہو گیا ہوں یہ سن کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ سے جبریل امین نے عرض کیا ہے کہ اللہ پاک کا حکم ہے کہ میں اپنی دوسری صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح تم سے کروں بشرطیکہ وہی مہر ہو جو رقیہ کا تھا اور تم اس سے وہ ہی سلوک کرو جو رقیہ سے کیا۔ چنانچہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی سے کر دیا گیا۔ دنیا میں ایسا کوئی نہیں جس کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں۔ یہ حضرت عثمان غنی کی خصوصیت تھی اور اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین(یعنی دو نور والے) کا لقب ملا۔ (مرقاة المفاتیح، 10/445، تحت الحدیث: 6080)

میرے آقا اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

نور کی سرکار سے پایا دوشالا نور کا

ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

حضرت عثمان غنی پر کرم: پیاری اسلامی بہنو! نبی پاک ﷺ جامع القرآن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر کس قدر مہربان تھے، اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ان کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک نہیں جانے دی جا رہی تھی اور حضرت عثمان غنی پیاس کی شدت سے تڑپتے رہتے تھے۔ میں ملاقات کےلیے حاضر ہوا تو آپ اس دن روزہ دار تھے۔ مجھ کو دیکھ کر فرمایا: اےعبداللہ بن سلام! میں نے آج رات حضور کو اس روشن دان میں دیکھا۔ آپ نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: اے عثمان! ان لوگوں نے پانی بند کرکےتمہیں پیاس سے بے قرارکردیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ تو فوراً ہی آپ ﷺ نے ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا، میں اس سے سیراب ہوا اور اب اس وقت بھی اس پانی کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں اور دونوں کندھوں کے درمیان محسوس کر رہا ہوں۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے عثمان! اگر تمہاری خواہش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہاری امداد کروں اور اگر چاہو تو ہمارے پاس آکر روزہ افطار کرو۔ میں نے عرض کی: یارسول اللہ! آپ کے دربار پر انوار میں حاضر ہو کر روزہ افطار کرنامجھے زیادہ عزیزہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ میں اس کے بعد رخصت ہو کر چلا آیا اور اسی روز باغیوں نے آپ کو شہید کردیا۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 3/74، رقم: 109)

حضرت علاّمہ جلال الدّین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علّامہ ابن باطیش رحمۃ اللہ علیہ اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ (سرکار ﷺ کے دیدار والا) یہ واقعہ خواب میں نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں پیش آیا۔ (جامع کرامات الاولیاء، 1/151)

کئی دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی

شہادت حضرت عثمان کی بے شک ہے لاثانی