مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی محبت کے لیے اس کے رسول سے محبت ضروری ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے کے لیے حضور کے تمام صحابہ، حضور کے اہل بیت اور اولاد پاک اور ازواج مطہرات سے محبت لازم ہے یہ تمام محبت ایمان میں داخل بلکہ عین ایمان یعنی (ایمان کی بنیاد ہیں)۔ (تفسیر نعیمی، 2/137)

تمام امت میں سے حضرت عثمان کو ہی یہ شرف ملا کہ نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیاں ان کے نکاح میں آئیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر میری 40 بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ان سب کو یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں دے دیتا یہاں تک کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔

نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! اپنے شوہر عثمان کی خدمت کرنا کیونکہ وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق و کردار میں مجھ سے زیادہ مشابہ ہے۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)

نبی پاک ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا کے متعلق ان کی شان مبارکہ میں ایک فرمان ارشاد فرمایا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)

اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ صرف صحابی رسول، داماد رسول ﷺ تھے بلکہ آپ ﷺ کے بہت ہی زیادہ محبوب صحابیوں میں سے تھے۔ جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت سنا دی گئی تھی۔ نبی پاک ﷺ ان کی دین کی خدمت اور ان کی حیا کی وجہ سے ان سے بہت زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے۔ یہ محبت بھی خدائی تھی اور اخلاص پر مبنی تھی۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی ان کی محبت کا کچھ حصہ نصیب فرمائے اور ان کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔