اللہ پاک نے
اپنے پیارے حبیب ﷺ کی صحبت فیض اثر کیلئے دنیا کے بہترین افراد کا انتخاب فرمایا۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان سب کے سب اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کو پیارے ہیں۔ البتہ
بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی۔انہی صاحبان فضیلت عظمی میں سے جامع قرآن حضرت عثمان
بن عفان رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہیں۔ حیا
کا وصف آپ رضی اللہ عنہ پر غالب تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا دریا بھی ہر وقت
جوش پر رہتا تھا۔نبی کریم ﷺ کے محب بھی تھے اور محبوب بھی۔آئیے حضور اکرم ﷺ کی
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت فرمانے کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کرتی ہیں:
داماد
مصطفےٰ: انبیائے
کرام علیہم السلام کی دامادی کا شرف پانے والے خوش نصیب افراد یقینا عزت و عظمت
والے ہیں۔مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک نہیں بلکہ سید المرسلین
ﷺ کی دو شہزادیاں یکے بعد دیگرے آئیں۔ (خلفائے راشدین، ص 181) بیٹی کی محبت والد
کو اپنی بساط بھر بہترین داماد تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا حضرت
رقیہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد اپنی دوسری شہزادی حضرت
ام کلثوم رضی
اللہ عنہا کو بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دینا نبی کریم ﷺ کی آپ رضی
اللہ عنہ سے محبت اور شہزادیوں کے معاملے میں اعتماد کے معاملے میں واضح ثبوت ہے۔
نور
کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذو النّورین جوڑا نور کا
یہ
عثمان کا ہاتھ ہے:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکے
والوں کی نظر میں بھی معزز ہونے کے سبب 6 ھ میں مسلمانوں کا قاصد بنا کر قریش کی
طرف بھیجا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی غیر موجودگی میں صھابہ کرام علیہم الرضوان سے بیعت رضوان لی گئی۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے
اپنا ایک دست مبارک دوسرے پر رکھا اور فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ (تاریخ الخلفاء،
ص 208)
میرے
بغیر طواف نہ کریں گے:چونکہ حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ مکہ شریف گئے تھے تو ان پر رشک کرتے ہوئے صحابہ کرام علیہم
الرضوان نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عثمان تو خوب عمرہ کریں گے حضور نے
فرمایا کہ میرا عثمان میرے بغیر نہ عمرہ کرے گا نہ طواف۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا
کفار نے طواف کی پیش کش کی مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر انکار کر
دیا میں حضور انور کے بغیر کعبہ کو دیکھوں گا بھی نہیں۔
کیا دو طرفہ
محبت تھی کہ محب نے محبوب کی غیر موجودگی میں طواف سے انکار کردیا ادھر محبوب کو
بھی عاشق پر کیسا مان تھا کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے۔
اللہ
سے کیا پیار ہے عثمان غنی کا محبوب خدا یار ہے
عثمان غنی کا
بعدِ
وصال ظاہری بھی کرم: اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ
عنہ پر بے حد و بے انتہا مہربان تھے۔نبی کریم ﷺ کے وصال ظاہری شریف کے بعد خلافت
عثمانی میں باغیوں کے محاصرے کے دوران نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو رات میں جلوہ دکھایااور نہایت شفقت کے ساتھ فرمایا
ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں پیاس سے بے قرار کر دیا ہے؟ عرض کی جی ہاں تو
فورا پانی سے بھرا ہوا ڈول عطا فرمایا پھر فرمایا چاہو تو ان کے مقابلے میں میں
تمہاری مدد کروں اور چاہو تو تم ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو عرض کی: یا رسول
اللہ! آپ کے دربار پر انوار میں حاضر ہو کر روزہ افطار کرنا مجھے زیادہ عزیز ہے۔
اسی دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے۔ (کتاب المنامات، 3/76، رقم: 109)
ظاہری حیات
شریف میں تو محبت کا اظہار فرماتے ہی تھے بعد وصال شریف بھی اپنے عاشق کو شفقتوں
سے نوازا۔
جنت
میں رفیق:
نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ علیہم الرضوان جنتی ہیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ
عنہ کے بارے میں حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: عثمان جنتی ہیں ان کا رفیق میں خود
ہوں۔ (ریاض النضرہ، 1/35)
مصطفی کریم ﷺ کا
جنت میں آپ رضی اللہ عنہ کو بطور خاص اپنا رفیق فرمانا کمال محبت پر دلالت کرتا
ہے۔
اے کاش عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کے صدقے ہم گنہگاروں پر
بھی آقا کریم ﷺ کی نظر کرم ہو جائے۔
یہی
آرزو جو ہو سرخرو ملے دوجہاں کی آبرو
میں
کہوں غلام ہوں آپکا وہ کہیں کہ ہم کو قبول ہے
Dawateislami