نبی کریم ﷺ کا
ارشاد ہے:جس نے میرے صحابہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی،جس نے میرے صحابہ سے
بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
مفسّر قرآن،
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی محبت کے لئے اس
کے رسول ﷺ سے محبت ضروری ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کے لئے حضور کے تمام صحابہ سے، حضور کے
اہل بیت،اولاد پاک اور ازواج مطہرات سے محبت لازم و ضروری ہے،یہ تمام محبتیں ایمان
میں داخل بلکہ عین ایمان (یعنی ایمان کی بنیاد) ہیں۔ (تفسیر نعیمی، 2/137)
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ نبی پاک ﷺ کے صحابی ہیں اور مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہیں۔
حضور ﷺ حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت فرماتے جس کا اظہار کئی احادیث مبارکہ سے
بھی ثابت ہوتا ہے۔
1۔ رسول اکرم ﷺ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت
فرماتے تھے کہ آپ نے ایک ایک کر کے اپنی دو شہزادیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے
نکاح میں دیں۔
اعلیٰ حضرت
امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
نور
کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذو النّورین جوڑا نور کا
2۔ایک حدیث
پاک میں فرمایا: اگر میری سو بیٹیاں ہوتیں ان میں سے ایک کی وفات ہوتی تو میں دوسری عثمان کے نکاح
میں دیتا اس کا انتقال ہوتا تو میں تیسری عثمان کے نکاح میں دیتا یہاں تک کہ میں
اپنی سو کی سو شہزادیاں ایک ایک کر کے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔ (کنز العمال، جز:13،
7/21، حدیث: 36201)
3۔حضور اکرم ﷺ
نے فرمایا:عثمان کتنا اچھا انسان ہے! میرا داماد ہے،میری دو بیٹیوں کا شوہر ہے،
اللہ پاک نے اس میں میرا نور جمع فرما دیا۔ (روض الفائق، ص 313)
نبی
کے نور دو لے کر وہ ذو النّورین کہلائے
انہیں
حاصل ہوئی یوں قربتِ محبوب رحمانی
حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ
اپنی صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح کیا تو ان سے فرمایا کہ تمہارے شوہر عثمان غنی
تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمہارے باپ محمد ﷺ سے شکل و صورت میں
بہت مشابہ ہیں۔
Dawateislami