حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت مشتاق احمد، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
اس تحریر میں
ان شاء اللہ آقا کریم ﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کے متعلق احادیث کریمہ
اور کچھ واقعات بیان کیے جائیں گے اور احادیث کریمہ کو ان شاء اللہ حوالہ جات کے
ساتھ بیان کیا جائے گا۔۔
احادیث
مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان رضی اللہ
عنہ ہے، (ترمذی، 5/624، حدیث: 3698)
رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بے شک عثمان میرے صحابہ میں سے خلق کے اعتبار سے سب سے زیادہ میرے
مشابہ ہے۔ (المعجم الکبیر، 1/76، حدیث: 99)
اللہ پاک کا
اس امت پر یہ احسان ہے کہ اس نے اسے ایسی عظیم الشان ہستیاں عطا فرمائیں جنہیں
تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے جن کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں انہی عظیم
ہستیوں میں سے منفرد خصوصیات کی حامل شخصیت عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ
ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ عالم
انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں آپ کا شمار
حضور اکرم ﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے امت مسلمہ میں کامل الحیاء و ایمان کے
الفاظ آپ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کے
بارے میں ارشاد فرمایا میں اس شخص سے کیسے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے
ہیں۔ (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ اسلام کے سابقین اولین میں سے ہیں اور عظیم قدرو منزلت کے مالک ہیں
انہوں نے اللہ کی راہ میں سخت تکلیفیں اٹھائیں اسکے باوجود وہ نبی کریم ﷺ کی محبت
میں آگے بڑھتے گئے اور نبی کریم ﷺ کی محبت ان سے بڑھتی گئی اور جب ابولہب کے دو
بیٹوں نے (جو کہ نبی کریم ﷺ کے داماد تھے ) اپنے والدین کے حکم سے آپ کی دو
صاحبزادیوں رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دے دی تا کہ اسطرح نبی کریم ﷺ
کو دکھ پہنچے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا
رشتہ طلب کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا
حضرت رقیہ ان کی حسن معاشرت سے بہت خوش ہوئیں۔
حضرت عثمان کو
مشرکین مکہ کی طرف سے بہت تکلیفیں اٹھانی پڑیں آخر کار اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ کی
طرف دو بار ہجرت فرمائی پھر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ اور آقا کریم ﷺ میں محبت اتنی بڑھ گئی کہ آپ ﷺ نے اپنی دوسری
صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو آپ کے نکاح میں دے دیا اور یہ سن 3ھ کا واقعہ ہے۔
حضور کی حضرت
عثمان سے اگر انتہائی محبت نہ ہوتی اور حضرت عثمان کی آپ سے غایت محبت نہ ہوتی تو
آپ ان سے دوسری صاحبزادی کا نکاح نہ فرماتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو
مستقبل میں حضرت عثمان پر بڑا اعتماد تھا اور حضرت عثمان کی یہ عظیم منقبت ہے کہ
سابقہ امتوں میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے نبی کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہو
سوائے حضرت عثمان بن عفان کے۔
حضرت علی سے
یہاں تک روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور کا یہ فرمان سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان سے فرما
رہے تھے کہ اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتی تو یکے بعد دیگرے میں ان سب کا نکاح اے
عثمان! تم سے کر دیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 121
Dawateislami