نبی کریم ﷺ کو اپنے تمام صحابہ سے محبت تھی۔آپ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے ان کے مال، جان اور اولاد میں خیر وبرکت کی دعائیں فرماتے، اپنے اصحاب کی دل جوئی فرماتے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے  آقا ﷺ کی بہت ہی محبت پائی۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے ہیں جن کو دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت ملی۔آپ رضی اللہ عنہ قطعی جنتی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہیں۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے اللہ پاک کے نبی کا داماد ہونے کی حیثیت سے جو خصوصیت اور انفرادیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی وہ کائنات میں کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک کسی کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب جنتی صحابی ہیں کہ جن کے نکاح میں کسی اور نبی کی نہیں بلکہ نبیوں کے سردار، جناب احمد مختار ﷺ کی دو صاحبزادیاں ایک کے بعد دوسری نکاح میں آئیں۔ اسی سے آپ کا ایک لقب ذوالنورین بھی ہے۔

اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ایک بعد دوسری سے تمہارا نکاح کر دیتا۔ (معجم کبیر، 22/ 436، حدیث: 1061 )

جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں آئے تو آپ ﷺ نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور فرمایا: میں اس شخص سے کیوں نہ حیا کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(تاریخ الخلفاء، ص 201)

جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اہل مکہ کی طرف بطور قاصد گئے ہوئے تھے جب لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام گئے ہوئے ہیں یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پہ رکھا اور فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ کا دست مبارک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے اب تمام ہاتھوں سے بہتر تھا۔ (تاریخ الخلفاء، ص 208)

حضور نے فرمایا: ہر ایک کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی (جنت میں) عثمان ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی: مولا میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا ہےتو کل قیامت اس کا حساب نہ لینا کہ وہ شرم وحیا کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑے ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/432، تحت الحدیث: 6070 )

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بارہ سال خلافت فرما کر 18 ذالحجہ الحرام سن 35 ہجری میں بروز جمعہ روزے کی حالت میں تقریبا 82سال کی عمر مبارک پا کر نہایت مظلومیت کے ساتھ شہید کئے گئے۔شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے رحمت عالم ﷺ کو خواب میں فرماتے سنا:بے شک عثمان کو جنت میں عالی شان دولہا بنایا گیا ہے۔ (ریاض النظرۃ، 3/ 73)

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین

ملی تقدیر سے مجھ صحابہ کی ثنا خوانی ملا ہے فیض عثمانی ملا ہے فیض عثمانی


عثمان ذوالنورین:اے عاشقان صحابہ اہل بیت! حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے ۔حضور ﷺ آپ سے کس قدر محبت فرماتے ہیں۔ کہ آپ کے نکاح میں اپنی دو بیٹیاں دے دی اور یہ شان صرف حضرت عثمان غنی کے ساتھ خاص ہے اس لیے آپ کو ذوالنورین کہتے ہیں اور صرف یہ نہیں بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہاں تک روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتی تو یکے بعد دیگرے ان سب کا نکاح عثمان تم سے کر دیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (خلفائے راشدین، ص 178)

آپ کی طرف سے بیعت فرمائی: جب رسول اللہ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایا اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے۔ لوگوں نے حضور ﷺ کے ہاتھ پربیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو فرمایا: عثمان خدا اور رسول خدا ﷺ کے کام سے گئے ہوئے ہیں پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خود بیعت فرمائی۔ لہذا رسول اللہ ﷺ کا مبارک ہاتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے ان ہاتھوں سے بہتر ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بیعت کی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)

حضور ﷺ کا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت کا کیا عالم ہے کہ حضور نے اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا اور یہ وہ فضیلت ہے جو صرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے اس میں کوئی بھی آپ کے ساتھ شریک نہیں۔

جنتی ساتھی: فرمان مصطفی ﷺ ہے: ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے اور میرا ساتھی( یعنی جنت میں) عثمان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ حضرت عثمان غنی سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا عثمان جنت میں بھی میرا ساتھی ہوگا۔

حساب نہ لینا: ایک روایت میں ہے کہ اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی: مولا میرا عثمان بڑا ہی شرملہ ہے تو قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کیونکہ وہ شرم و حیا کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑا ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/ 432، تحت الحدیث: 6070 ملتقطا)

حضور ﷺ حضرت عثمان غنی سے کس قدر محبت فرماتے ہیں اس کا اندازہ ہم حدیث مبارکہ سے لگا سکتے ہیں کہ آپ اپنے رب سے عثمان غنی کے حساب نہ لینے کے لیے دعا فرما رہے ہیں۔

یہ تمام احادیث حضور ﷺ کی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت کی علامت ہے۔

یوں تو تمام ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان ہمارے سروں کے تاج ہیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی توشان ہی نرالی ہے۔ اللہ پاک کے کسی نبی علیہ السلام کا داماد ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو خوش نصیب انسانوں کو ہی نصیب ہوتا ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی علیہ السلام کی دو بیٹیاں نہیں آئیں۔ اسی وجہ سے آپ کو ذو النورین یعنی  دونور والا بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ نبی کریم ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کو بھی بیان کرتا ہے چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی اس شہزادی کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں یعنی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ارشاد فرمایا: اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ضرور ایک کے بعد ایک ان سب کا نکاح عثمان سے کر دیتا اور میں نے صرف آسمان سے آنے والی وحی یعنی اللہ پاک کے حکم پر ان کے ساتھ یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح کروایا ہے۔(معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

حضور ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کی ایک واضح دلیل یہ روایت بھی ہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں ہر نبی کا کوئی خاص ساتھی ہوتا ہے اور میرے خصوصی ساتھی عثمان ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/78، حدیث: 109)

شہزادی کو حسن سلوک کی وصیت: حضور ﷺ کی عثمان غنی سے محبت کا ایک نرالا انداز یہ بھی تھا کہ آپ نے اپنی شہزادی کو آپ رضی اللہ عنہ کے متعلق وصیت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سر دھو رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمايا: اے میری بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے بہت مشابہ یعنی ملتی جلتی ہے۔ (اربعین عثمانی، ص 17)

حضرت عثمان غنی پر کرم نوازی: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بےحد محبت فرماتے اور حضور بھی جامع القرآن حضرت عثمان پر بے حد و بے انتہا مہربان تھے، اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ حضرت عبد الله بن سلام رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضرت سید نا عثمان رضی اللہ عنہ کے مكان رفيع الشان کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ان کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک نہیں جانے دی جا رہی تھی اور حضرت سید نا عثمان غنی رضی اللہ عنہ پیاس کی شدت سے تڑپتے رہتے تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ اس دن روزه دار تھے۔ مجھ کو دیکھ کر فرمایا: اے عبد الله بن سلام رضی اللہ عنہ! میں نے آج رات سرکار ﷺ کو اس روشن دان میں دیکھا، آپ نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں ارشاد فرمایا: اے عثمان! ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں پیاس سے بے قرار کر دیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ تو فورا ہی آپ ﷺ نے ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا، میں اس سے سیراب ہوا اور اب اس وقت بھی اس پانی کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں اور دونوں کندھوں کے درمیان محسوس کر رہا ہوں۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمايا: اگر تمہاری خواہش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہاری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہمارے پاس آکر روزه افطار کرو۔ میں نے عرض کی: يا رسول الله! آپ ﷺ کے دربار انور میں حاضر ہو کر روزہ افطار کرنا مجھے زیادہ عزیز ہے۔ حضرت عبد الله بن سلام فرماتے ہیں کہ میں اس کے بعد رخصت ہو کر چلا آیا اور اسی روز باغیوں نے آپ کو شہید کر دیا۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ الله علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علامہ ابن باطیش اس سے یہی سمجھتے ہیں کہ سرکار ﷺ کے دیدار والا یہ واقعہ خواب میں نہیں بلکہ بیداری کی حالت میں پیش آیا۔

کئی دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی

شهادت حضرت عثمان کی بے شک ہے لاثانی

(كرامات عثمان غنی، ص 12، 13، 14)

اللہ اللہ ایسا محبت کا انوکھا انداز اور ایسی کرم نوازی اللہ پاک سے دعاہے کہ وہ ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے حقیقی محبت نصیب فرمائے اور ان کی برکتوں سے ہمیں بھی حصہ نصیب فرمائے۔ آمین بجاه خاتم النبيين ﷺ


سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: سخاوت ایک جنتی درخت ہے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہیں۔ ( کنز العمال، جز: 6، 11/ 273، حدیث: 32849)

ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو حضور اکرم ﷺ نے اس سے مصافحہ فرمایا: اور جب تک اس شخص نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا اس شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کیسے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ جنتیوں میں سے ایک شخص ہیں۔ ( معجم کبیر، 12/ 309، حدیث 13495 )

فرمایا: ہر نبی کا کوئی ساتھی ہے ( یعنی جنت میں ) اور میرے ساتھی عثمان ہے۔(ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں میرے خصوصی ساتھی حضرت عثمان ہوں گے ورنہ مطلقا ساتھی اور بہت سے خوش نصیب حضرات بھی ہوں گے۔ (مراۃ المناجیح، 8/ 393)

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بے مثال خصوصیت: اے عاشقان صحابہ و اہل بیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے اللہ پاک کے نبی کا داماد ہونے کی حیثیت سے جو خصوصیات اور انفرادیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی وہ کائنات میں کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی حضرت آدم سے لے کر حضور پاک ﷺ تک کسی کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں ائیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خوش نصیب اورجنتی صحابی ہیں جن کے نکاح میں کسی اور نبی کی بیٹیاں نبی کی نہیں بلکہ سارے نبیوں کے سردار جناب احمد مختار ﷺ کی دو صاحبزادیاں ایک کے بعد دوسری نکاح میں ائی اس لیے آپ کا ایک لقب ذوالنورین یعنی دو نور والے بھی ہیں اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا: اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتی تو میں ایک کے بعد دوسری سے تمہارا نکاح کر دیتا۔ (معجم کبیر، 22/ 436، حدیث: 1061 )

عثمان مجھ سے ہیں اور میں عثمان سے ہوں ( تاریخ دمشق 39 / 102 )

بروز قیامت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شفاعت سے 70 ہزار ایسے آدمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔ ( تاریخ دمشق 39 / 122 )

حیا ایمان سے اور میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار عثمان ہے۔ (تاریخ دمشق، 39/92 )

حضرت عثمان کی شرم و حیا کے بھی کیا کہنے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بھی آپ سے حیا فرماتے ہیں عموما دیکھا جاتا ہے کہ ایک غلام تو آپنے آقا کی عنایتوں اور اس کے لطف کرم کے سبب اس کی تعریف میں رطب اللسان رہتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ جب آقا ﷺ بھی اپنے غلام کی خوبیوں پر اس کی تعریف کریں اور اس کی محبت اور والہانہ تعلق کا اظہار کریں امیر المومنین حضرت عثمان غنی کا شمار بھی ان خوش نصیب صحابہ کرام میں ہوتا ہے کہ جن کے حق میں حضور پاک ﷺ کے لب و جان بخش نے کئی بار جنبش فرمائی کبھی آپ کو دربار رسالت ﷺ سے جنت کا مژدہ عطا ہوا تو کبھی آپ کو میٹھے مصطفی ﷺ نے اپنا جنتی رفیق قرار دیا کبھی آپ کو کامل حیات کی سند عطا فرمائی تو کبھی شفاعت کے ذریعے لوگوں کے جنت پانے کا اعلان فرمایا۔

اللہ کی پاک بارگاہ میں عرض ہے کہ ہمیں بھی عثمان غنی کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


رسول اکرم ﷺ کے تمام اصحاب پیکر صدق و صفا ہدایت کا سرچشمہ اور ظلمت کے اندھیرے میں روشنی کا وہ مینار ہیں جن سے زمانہ ہدایت پاتا ہے۔ تمام صحابہ کرام قیامت تک آنے والی نسل انسانی کیلئے روشنی کا مینار ہیں۔ خلیفہ سوم، داماد رسول حضرت عثمان غنی کو اللہ تعالیٰ نے جن عظیم صفات سے متصف فرما کر صحابہ میں ممتاز فرمایا وہ انہی کا حصہ ہیں۔ حضرت عثمان غنی حیا کا ایسا پیکر تھے کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ حضرت عثمان غنی نے دین اسلام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر قربانی کو قبول کیا۔ حضرت عثمان غنی نے اپنی ساری زندگی دین اسلام، محبت رسول ﷺاور مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری۔ انہوں نے اپنے دور خلافت میں ہمیشہ استقامت کو اپنائے رکھا۔

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شمار حضور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب شوری میں بھی ہوتا ہے۔ کامل الحیا و الایمان کے الفاظ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: میں اس شخص سے کیسے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)

رسول اکرم ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت فرماتے تھے کہ آپ نے ایک، ایک کر کے اپنی 2 شہزادیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیں۔ (نزہۃ القاری، 1/544)

حدیث پاک میں ہے: اللہ پاک نے مجھے وحی فرمائی کہ میں اپنی دو بیٹیوں کا نکاح عثمان سے کروں۔ (معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)

ایک حدیث پاک میں فرمایا: اگر میری 100 بیٹیاں ہوتیں، ان میں سے ایک کی وفات ہوتی تو میں دوسری عثمان کے نکاح میں دیتا، اس کا انتقال ہوتا تو میں تیسری عثمان کے نکاح میں دیتا، یہاں تک کہ میں اپنی 100 کی 100 شہزادیاں ایک ایک کر کے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔ کنز العمال، جز: 13، 7/21، حدیث: 36201)

مولائے کائنات، علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: عثمان وہ ہیں کہ انہیں فرشتے ذوالنّورین کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے داماد ہیں، پیارے آقا، مدنی مصطفےٰ ﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دی۔ (ریاض النضرۃ، 3/6)

جمہور اہل سنت کے نزدیک علی رضی اللہ عنہ سے عثمان رضی اللہ عنہ افضل ہیں۔

اہل سنت کے مشہور ثقہ امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ آپ علی سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا عثمان سے؟ انہوں نے جواب دیا: عثمان سے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر، 41/ 334)


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جب لشکر عسرت سامان دیا تو اپنی آستین میں ہزار ا شرفیاں لائے انہیں حضور ﷺ کی گود میں ڈال دیا میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اج کے بعد سے عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی عمل جو وہ کریں نقصان نہ دے گا۔ ( مسند امام احمد، 7/358، حدیث: 20655)

روایت ہے کہ نبی ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چپکے سے کہنے لگے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ بدلنے لگا پھر جب دار والا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم جنگ نہ کریں فرمایا نہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ایک عہد لیا ہے میں اس پر اپنے کو قائم رکھے ہوئے ہوں۔ (ابن ماجہ، 1/80، حدیث: 113 )

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے داماد اور حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو صاجزادیاں یکے بعد دیگرے آ پ کے نکاح میں دیں۔ حضور نبی کریم ﷺ میں پہلے اپنی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کیا جب ان کی وفات ہو گئی تو دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی سے کیا، جب حضرت ام کلثوم کا وصال ہوگیا تو فرمایا کہ اگر میری اور کوئی بیٹی نکاح کے قابل ہوتی تو میں اس کا نکاح عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیتا۔ (سیرت حضرت عثمان غنی، ص 70)

یا اللہ ہمیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کےنقش قدم پر چل کر ان جیسا عشق رسول نصیب فرما اور سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین


عثمان کے نکاح میں دے دیتا: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے آپ علیہ السلام کا یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے فرمارہے تھے کہ اگر میری 40 لڑکیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے میں ان سب کا نکاح اے عثمان! تم سے کردیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (تاریخ الخفاء، ص 104)

انبیاء کرام سے مشابہت: رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح کیا تو ان سے فرمایا کہ تمہارے شوہر عثمان غنی رضی اللہ عنہ تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمہارے باپ محمد علیہ السلام سے شکل و صورت میں مشابہ ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ میں اپنی صاحبزادی کی شادی عثمان سے کروں۔ (معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا اس کی امت میں کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے اور بے شک میرا دوست عثمان بن عفان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہم سب کی بے حساب مغفرت ہو۔


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلفاء راشدین میں سے تیسرے خلیفہ ہیں رسول اللہ ﷺ آ پ سے بہت محبت فرماتے تھے رسول اللہ ﷺ نے کئi بار آ پ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا حضور ﷺ نے آ پ کو ذوالنورین کا لقب عطا فرمایا۔

حضور ﷺ نے اپنی دو شہزادیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو یکے بعد دیگرے آ پ کے نکاح میں دیااور یہ شرف صرف عثمان غنی کو ہی ملا کسی اور صحابی کو نہ ملا۔

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھ یعنی جنت میں عثمان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

غزوہ تبوک کے موقع پر جب مسلمانوں کو لشکر کی تیاری کے لیے مالی مدد کی ضرورت پڑی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک بڑا حصہ عطیہ کیا جس پر نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے بہت خوشی اور دعائیں فرمائی۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت زیادہ حیا والے تھے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فرشتے ان سے حیا فرماتے ہیں۔

حضرت عبد الرحمن ابن سمرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب لشکر عسرت کو سامان دیا تو اپنی استین میں ہزار اشرفیاں لائے انہیں حضور کی گود میں ڈال دیا میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں الٹ پلٹ کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی عمل جو وہ کرے نقصان نہ دے گا۔ (ترمذی، 5/585، حدیث: 3701


حضور ﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت ایک اہم موضوع ہے جس پر بہت سے علماء اور مصنفین نے لکھا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ تھے اور حضور ﷺ کے صحابی اور داماد تھے۔

1 نکاح اور رشتہ: حضور ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا۔ حضرت رقیہ کے انتقال کے بعد حضور ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم کا نکاحبھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دیا۔ اس بنا پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذو النورین کہا جاتا ہے۔

2 ۔ محبت اور عزت: حضور ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی شرم و حیا کو بہت سراہتے تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ عثمان جنت میں میرے ساتھ ہوں گے۔

3 ۔ غزوه تبوک میں کردار: غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مالی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حضور ﷺ کی مدینہ میں رہائش کے دوران بیٹی کی تیمارداری کی۔

ایک حدیث پاک میں فرمایا: اگر میری 100 بیٹیاں ہوتیں، ان میں سے ایک کی وفات ہوتی تو میں دوسری عثمان کے نکاح میں دیتا، اس کا انتقال ہوتا تو میں تیسری عثمان کے نکاح میں دیتا، یہاں تک کہ میں اپنی 100 کی 100 شہزادیاں ایک ایک کر کے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔ (معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)

جنت میں ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے اور میرے ساتھ تھی عثمان ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/78، حدیث: 109)

عثمان کی شفاعت کی بدولت 70 ہزار ایسے افراد جن پر دوزخ لازم ہو چکی ہوگی وہ بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ ( تاریخ دمشق، 39/22)

یوں تو اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کی مبارک صحبت پانے اور پھر ایمان کی حالت میں دنیا سے جانے والے ہر صحابی رسول اہل ایمان کے سر کا تاج اور دل کی راحت ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان ہی نرالی ہے اللہ پاک کے کسی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا داماد ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو خوش نصیب انسانوں کو ہی نصیب ہوتا ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی دو بیٹیاں نہیں آئیں اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کہا جاتا ہے۔ ( سنن کبری، 7/115 )

سرکار دوعالم ﷺ نے اعلان نبوت سے پہلے اپنی شہزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کیا تھا غزوہ بدر کے موقع پر ان کا انتقال ہوا تو پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی دوسری شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی آپ سے کر دیا۔ (تاریخ الخلفاء، ص 118)

ترمذی شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مقام حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایا اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے لوگوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو رسول مقبول ﷺ نے فرمایا کہ عثمان خدا اور رسول خدا ﷺ کے کام سے گئے ہیں یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے خود بیت فرمائی لہذا رسول اللہ ﷺ کا مبارک ہاتھ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے ان ہاتھوں سے بہتر ہے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بیعت کی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ میرے حجرے میں اس طرح آرام فرما رہے تھے کہ مبارک رانیں یا پنڈلیاں کھلی ہوئی تھی اس دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضری کی اجازت مانگی تو انہیں اسی حالت میں اجازت دی اور گفتگو فرمائی،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حاضری کا اذن کیا تو انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دی اور ان گفتگو فرمائی اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حاضری کی اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور لباس مبارک کو درست فرمایا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بات چیت کرتے رہے جب آپ چلے گئے تو میں نے عرض کی حضرات ابوبکر عمر آئے تو آپ نے تکلف نہیں فرمایا لیکن حضرت عثمان کی آمد پر آپ اٹھ بیٹھے اور لباس کو درست فرمایا اس کا کیا سبب ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)

جو تنگی والے لشکر کے لیے تیاری کا سامان مہیا کرے تو اس کے لیے جنت ہے یہ فرمان عالی شان سن کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کے لیے سامان پیش کیا۔

اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص اٹھ کر اپنے ہم پلہ کے پاس چلا جائے یہ فرما کر نبی کریم ﷺ اٹھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور انہیں گلے لگا کر ارشاد فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے دوست ہو۔

سرکار مدینہ ﷺ نے اپنے مرض وصال میں ارشاد فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے کوئی میرے پاس ہو حاضرین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بلانے کے بارے میں پوچھا تو آپ خاموش رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق دریافت کیا تو بھی آپ نے سکوت فرمایا تیسری بار عرض کی گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس بلا لائیں ارشاد فرمایا ہاں چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہو کر خدمت اقدس میں تنہا بیٹھ گئےاب نبی کریم ﷺ نے کچھ گفتگو فرمائی جسے سن کر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا جب خلافت کے آخری دنوں میں باغیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے مکان عالیشان کا محاصرہ کر لیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا اور میں اس پر صبر کروں گا۔ (ابن ماجہ، 1/80، حدیث: 113 )

رسول اللہ ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سر دھو رہی تھی آپ نے ارشاد فرمایا اے میری بیٹی ابو عبداللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے بہت مشابہ ہیں۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)

رسول اللہ ﷺ اپنی اس شہزادی کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور ارشاد فرمایا اگر میری دس بیٹیاں ہوتی تو میں ضرور ان سب کا نکاح عثمان سے کر دیتا اور میں نے صرف آسمان سے آنے والی وحی پر ان کے ساتھ یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح کروایا ہے۔ (معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)

اللہ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین

آقا جان ﷺ کو اپنے صحابہ کرام رضی الله عنہ سے بہت محبت تھی اور ان میں حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کا مقام بہت بلند تھا۔ آپﷺ حضرت عثمان رضی الله عنہ سے خاص محبت فرماتے تھے کیونکہ وہ بہت نیک، نرم دل، اور سخی انسان تھے۔حضرت عثمان نے دین اسلام کے لیے بڑی قربانیاں دیں اور آپﷺ کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے رہے۔ نبی کریمﷺ نے ان سے کئی بار محبت کا اظہار بھی فرمایا اور اپنی دو بیٹیاں ان کے نکاح میں دیں، اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والے کہا جاتا ہے۔

1۔ حضرت عثمان غنی سے حیا: حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں: ایک دن رسول الله ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ کے کپڑے مبارک ران سے کچھ ہٹے ہوئے تھے اتنے میں حضرت ابو بکر رضی الله عنہ اندر تشریف لائے، تو آپ اسی حالت میں لیٹے رہے اور ان سے باتیں کرتے رہے۔ پھر حضرت عمر تشریف لائے، آپ اسی طرح رہے اور ان سے بھی بات کرتے رہے۔ لیکن جب حضرت عثمان غنی تشریف لائے تو رسول الله اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے مبارک درست کر لئے۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا: یا رسول الله! جب ابو بکر اور عمر تشریف لائے تو آپ نے کچھ خیال نہ کیا، لیکن عثمان کے تشریف لانے پر آپ سنبھل کر بیٹھ گئے؟تو آپﷺ نے فرمایا:کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟ (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)

2۔ کوئی بھی عمل نقصان نہیں دے گا: رسول اللهﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب ارشاد فرمائی تو حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ نے ایک ہزار دینار لا کر آپﷺ کی گود میں رکھ دیئے۔تو رسول اللهﷺ نے دیناروں کو اپنے ہاتھ مبارک سے الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: آج کے بعد عثمان کوئی بھی عمل کریں گے وہ انہیں نقصان نہیں دے گا۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:3720)

3۔ جنت میں رفیق: نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان غنی کے بارے میں فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوتا ہے اور (جنت میں) میرا رفیق عثمان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

4۔ شفاعت کی بشارت:نبی کریمﷺ نے ایک ہی موقع پر دس صحابہ کرام رضی الله عنہم کو زندگی میں ہی جنت کی بشارت عطا فرما دی۔ جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے ان میں عثمان غنی رضی الله عنہ بھی شامل ہیں جن کو دنیا میں رہتے ہوئے جنت کی خوشخبری سے نوازا گیا۔

نبی کریمﷺ کا صحابہ کرام سے محبت کا انداز انتہائی دلنشین، نرم، مشفقانہ اور دل کو چھو لینے والا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نہ صرف ان سے محبت کرتے بلکہ ان پر اعتماد کرتے، ان کی عزت کرتے، ان کے جذبات کا خیال رکھتے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے جیسے وہ سب آپﷺ کے بہت قریبی عزیز ہوں۔

رسول الله ﷺ کی حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے محبت ایک گہری، خالص اور باعمل محبت تھی، جو صرف جذباتی نہیں بلکہ کردار، قربانی، حیاء، اور دین کے لیے دی گئی خدمات پر مبنی تھی۔ نبی کریمﷺ کا حضرت عثمان بن عفان سے محبت کا انداز ہمیں کئی پہلوؤں سے سیکھنے کی دعوت دیتا ہےکہ ایمان، اخلاص اور قربانی کے بدلے میں محبت اور اعتماد کا اظہار کرنا سنت نبویﷺ ہے۔اچھے اخلاق کی قدر کرنا اور ان خوبیوں کو دوسروں کے سامنے سراہنا بھی سنت نبوی ﷺ ہے۔نبی کریمﷺ نے دنیاوی مفادات کے بغیر صحابہ کرام سے محبت کی، جو صرف دین اور کردار کی بنیاد پر تھی۔

نبی کریمﷺ کی حضرت عثمان رضی الله عنہ سے محبت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت الفاظ سے نہیں، عمل سے ظاہر کی جاتی ہے۔ محبت میں اعتماد، عزت، رشتہ اور دعا سب شامل ہیں۔

الله سے دعا ہے کہ ہمیں بھی آقا جانﷺ سے محبت کا ایک قطرہ نصیب فرمائے، آپ کی کی سنتوں کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حضور ﷺ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور انہیں مختلف القابات اور اعزازات سے نوازا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے داماد اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے نبی کریم ﷺ نے انہیں ذوالنورین کا لقب عطا فرمایا تھا جس کا مطلب دو نوروں والا اس کی وجہ سے یہ تھی کہ انہوں نے آپ ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس نے صحابہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے صحابہ سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔

رسول اللہ ﷺ نے دو شہزادیاں حضرت عثمان کے نکاح میں دی ایک کے بعد ایک کو حضور ﷺ کی وہ صاحبزادیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما تھی۔

حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری سو بیٹیاں ہوتی تو ایک فوت ہوتی تو دوسری بیٹی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا دوسری فوت ہوتی تو تیسری پھر ایسے ہی سو بیٹیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آسمان والوں کے لیے نور ہیں اور زمین والوں اور جنت والوں کے لیے چراغ ہیں۔

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے تھے اپنی رانیں یا پنڈلیاں کھولے تو جناب ابوبکر نے اجازت مانگی انہیں اجازت دی اسی حالت پر انہوں نے کچھ بات چیت کی پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی پھر انہوں نے بھی بات چیت کی پھر جناب عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے جب وہ چلے گئے تو جناب عائشہ نے کہا کہ جناب ابوبکر آئے آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے نہ جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے پھر تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے تو فرمایا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)اور ایک روایت میں ہے کہ جناب عثمان شرمیلے آدمی ہیں مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت پر اجازت دے دی تو وہ مجھ تک اپنی حاجت نہ پہنچا سکیں گے۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/432، تحت الحدیث: 6070 )

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کا حکم دیا تو عثمان رسول اللہ ﷺ کے قاصد تھے مکہ کی طرف حضور ﷺ نے لوگوں سے بیعت لی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عثمان اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں گئے ہیں پھر حضور ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ان کے ہاتھ سے بہتر ہو گیا جو ان کے اپنے لیے تھا۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)

ایک آدمی نے حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کیا: جنت میں بجلی ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! بے شک عثمان رضی اللہ عنہ جب جنت میں منتقل ہوں گے تو پوری جنت اس کی وجہ سے چمک اٹھے گی۔

اللہ ہمیں صحابہ کرام سے سچی محبت نصیب فرمائے۔ آمین