حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت محمد اسحاق، جامعۃ المدینہ قادرپوراں ملتان
نبی کریم ﷺ کو
اپنے تمام صحابہ سے محبت تھی۔آپ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے ان کے مال، جان
اور اولاد میں خیر وبرکت کی دعائیں فرماتے، اپنے اصحاب کی دل جوئی فرماتے۔ صحابہ
کرام علیہم الرضوان میں سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آقا ﷺ کی بہت ہی محبت پائی۔
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ ان صحابہ کرام علیہم الرضوان
میں سے ہیں جن کو دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت ملی۔آپ رضی اللہ عنہ قطعی جنتی
ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تیسرے
خلیفہ ہیں۔
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کی بھی کیا شان ہے اللہ
پاک کے نبی کا داماد ہونے کی حیثیت سے جو خصوصیت اور انفرادیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی وہ کائنات میں کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی۔ حضرت
آدم علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ تک کسی کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں
آئیں لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب جنتی صحابی ہیں کہ جن کے نکاح
میں کسی اور نبی کی نہیں بلکہ نبیوں کے سردار، جناب احمد مختار ﷺ کی دو صاحبزادیاں
ایک کے بعد دوسری نکاح میں آئیں۔ اسی سے آپ کا ایک لقب ذوالنورین بھی ہے۔
اللہ پاک کے
پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: اگر میری دس
بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ایک بعد دوسری سے تمہارا نکاح کر دیتا۔ (معجم کبیر، 22/
436، حدیث: 1061 )
جب حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں آئے تو آپ ﷺ نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور
فرمایا: میں اس شخص سے کیوں نہ حیا کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(تاریخ
الخلفاء، ص 201)
جب رسول اللہ
ﷺ نے بیعت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اہل مکہ کی طرف بطور قاصد گئے
ہوئے تھے جب لوگوں نے بیعت کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کام گئے ہوئے ہیں یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنا
ایک ہاتھ دوسرے پہ رکھا اور فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ کا دست
مبارک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے اب تمام ہاتھوں سے بہتر تھا۔ (تاریخ
الخلفاء، ص 208)
حضور نے فرمایا:
ہر ایک کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی (جنت میں) عثمان ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث:
3898)
ایک روایت میں
ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے اپنے رب سے
دعا کی: مولا میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا ہےتو کل قیامت اس کا حساب نہ لینا کہ وہ
شرم وحیا کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑے ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح،
10/432، تحت الحدیث: 6070 )
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ بارہ سال خلافت فرما کر 18 ذالحجہ الحرام سن 35 ہجری میں بروز
جمعہ روزے کی حالت میں تقریبا 82سال کی عمر مبارک پا کر نہایت مظلومیت کے ساتھ
شہید کئے گئے۔شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے رحمت عالم ﷺ کو
خواب میں فرماتے سنا:بے شک عثمان کو جنت میں عالی شان دولہا بنایا گیا ہے۔ (ریاض
النظرۃ، 3/ 73)
اللہ پاک کی
ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین
ملی
تقدیر سے مجھ صحابہ کی ثنا خوانی ملا
ہے فیض عثمانی ملا ہے فیض عثمانی
Dawateislami