حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ایک مرتبہ ذکر خیر ہونے لگا تو نواسہ رسول حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابھی امیر المؤمنین تشریف لائیں گے۔ پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جن کی شان میں قرآن کریم میں یہ فرمان نازل ہوا: لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳) (پ 7، المائدة: 93) ترجمہ کنز الایمان: جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، 17/91، حدیث: 32723)

یوں تو آخری نبی ﷺ کی مبارک صحبت پانے والا اور پھر حالت ایمان میں دنیا سے جانے والا ہر مسلمان اہل ایمان کے سر کا تاج ہیں لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شان نرالی ہے۔ عثمان غنی کے علاوہ کسی صحابی کے نکاح میں حضور انور ﷺکی دو شہزادیاں نہیں آئیں اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

شفقت مصطفی مرحبا: ایک روایت میں ہے سرکار ﷺ نے دعا کرتے ہوئے عرض کیا: مولی ٰ! میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا ہے۔ تو کل قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کہ وہ شرم و حیا کی وجہ سے تیرے سامنے کھڑے ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/432، تحت الحدیث: 6070 )

ہمارے آقا ﷺ عثمان غنی سے بے حدد محبت فرماتے تھے اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ حضرت عبد الله فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغی گروہ نے عثمان غنی کے مکان کا محاصرہ کیا تھا ان کے گھر پانی کا ایک قطرہ نہ تھا اور عثمان غنی پیاس کی شدت سے تڑپ رہے تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو آپ اس دن روزہ دار تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا: اے عبد الله بن سلام میں نے آج رات تاجدار رسالت ﷺ کو اس روشن دان میں دیکھا آپ ﷺ نے بے حد مشفقانہ لہجے میں فرمایا: اے عثمان ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں بے قرار کر دیا ؟ میں نے عرض کی: جی ہاں ! تو فورا آپﷺ نے ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا میں اس سے سیراب ہوا اور اس وقت بھی پانی کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں میں محسوس کر رہا ہوں۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو ان لوگوں کے مقابلے میں تمہاری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو، میں نے عرض کی آپکے پاس آنا مجھے زیادہ عزیز ہے عبد الله بن سلام فرماتے ہیں کہ اسی دن ان باغیوں نے آپکو شہید کر دیا۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 3/74، رقم: 109)

کئی دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی

شہادت حضرت عثمان کی بے شک ہے لاثانی

محبت سرکار ﷺ: رسول ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ (اپنے شوہر ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا سر دھو رہی تھیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے بہت مشابہ (یعنی ملتی جلتی ) ہے۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)

رک جائیں مرے کام حسن ہو نہیں سکتا فیضان مدد گار ہے عثمان غنی کا

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور انکے صدقے ہماری بے حساب بخشش ہو۔