حضور
کی اصحابِ اُحد سے محبت از بنت محمد نواز، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اسلامی تاریخ
میں غزوۂ اُحد ایک اہم اور سبق آموز معرکہ ہے۔ یہ جنگ 3 ہجری میں پیش آئی جس میں
مسلمانوں کو بظاہر وقتی آزمائش کا سامنا کرنا پڑالیکن اس معرکے نے صحابۂ کرام رضی
اللہ عنہم کی وفاداری قربانی اور عشقِ رسول کو نمایاں کر دیا حضور نبی کریم ﷺ کی
اپنے جانثار صحابہ سے محبت اس موقع پر اور بھی زیادہ ظاہر ہوئی آپ ﷺ نے ان کی
لغزشوں پر درگزر فرمایازخمیوں کی دلجوئی کی اور شہداء کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ
لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ
الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ (پ 4،
آل عمران: 159) ترجمہ: تو اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل
ہوئے اور اگر تم تند خو سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے چھٹ جاتے تو انہیں معاف
فرما دو اور ان کے لیے بخشش مانگو۔
یہ آیت غزوۂ
اُحد کے بعد نازل ہوئی جب بعض صحابہ سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے
محبوب ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ اس سے
معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا دل اپنے صحابہ کے لیے سراپا رحمت تھا آپ ﷺ نے کسی کو ملامت
نہ کیا بلکہ محبت اور شفقت کا مظاہرہ فرمایا۔
حضور ﷺ نے
فرمایا: اُحد ایک پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری،
3/45، حدیث 4083) یہ فرمانِ نبوی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو میدانِ اُحد اور
وہاں کے جانثاروں سے خاص محبت تھی۔
اسی معرکے میں
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے جامِ شہادت نوش کیا حضور ﷺ شہدا کے جسدِ
اطہر کے پاس تشریف لائے ان کے لیے دعا فرمائی اور فرمایا کہ قیامت کے دن یہ اپنے
زخموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن سے خون بہہ رہا ہوگا مگر خوشبو مشک کی ہوگی۔ (بخاری،
2/254، حدیث: 2803)یہ آپ ﷺ کی محبت اور وفاداری کی روشن دلیل ہے۔
مزید برآں جب
بعض صحابہ زخمی ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور ان کی دلجوئی کی حتیٰ
کہ جن سے وقتی کوتاہی ہوئی ان کو بھی اپنی محبت سے محروم نہ فرمایا غزوۂ اُحد کا
واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنے اصحاب سے بے پناہ محبت فرماتے
تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی اصحابِ اُحد سے محبت صبر، عفو، دعا اور دلجوئی کی شکل میں
ظاہر ہوئی یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم بھی اپنے ماتحتوں اور ساتھیوں کے
ساتھ محبت برداشت اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کریں تو باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے
اور اللہ کی مدد شاملِ حال ہوگی۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں سیرتِ نبوی کو اپنانے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے
آپ ﷺ نے خطا پر درگزرکمزوری پر حوصلہ افزائی اور شہادت پر فخر کا اظہار فرمایا یہ
اسوہ ہمیں بھی سکھاتا ہے کہ قیادت میں نرمی معافی اور محبت بنیادی اوصاف ہیں اگر
ہم بھی اپنے تعلقات میں رحم عفو اور خیر خواہی کو اپنائیں تو معاشرہ امن اور محبت
کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
Dawateislami