حضور جان عالم
ﷺ کو اپنے صحابۂ کرام سے بے حد محبت تھی۔ صحابہ کرام وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے
حضور ﷺ کی صحبت اختیار کی اور دینِ اسلام کے لیے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کر
دیا۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا اور اسلام کی حفاظت کے لیے بڑی
قربانیاں پیش کیں۔ انہی عظیم صحابہ میں شہدائے اُحد بھی شامل ہیں جنہوں نے اللہ
تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ یہ واقعہ جنگ احد میں پیش آیا جو
اسلام کی تاریخ کا ایک اہم معرکہ ہے۔
جنگِ اُحد
مدینہ منورہ کے قریب احد پہاڑ کے دامن میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے بڑی
بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ میں مسلمانوں کو کچھ مشکلات پیش
آئیں، مگر صحابہ کرام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں
قربان کر دیں۔ اس جنگ میں تقریباً ستر صحابہ کرام شہید ہوئے۔ ان میں حضور ﷺ کے
پیارے چچا حضرت حمزہ بن حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے جنہیں سید
الشہداء کہا جاتا ہے۔
جب حضرت حمزہ
رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ شہید ہوئے تو حضور ﷺ کو بہت زیادہ غم ہوا، کیونکہ آپ
ﷺ اپنے صحابہ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے صبر کیا اور
اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔ حضور ﷺ اکثر شہدائے اُحد کی قبروں کی زیارت کے
لیے تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو
اپنے شہید صحابہ سے کتنی محبت تھی۔
احادیث مبارکہ
میں بھی حضور ﷺ نے شہداء کی عظمت بیان فرمائی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ
کی راہ میں زخمی ہوتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون
نکل رہا ہوگا جس کا رنگ خون کا ہوگا مگر خوشبو مشک کی ہوگی۔ (بخاری، 2/254، حدیث:
2803)
ایک اور حدیث
میں آتا ہے کہ حضور ﷺ شہدائے اُحد کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے لیے دعا
فرمائی۔ (بخاری، 3/33، حدیث: 4042)
Dawateislami