تشبیہ کا مطلب ہے کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز سے کسی خاص وجہ سے ملانا یا اس سے مشابہ قرار دینا۔ علم بیان کی اصطلاح میں، جب کسی ایک چیز کو کسی خاص وصف یا خوبی کی بنیاد پر کسی دوسری چیز سے مشابہ قرار دیا جائے تو اسے تشبیہ کہتے ہیں۔

حضور ﷺ نے اپنی امت کی تشبیہات سے تربیت فرمائی ہے آیئے ان کا مطالعہ کرتے ہیں:

حدیث نمبر 1: سخی اور بخیل کی تشبیہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (فیضان ریاض الصالحین حدیث نمبر 560 جلد 5 صفحہ 237 مکتبۃ المدینہ)

حدیث نمبر 2، انسان کے دین کو نقصان : حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “ (فیضان ریاض الصالحین حدیث نمبر 485 جلد 4 صفحہ 721 مکتبۃ المدینہ)

حدیث نمبر 3: آپ ﷺ کی اپنی امت پر شفقت: حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 163 جلد 2 صفحہ 531 مکتبۃ المدینہ)

حدیث نمبر 4،ویران گھر کی طرح : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ (فیضان ریاض الصالحین حدیث 1000 جلد 7)

حدیث نمبر 5، قرآن پڑھنے والے کی مثال : حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“( فیضان ریاض الصالحین حدیث 995 جلد 7)

اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے اور حضور ﷺ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین