نبی کریم  ﷺ کا سمجھانے کا طریقہ بہت منفرد اور با کمال تھا۔کبھی آپ مثال کے ذریعے تربیت فرماتے ہیں تو کبھی تشبیہات کے ذریعے۔ آئیے احادیث میں سے چند احادیث پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے تشبیہ کے ساتھ تربیت فرمائی:

(1) جنت و جہنم جوتے کے تسموں سے زیادہ قریب ہے : عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔(بخاری،کتاب الرقاق،باب الجنۃ اقرب۔۔ الخ،4/243/6488)

(2) علم سیکھنے اور سکھانے والے کی مثال : حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔تو پہلی اس شخص کی مثال ہے جس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔اور دوسری اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس علم کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔)(مسلم،کتاب الفضائل،باب بیان مثل مابعث النبی من الہدوالعلم،253حدیث/2282)

(3) لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح ہیں: ترجمہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر تھے، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ دنیا میں مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ دنیا میں الگ رہتی ہیں ۔ (مسلم کتاب البروالصلۃ والاداب،باب الارواح جنود، ص1418،حدیث ،2638)

(4) بھیڑیوں سے زیادہ خطرناک: ترجمہ حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہرسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔(ترمذی، کتاب الزھد،باب43,4/166,حدیث:2383)

(5)سخی اور بخیل کی مثال: حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (بخاری کتاب الزکوۃ باب مثل المتصدق و البخیل،1/482،حدیث/1443بتغیرقلیل )

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین