حافظ محمد ریحان عطاری (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ امیر معاویہ شاہدرہ لاہور ، پاکستان)
اللہ پاک نے نبی کریم ﷺ کو اعلیٰ
درجے کی فصاحت و بلاغت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کے کلام میں سلاست، وضاحت، سادگی اور
گہرائی تھی۔ آپ ﷺ نے دعوتِ اسلام، نصیحت، تعلیم و تربیت، اور سمجھانے کے لیے مثالی
انداز اپنایا جس میں تشبیہات یعنی مثالوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ یہ مثالیں نہایت
سادہ، فطری اور مخاطبین کے ماحول کے مطابق ہوتیں تاکہ دل و دماغ میں بات اتر جائے۔
تشبیہ کا مقصد محض ادبی حسن پیدا کرنا نہیں بلکہ مفہوم کو واضح کرنا اور سننے
والوں کے ذہن میں بات کو نقش کر دینا ہوتا ہے۔ تشبیہات کے ذریعہ آپ ﷺ کی چند نصیحتیں:
(1) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مثال: رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ
أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ(الترمذی، ج4، ص477، حدیث:
2869)ترجمہ: ”میری اُمّت کی مثال بارش کی طرح ہے، نہ معلوم اس کے اول میں خیر ہے یا
آخر میں۔“
اس تشبیہ سے امت کے ہر دور کے
افراد میں نیکی اور خیر کی امید دلائی گئی ہے۔
(2) نیک اور بُرے ساتھی کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ
السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ: إِمَّا
أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا
أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً (بخاری، ج2، ص905، حدیث: 2101)
ترجمہ: ”نیک ساتھی کی مثال عطار
(خوشبو فروش) کی مانند ہے، اور بُرے ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کی مانند ہے،
عطار یا تو تمھیں خوشبو دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم اچھی خوشبو پاؤ
گے، اور لوہار یا تو تمھارے کپڑے جلائے گا یا بدبو محسوس کرو گے۔“
یہ تشبیہ نہایت عام فہم اور
مؤثر ہے، جو اچھے دوست کے فائدے اور برے دوست کے نقصان کو نمایاں کرتی ہے۔
یہ تشبیہ قرآن کی ہدایت کے ساتھ
مضبوط وابستگی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
(3) نماز کی مثال: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: أَرَأَيْتُمْ
لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا،
هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ،
قَالَ: فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ
الْخَطَايَا (بخاری، ج1، ص88، حدیث: 528) ترجمہ:
”نماز ایسے ہے جیسے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ دن میں پانچ بار اس میں غسل
کرے تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل رہے گا؟ صحابہ نے عرض کی: نہیں، فرمایا: ”یہی پانچ نمازیں ہیں،
اللہ ان کے ذریعے گناہ مٹا دیتا ہے۔“
یہ تشبیہ نماز کی روحانی صفائی
کو جسمانی صفائی کی مثال سے سمجھاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی یہ تشبیہات نہ
صرف بات کو سمجھنے میں آسانی فراہم کرتی ہیں بلکہ سننے والوں کے دل و دماغ پر دیرپا
اثر ڈالتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان نصیحتوں کو ہمیشہ یاد
رکھا اور اپنے عمل کا حصہ بنایا۔
قرآنی مثال بھی بطورِ تائید: قرآن پاک میں بھی اللہ پاک نے تشبیہات کے ذریعے بات کو واضح فرمایا:
مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا
التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاؕ- ترجمۂ کنزالایمان: ان کی مثال
جن پر توریت رکھی گئی تھی پھر انہوں نے اس کی حکم برداری نہ کی گدھے کی مثال ہے جو
پیٹھ پر کتابیں اٹھائے۔ (پ 28، الجمعۃ: 5)
تشبیہات کا انداز، تعلیم و تربیت کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔ نبی کریم ﷺ
کا یہ اسلوب علم و حکمت کی روشنی سے بھرپور ہے ۔
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami