دنیا کی کسی بھی زبان میں  جب ایک بات کو عام فہم انداز میں سمجھایا جاتا ہے تو اس میں ایک بہت ہی اہم کردار تشبیہات کا بھی ہوتا ہے یہ ایک بہترین اور خوبصورت ذریعہ ہے کہ اپنی بات کو با آسانی دوسرے کو سمجھایا جائے ۔ دنیا میں کوئی بھی زبان ہو یا لٹریچر چاہے آسمانی ہو یا انسانی ۔ وہ تشبیہات سے خالی نہیں ،اللہ رب العزت نے بھی قرآن پاک میں کثیر مقامات پر تشبیہات بیان فرمائی اور نبی پاک ﷺ نے بھی بہترین انداز میں تشبیہات کو بیان فرما کر جامع انداز کے اندر امت کی تربیت فرمائی ۔

قارئین کرام ! آئیں نبی پاک ﷺ کے حکمت بھرے فرامین پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے، پس اگر وہ اُس میں کوئی تکلیف دہ (عیب یا خرابی) چیز دیکھے تو اُسے اُس سے دور کر دے۔"(سنن ترمذی ، ابواب البر والصلۃ باب ما جاء فی شفقۃ المسلم على المسلم ، حديث 1929 ،ج 4 ص 325)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَنْكِبِي فَقَالَ:كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: "دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو، یا راستہ عبور کرنے والے مسافر کی طرح۔" (صحيح البخاری بَاب: قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: (كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ) الحدیث 6416 ج8،ص89)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ: فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الخَطَايَا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی پاک ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کیا تم دیکھتے ہو کہ اگر تمہارے دروازے کے پاس ایسی ایک ندی بہتی ہو جس میں تم روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرو، تو کیا وہ کبھی تمہارے بدن سے نجاست یا میل کچیل باقی چھوڑے گا؟ لوگ بولے نہیں، وہ بدن سے کوئی میل نہیں چھوڑتا نبی کریم ﷺ نے فرمایا :بے شک پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہی ہے اللہ تعالٰی ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحيح البخاری،كتاب مواقيت الصلاة،الصلاة الخمس كفارة، ج1، ص112، الحدیث 528، دار طوق النجاح)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِي اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم: مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے اہل بیت کا مثال نوح کی کشتی کے جیسی ہے جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ غرق ہوگیا۔ (مسند بزار، مسند ابن عباس، ج11، ص329، الحدیث 5142 مكتبۃ العلوم و الحكم)

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں تو تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، حضرات صحابہ کے فضائل،جلد:8 ، حدیث نمبر:6018)

سبحان الله!کیسی نفیس تشبیہ ہے حضور نے اپنے صحابہ کو ہدایت کے تارے فرمایا اور دوسری حدیث میں اپنے اہلِ بیت کو کشتی نوح فرمایا،سمندر کا مسافر کشتی کا بھی حاجت مند ہوتا ہے اور تاروں کی رہبری کا بھی کہ جہاز ستاروں کی رہنمائی پر ہی سمندر میں چلتے ہیں،اسی طرح امتِ مسلمہ اپنی ایمانی زندگی میں اہلِ بیت اطہار کے بھی محتاج ہیں اورصحابہ کرام کی بھی حاجت مند۔امت کے لیے صحابہ کی اقتداء(پیروی) میں ہی اہتداء یعنی ہدایت ہے۔

اللہ پاک ہمیں نبی پاک ﷺ کے فرامین پڑھ کر ان پر عمل کر کے اپنی زندگی کو بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبیین ﷺ