محمد فہد عطاری (درجہ اولی جامعۃ المدینہ فیضان
ابو عطار کراچی ،پاکستان)
نبی پاک ﷺ کو اللہ پاک نے دنیا
میں سب سے اعلیٰ و افضل مقام و مرتبہ عطا فرمایا اور ہدایت کا سرچشمہ بنا کر دنیا
میں مبعوث فرمایا۔ نبی پاک ﷺ نے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے کئی طریقے اختیار
فرمائے جن کے ذریعے لوگوں کو آپ ﷺ کی بات سمجھنا آسان ہو جائے۔ ہر زبان میں چند ایسے
طریقے ہوتے ہیں جن کے ذریعے مخاطب با آسانی بات سمجھ لیتا ہے۔ انہی طریقوں میں سے
ایک طریقہ "تشبیہ" ہے۔ تشبیہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز سے
اس صفت کی بنا پر مشابہت دینا جو دونوں میں پائی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں تک
اپنا پیغام پہنچانے کے لیے کئی حکمت بھرے طریقے اختیار فرمائے، انہیں طریقوں میں
سے ایک نہایت بلیغ اور مؤثر طریقہ تشبیہ کو بھی اختیار فرمایا ، چند احادیثِ کریمہ
ملاحظہ فرمائیں:
(1)نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی مثال جو قرآن کریم
پڑھتا ہے سنگترے جیسی ہے کہ ذائقہ اچھا اور خوشبو بھی اچھی اور جو قرآن مجید نہ
پڑھے وہ کھجور کی طرح ہے کہ اس کا ذائقہ اچھا لیکن خوشبو نہیں ہوتی۔ ( بخاری، کتاب
فضائل القرآن ،باب فضل القرآن علی سائر الکلام ،ج 3 ،ص 1292، حدیث 5020 دار
الفکر)
اس حدیث پاک میں مومن کو قرآن
کریم پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ مومن کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرکے اپنے
ظاہر و باطن کو معطر کرے۔
(2) الله پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: اچھے اور برے
ہم نشین کی مثال خوشبو والے اور لوہار جیسی ہے کہ مشک سے کوئی فائدہ حاصل کر کے ہی
واپس لوٹو گے یا تو اسے خریدو گے ورنہ خوشبو تو پاؤ گے اور لوہار کی بھٹی تمہارے
جسم یا کپڑے کو جلائے گی ورنہ اس کی بدبو تو تمہیں پہنچے گی ۔ (بخاری کتاب البیوع
باب في العطار وبيع المسك ص 499 حدیث 2101 دار الفکر)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ ہمیں
نیک صحبت اختیار کرنی چاہیے کیونکہ نیکوں کی صحبت انسان کو نیک بنا دیتی ہے اور
برے لوگوں کی صحبت انسان کو برا بنا دیتی ہے جیسا کہ فارسی کا مشہور شعر ہے۔
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند
یعنی نیک آدمی کی صحبت تجھے نیک بنا دیتی ہے اور
برے آدمی کی صحبت تجھے برا بنا دیتی ہے۔
(3) مؤمن اور کافر کی آزمائش میں
مثال: الله پاک کے آخری نبی ﷺ نے
ارشاد فرمایا: مومن کی مثال کھیتی کے پودوں کی طرح ہے جنہیں ہوا کبھی جھکاتی اور
کبھی سیدھا کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے کہ ہمیشہ ایک
حالت میں رہتا ہے اور ہوا ایک ہی مرتبہ اسے جٹ سے اکھاڑ پھینکے۔ (بخاری، کتاب
المرضی ، باب ما جاء فی کفارۃ المرض ، ص 1443 ، حدیث :5643 ، دار الفکر)
اس حدیث پاک میں مومن کو نرم کھیتی
سے تشبیہ دی ہے کہ جب ہوا اسے الٹتی ہے تو وہ نرم کھیتی بچھ جاتی ہے جب ہوا اسے سیدھا
کرتی ہے تو وہ سیدھی ہو جاتی ہے اسی طرح مومن کے پاس اللہ پاک کا حکم آتا ہے تو وہ
اکڑتا نہیں ہے بلکہ وہ اس پر عمل کرتا ہے جبکہ اس کے برعکس کافر کو صنوبر سے تشبیہ
دی ہے کہ یہ درخت انتہائی اکڑ والا ہوتا ہے اسے ہواؤں کا کوئی اثر نہیں لگتا لیکن یہ
اچانک ہی اکھڑ کر گر جاتا ہے تو اسی طرح کافر کو دنیا میں بظاہر تکلیفیں نہ پہنچیں
لیکن آخرت میں اسے دردناک عذاب ہوگا۔
Dawateislami