انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ مثال اور تشبیہ کے ذریعے بات کو زیادہ آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ گہری حقیقت اور باریک نکتہ اگر محض الفاظ میں بیان کیا جائے تو عام ذہن کے لیے کبھی مشکل ہو جاتا ہے، لیکن جب اسی بات کو کسی قریب الفہم مثال یا تشبیہ سے بیان کیا جائے تو وہ دل و دماغ میں اتر  جاتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات میں اس اسلوب کو نہایت حکمت اور کمال فصاحت کے ساتھ استعمال فرمایا۔ آپ ﷺ کبھی کسی عملی حالت کو مثال بنا دیتے، کبھی فطرت کے کسی منظر کو، اور کبھی روزمرہ زندگی کی چیزوں کو دلیل بنا کر دین کی حقیقت واضح فرما دیتے۔ اس طرح سننے والے نہ صرف بات کو سمجھتے بلکہ اسے یاد بھی رکھتے اور زندگی میں اس پر عمل کرنے میں آسانی محسوس کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے فرمودات میں بیان ہونے والی تشبیہات آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ ہمارے سامنے ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔( مراۃ المنا جیح، شرح مشکاۃ، مثابیح ، جلد 4 حدیث نمبر 3018)

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ ہمیں کسی کو دیکھ کر اس سے وہ چیز واپس طلب نہیں کرنی چاہیے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص اس کتے کی طرح ہے ۔اللہ ہمیں ہمیشہ دینے والوں میں سے بنائے کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اللہ ہم پر نوبت نہ لائے ایک ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے:

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کے سینے میں قران نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد 7 حدیث نمبر 1000)

میرے پیارے اسلامی بھائیو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں قرآن پاک نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے جیسے کہ ویران گھر میں جالے لگ جاتے ہیں ویران گھر میں جن آ جاتے ہیں اسی طرح جب انسان کے دل میں قرآن پاک نہیں ہوتو انسان کے دل میں بھی شیطان قبضہ کر لیتا ہے پھر وہ دل شیطان کے قبضے سے چلتا ہے نہ کہ اس انسان کے کہنے پر۔

اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


نبی اکرم حضرت محمد ﷺ   ایک کامل معلم بھی ہیں ۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی اخلاقی، روحانی، سماجی اور فکری تربیت کے لیے مختلف حکیمانہ طریقے اختیار فرمائے، جن میں سے ایک مؤثر طریقہ تشبیہات (مثالوں) کے ذریعے تعلیم و تربیت دینا تھا۔

تشبیہات کا استعمال انسانی فہم کو آسان بناتا ہے۔ ایک پیچیدہ بات جب کسی جانی پہچانی چیز سے تشبیہ دے کر بیان کی جاتی ہے تو وہ سننے والے کے دل و دماغ پر زیادہ گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ آپ ﷺ نے بھی اس طریقے کو اختیار فرمایا اور نہایت سادہ اور جامع مثالوں سے لوگوں کے دلوں میں حقائق بٹھا دیے۔

(1) روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک تو وہ جو ترجمے سے ظاہر ہوئے کہ اگر اس سے بدتر کوئی مثال ہمارے پاس ہوتی تو ہم وہ پیش فرماتے مگر ہے نہیں کیونکہ کوئی جانور اپنی قے نہیں کھاتا۔اس صورت میں لنا سے مراد خود اپنی ذات کریم ہے۔دوسرے یہ کہ بدترین مثال ہم لوگوں کے لیے نہیں ہونی چاہیے یعنی کوشش کرو کہ یہ کہاوت ہم پر چسپاں نہ ہو۔اس صورت میں لَنَا سے مراد عام مسلمان ہیں حضور انور ﷺ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:3018)

(2) حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

ویران گھر سے تشبیہ دینے سے مراد : مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔

(3) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ: مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے لیے چلنا دشوار ہوجائے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

نبی کریم ﷺ کی دعوت و تربیت کا انداز نہایت حکیمانہ اور دل نشین تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعے تعلیماتِ اسلام کو اس انداز میں پیش فرمایا کہ سامعین کے دلوں میں وہ گہرائی سے اتر گئیں۔ آپ ﷺ نے تشبیہات اور مثالوں کا استعمال کر کے دین کی باتوں کو عام فہم، دلچسپ اور مؤثر بنایا۔ کبھی دین دار شخص کو بارش جیسا مفید فرمایا، تو کبھی مسلمان کی مثال کھجور کے درخت سے دی، جو ہر حالت میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ اسی طرح، برے انسان کی مثال دیے کی مانند دی جو خود جلتا ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔

آپ ﷺ کی تشبیہات میں حکمت، بصیرت اور فطری مثالوں کی خوبصورتی پوشیدہ تھی، جو نہ صرف دل کو چھوتی تھیں بلکہ عملی زندگی میں راہنمائی بھی فراہم کرتی تھیں۔ ان تشبیہات کے ذریعے اخلاق، ایمان، تقویٰ، اخلاص اور عبادات جیسے موضوعات کو دلنشین انداز میں سمجھایا گیا۔ آپ ﷺ کا یہ طریقہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے عمل میں مثالوں اور تشبیہات کا استعمال کس قدر مؤثر ہو سکتا ہے۔

یقیناً، نبی مکرم ﷺ کا یہ اندازِ ترغیب و تربیت ہمارے لیے ایک نمونہ ہے کہ ہم بھی بات کو سمجھانے اور دوسروں کو نیکی کی طرف مائل کرنے کے لیے نرم، حکیمانہ اور پرکشش طریقہ اپنائیں، تاکہ پیغامِ حق دلوں میں اتر جائے۔

اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ  ﷺ کی حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ کی تعلیمات صرف اقوال تک محدود نہ تھیں، بلکہ آپ نے اپنے عمل، حکمت، اور بہترین اسلوبِ بیان کے ذریعے لوگوں کی تربیت فرمائی۔ ان میں سے ایک مؤثر طریقہ تشبیہات کا استعمال تھا، جس سے آپ نے پیچیدہ باتوں کو آسان، عام فہم اور دل نشین انداز میں لوگوں کے ذہن نشین فرمایا۔

(1) صحابہ کرام کی اطاعت : جیسا کہ حبیب خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم اُن میں سے جس کسی کی بھی اقتدا کرو گے فلاح و ہدایت پا جاؤ گے۔ ( مشكاۃ المصابيح، كتاب المناقب، باب مناقب الصحابہ ، 414/2 حدیث نمبر 2018)

(2)گمشدہ خزانہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرار قلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ ، فیض گنجینہ ﷺ نے فرمایا کہ حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے لہذا مومن اسے جہاں پائے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ (سنن ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ على العبادة ، رقم 2692، ج4، ص314)

(3)حب جاہ کا علاج: جان لیجئے ! جو جاہ و مرتبہ کی محبت میں مبتلا ہو جائے تو اس کا سارا مقصد حب جاہ اور اس میں مزید اضافہ کی طلب ہی رہ جاتی ہے اور وہ مخلوق کے دلوں کا شکاری بن جاتا ہے اور یہ چیز اسے ریا اور نفاق کی طرف لے جاتی ہے، نبی کریم، رؤوف رحیم ﷺ نے اسے (یعنی مال و جاہ کی محبت کو ) دو خونخوار بھیڑیوں سے تشبیہ دی جو بکریوں کے ریوڑ میں ہوتے ہیں۔ (جامع الترمذی، ابواب الزهد، باب ما ذئبان جائعان الخ، الحديث 2376 ، ص 1890)

(4)رزق کا ملنا : حضرتِ سَیِّدُنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ ا گرتم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایسا توکل کرو جس طرح اُس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں ۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:79 )

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


پیارے اسلامی بھائیو!  آقا ﷺ وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام ہم تک پہنچانے میں گزار دی، کبھی نرمی کے ساتھ سمجھایا، کبھی مثالوں کے ذریعے دلوں کو جیتا، اور کبھی ایمان کو جگانے والے الفاظ سے امت کے سینوں کو منور فرمایا، ان میں ایک آقا علیہ السلام کا تشبیہ کے ذریعے سمجھانا بھی ہے اور تشبیہ کہتے ہیں: ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ قرار دینا۔ آئیے اس کے متعلق چند ا حادیث پڑھیے:

(1)حب جاہ کا انجام: عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال و دولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ انسان کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “(فیضان ریاض الصالحین، جلد:4،حدیث نمبر:485)

(2) دلوں کا سکون قرآن سے ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“(فیضان ریاض الصالحین، جلد:7،حدیث نمبر:1000)

ویران گھر سے تشبیہ دینے سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:7،حدیث نمبر:1000)

آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یاد ہے

جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

(3) پانچوں نمازوں کے فضیلت: عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” پانچوں نمازوں کی مثال اس بھری ہوئی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہو اور وہ اس میں ایک دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:4، حدیث نمبر:429)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ نماز انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح کرتی ہیں جیسا کہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جس طرح بار بار غسل کرنا آدمی کے جسم سے میل کچیل کو دُور کر دیتا ہے اسی طرح پانچ وقت کی نماز پڑھنا باطن سے میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:4، حدیث نمبر:429)

امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ وسائل بخشش میں لکھتے ہیں:

میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت

ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی

(4) نا حق کی حمایت کا انجام: وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَصَرَ قَوْمَهٗ عَلٰى غَيْرِ الْحَقِّ فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رَدٰى فَهُوَ يُنزَعُ بِذَنَبِه رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرماتے ہیں کہ جو اپنی قوم کی ناحق پر مدد کرے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو گڑھے میں گر گیا تو اسے اس کی دم سے اوپر کھینچا جاوے۔(مشکوٰۃ المصابیح،جلد:2،باب المفاخرۃ والعصبیۃ، فصل ثانی،صفحہ: 432، حدیث نمبر: 4684)

اس فرمان عالی میں فاسق قوم کو گرے اونٹ سے تشبیہ دی گئی جس طرح کنویں میں گرے اونٹ کو دم سے پکڑ کر نہیں نکال جا سکتا ویسے ہی فاسق و بدکار ذلیل قوم ایسی تعریفوں سے عزت نہیں پاسکتے اگر تم انہیں عزت دینا چاہتے ہو تو ان کو گناہوں سے روکو راہ راست پر لگاؤ۔(مشکوٰۃ المصابیح،جلد:2،باب المفاخرۃ والعصبیۃ، فصل ثانی،صفحہ: 432، حدیث نمبر: 4684)

اللہ کریم ہم سب کو حضور کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


رسول اللہ  ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز نہایت موثر جامع اور حکمت پر مبنی تھا آپ ﷺ لوگوں کی ذہنی فہم و ادراک اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بات فرماتے ، آپ مثالیں اور تشبیہ دے کر بات سمجھاتے تاکہ سننے والا نہ صرف بات یاد رکھے بلکہ اسے اپنے دل و دماغ میں بٹھا لے۔ تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ مشکل باتوں کو آسان اور گہری حکمتوں کو عام فہم انداز میں بیان کرتے بالکل ایسے ہی جیسے کوئی ماہر استاد اپنے شاگرد کو عملی مثال دے کر سمجھا جاتا ہے، انداز بیان ہی لوگوں کے دلوں کو متاثر کرتا ہے اور ان کی تربیت میں گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے :

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔ ( مراۃ المنا جیح، شرح مشکاۃ مثابیح جلد 4 حدیث نمبر 3018)

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ ہمیں کسی کو دیکھ کر اس سے وہ چیز واپس طلب نہیں کرنی چاہیے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص اس کتے کی طرح ہے۔ اللہ ہمیں ہمیشہ دینے والوں میں سے بنائے کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اللہ ہم پر نوبت نہ لائے ۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے: حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد 7 حدیث نمبر 1000)

پیارے اسلامی بھائیو ! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں قرآن پاک نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے جیسے کہ ویران گھر میں جالے لگ جاتے ہیں اسی طرح جب انسان کے دل میں قرآن پاک نہیں ہوتا تو انسان کے دل میں بھی شیطان قبضہ کر لیتا ہے پھر وہ دل شیطان کے قبضے سے چلتا ہے نہ کہ اس انسان کے کہنے پر ۔

اللہ تعالی ہمیں قرآن پاک سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


رب کریم نے حضور اکرم ﷺ  کو پوری کائنات کے لیے کامل ترین اسوہ حسنہ بنا کر مبعوث فرمایا ، اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کریم ﷺ کے کردار کو قرآن کریم میں کچھ اس انداز میں بیان فرمایا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔(پ21، الاحزاب :21)

اس لیے نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کا ہر پہلو رشد اور ہدایت تعلیم اور تربیت کا آئینہ دار ہے، کریم آقا ﷺ نے اپنے اصحاب کی تربیت کے لیے مختلف اسلوب اور حکمتوں کو اختیار فرمایا تاکہ ان کے اذہان میں یہ بات پختہ ہو جائے ۔انہی حکمتوں اور اسلوبوں میں تشبیہ تمثیل نہایت اہم اور جاذب توجہ طریقہ کار ہے ، حضور ﷺ نے معنی اور مفاہیم کو آسان انداز میں سمجھایا سامعین کی توجہ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے الفاظ کو تین مرتبہ دہراتے اور تشبیہات کا استعمال فرماتے یہ طریقہ کار صرف الفاظ تک محدود نہ ہوتا بلکہ اس میں ان اصحاب کے قلب اور روح کی اصلاح ان کے کردار کی تعمیر اور عقائد کی پختگی کو وہ فائدہ پہنچایا کہ جس سے رہتی دنیا تک لوگ مستفید ہوتے رہیں گے ۔

آج کے اس سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے دور میں نبی کریم ﷺ کے طرز تربیت کو بہترین نمونہ اور درس و تدریس کا کامیاب طریقہ مانا جاتا ہے ۔زیر نظر تحریر میں اسی طریقے کا جائزہ لیں گے کہ نبی کریم ﷺ نے کس طرح تشبیہات و تمثیلات سے اپنی امت کی فکری اور روحانی تربیت فرمائی:

دانائی کی تشبیہ: رسول اللہ ﷺ نے حکمت و دانائی کی اہمیت سمجھانے کے لیے اسے گمشدہ خزانے سے تشبیہ دی اور فرمایا: حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے لہذا مومن اسے جہاں پائے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ۔ ( سنن الترمذی 4 / 314 حدیث 2696 )

اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہما کی شان و عظمت کو بیان کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے انہیں تاروں سے تشبیہ دی فرمایا میرے صحابہ تاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔( مشکوٰۃ المصابیح 2/ 414 حدیث 6018 )

عالم کی موت کی تشبیہ: نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : جو اللہ تعالی کی رضا کے لیے علم کے جستجو میں نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیتا ہے اور فرشتے اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور آسمانوں کے فرشتے اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لیے استغفار کرتی ہے اور عالم کو عابد پر اتنی فضیلت حاصل ہے جتنی چودھویں رات کے چاند کو آسمان کے سب سے چھوٹے ستارے پر اور علماء انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہے ، بے شک انبیاء کرام علیہم السلام درہم و دینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ نفوس قدسیہ علیہم السلام تو علم کا وارث بناتے ہیں لہذا جس نے علم حاصل کیا اس نے اپنا حصہ لے لیا اور عالم کی موت ایک ایسی آفت ہے جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا اور ایک ایسا خلا ہے جس سے پُر نہیں کیا جا سکتا (گویا کہ )وہ ایک ستارہ تھا جو ماند پڑ گیا ایک قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے زیادہ آسان ہے ۔ ( شعب الایمان 2/ 263 رقم 1699 )

ظلم کی تشبیہ: سرکار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہوگا۔ ( سنن الترمذی3/ 415 ،حدیث 2037)

محافل علم کی تشبیہ: رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرا کرو تو اس میں سے خوب چن لیا کرو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جنت کی کیاریاں کون سی ہے ؟فرمایا علم کی محفل ہے۔( المعجم الکبیر 11 /78 الحدیث 11158 )

نمازکی نہر کے ساتھ تشبیہ: اسی طرح ایک موقع پر نماز پنجگانہ کی تربیت تمثیلی اسلوب سے فرمائی کہ چنانچہ مشہور صحابی حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: تم کیا خیال رکھتے ہو کہ اگر تمہارے میں سے کسی کے دروازے کے سامنے نہر ہو اور وہ ہر روز پانچ ٹائم اس میں غسل کرے تو بھلا کیا اس کے جسم پر میل بچے گا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اس کے بدن پر کچھ میل نہ رہے گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے کہ اللہ کریم ان کے سبب گناہوں کو مٹا دیتا ہے ( صحیح البخاری 1/ 196 حدیث 528 )

علم پر نہ عمل کرنے والے کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم حاصل کرنے کے بعد اس سے بیان نہ کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے پھر اس میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کرتا ۔( المعجم ، الاوسط 1/ 2024 الحدیث 689)

اسی طرح بہت سارے واقعات اس حوالے سے کتب میں ملتے ہیں کہ جن میں رسول اکرم ﷺ نے بارہا اپنے اصحاب کی تربیت مثالوں سے اور ان کو پختہ کرنے کےلئے تشبیہات کا استعمال فرمایا ۔

اللہ پاک ہمیں حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

اللہ  تبارک وتعالیٰ نے کریم آقا علیہ الصلاۃ والسلام کو تمام لوگوں کے لیے معلم اور ہادی و رہبر بنا کر بھیجا نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے لوگوں تک دینِ اسلام کا پیغام پہنچانے اور ان کی ہدایت کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے اور انہیں میں سے ایک طریقہ تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا ہے ۔ آپ ﷺ کا گفتگو کا انداز نہ صرف الفاظ کا مجموعہ تھا بلکہ حکمت، شفقت اور محبت کا اظہار بھی تھا۔ آپ ﷺ کا مقصد لوگوں کو حقیقت سمجھانا اور ان کی زندگیوں میں بہتر تبدیلی لانا تھا۔ یقیناً ہمارے آقا و مولا، نورِ مجسم ﷺ کا اندازِ بیان و تربیت ایسا دلنشین اور پُر اثر تھا کے ان کی باتیں لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا اندازِ مبارک ایسا تھا کہ جو بات آپ ﷺ بیان فرماتے وہ دلوں پر نقش ہو جاتی ۔ آپ ﷺ نے اپنے ارشادات میں کثیر تعداد میں ایسی تشبیہات بیان فرمائی ہیں ۔ ان تشبیہات کی بدولت دین کی تعلیمات کو سمجھنا اور یاد رکھنا عام انسان کے لیے بھی ممکن ہو گیا ہے ۔ یہ تشبیہات صحابہ کرام کے ذہنوں میں راسخ ہوئیں۔

(1) مؤمن، منافق اور تلاوتِ قرآن کی تشبیہ: حضور اکرم ﷺ نے مومن اور منافق کی کیفیت کو تلاوتِ قرآن کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے ایک نہایت جامع تشبیہ بیان فرمائی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مؤمن کی تشبیہ جو قرآن پڑھتا ہے، سنگترے جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی۔ اور اس مؤمن کی تشبیہ جو قرآن نہیں پڑھتا، کھجور جیسی ہے، اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اور اس منافق کی تشبیہ جو قرآن پڑھتا ہے، اس پھول کی طرح ہے جو خوشبودار ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی تشبیہ جو قرآن نہیں پڑھتا، (اندرائن) جیسی ہے، اس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: يريدون أن يبدلوا كلام الله، حدیث نمبر 7560، جلد 9، صفحہ 2959)

(2) اپنی امت کے لیے فکر و غم کی تشبیہ: نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو جہنم کی آگ سے بچانے کی اپنی شدید خواہش اور کوشش کو یوں بیان فرمایا: میری اور تم لوگوں کی تشبیہ اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی۔ جب اس کے گرد روشنی ہو گئی تو پروانے اور دیگر کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص انہیں آگ سے روکنے لگا۔ مگر وہ اس کی بات نہ مانتے۔ میں بھی تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جا رہے ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی، حدیث نمبر 6483، جلد 8، صفحہ 2515۔)

(3) مؤمنوں کے آپس میں تعلق کی تشبیہ: مسلمانوں کے باہمی اتحاد، ہمدردی اور اخوت کو نبی کریم ﷺ نے ایک جسم کے اعضاء سے تشبیہ دی: مؤمنوں کی آپس میں محبت، رحم دلی اور نرمی میں ان کی تشبیہ ایک جسم کی سی ہے۔ جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین وتعاطفہم، حدیث نمبر 2586، جلد 4، صفحہ 1999)

(4) علم کی اہمیت اور لوگوں کے مختلف رویوں کی تشبیہ: علم کی اہمیت اور لوگوں کی اس کے متعلق مختلف کیفیات کو آپ ﷺ نے یوں بیان فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم اور ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے، اس کی تشبیہ اس بارش جیسی ہے جو زمین پر برسی۔ بعض زمین صاف اور زرخیز ہوتی ہے جس نے پانی جذب کر کے گھاس اور پودے اُگائے۔ بعض سخت زمین نے پانی کو روک لیا اور لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ اور بعض زمین ایسی تھی جس نے نہ تو پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگا سکی۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب فضل من علم وعلم، حدیث نمبر 79، جلد 1، صفحہ 43۔)

ان احادیث سے یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ اور یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دین کی تعلیمات کو سمجھنا اور یاد رکھنا کتنا آسان ہے، بشرطیکہ انہیں اسی انداز میں پیش کیا جائے جیسا کہ ہمارے آقا ﷺ نے پیش فرمایا۔ اللہ ہمیں ان ارشادات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نبی کریم  ﷺ نہ صرف ہدایت کے پیغمبر تھے بلکہ بہترین معلم اور مربی بھی ہیں۔ آپ ﷺ نے تعلیمات کےلیے مختلف اسالیب اپنائے، جن میں ایک مؤثر طریقہ تشبیہات کے ذریعے سمجھانا تھا۔ آپ ﷺ نے روزمرہ کی چیزوں کی مثال دے کر بڑی گہری باتوں کو آسان بنایا، تاکہ ہر فرد بخوبی سمجھ سکے اور عمل کر سکے۔

(1) حضورﷺ کا مومن کو نرم ونازک کھیتی کے ساتھ تشبیہ دینا: کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفِيئُهَا الرِّيحُ، تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى، حَتَّى تَهِيجَ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا، لَا يُفِيئُهَا شَيْءٌ، حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً

ترجمہ حدیث: مومن کی مثال نرم ونازک کھیتی کی مانندہے جسے ہوا ادھر اُدھر جھکاتی اور کبھی اسے سیدھا کرتی رہتی ہے اور منافق کی مثال مضبوط تنے والے صنوبر کی مانند ہے جو ایک ہی دفعہ جھک کرگرپڑتا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب المرضی:حدیث نمبر:5644)

اس حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ نے مومن کے جسمانی طور پر ابتلاء وآزمائش میں مبتلا ہونے کو نرم ونازک کھیتی سے تشبیہ دی ہے جسے ہوا کبھی دائیں اور کبھی بائیں جھکاتی رہتی ہے،اور آپ ﷺ نے منافق کو سخت اور مضبوط تنے و الے درخت سے تشبیہ دی ہے جسے تیز ہوا یکبارگی اکھاڑ پھینکتی ہے۔

(2) نبی کریم ﷺ کا دین اور رسالت کو تشبیہ کے انداز میں سمجھانا: عن أبي موسى رضيَ اللهُ عنه عنِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال:إنَّ مَثَلي ومَثَلَ ما بَعَثَني اللهُ به، كمَثَلِ رجلٍ أتى قومَه، فقال: يا قومِ، إنِّي رأيتُ الجيشَ بعينيَّ، وإنِّي أنا النَّذيرُ العُريانُ، فالنَّجاءَ، فأطاعَه طائفةٌ من قومِه، فأدلجوا فانطلَقوا على مَهْلَتِهم، وكذَّبت طائفةٌ منهم، فأصبحوا مكانَهم، فصبَّحَهم الجيشُ، فأهلَكهم واجتاحَهم، فذلك مَثَلُ من أطاعَني واتَّبعَ ما جئتُ به، ومَثَلُ من عصاني وكذَّبَ ما جئتُ به من الحقِّ

ترجمہ حدیث: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے (یعنی دشمن کی فوج کو) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں، پس جلدی بھاگو۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث: 61)

(3) ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال:عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ترجمہ حدیث: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6407)

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


انسانی عقل کا تقاضا ہے کہ جب بھی کسی انسان کو مثال کے ذریعے یا کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی جائے تو وہ جلدی بات کو سمجھ جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی ان مبلغین اور واعظین کو سننے کی زیادہ جستجو ہوتی ہے جو مثال سنا کر یا تشبیہ دے کر بات کو سمجھانا جانتے ہیں۔  کیونکہ طریقۂ کار سید المبلغین، حضور نبی کریم ﷺ کا ہے کہ آپ ﷺ نے کئی مقامات پر مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے اپنے صحابۂ کرام، اہلِ بیتِ اطہار اور تمام امتِ مسلمہ کی تربیت فرمائی۔ ان میں سے چند احادیث ملاحظہ ہوں:

ہدایت کے تارے: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، اور میری اہلِ بیت کشتیٔ نوح کی طرح ہیں، تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔ (مرآۃ المناجیح، شرح مشکاة المصابیح، جلد 8، حدیث نمبر: 6018)

کیسی نفیس مثال ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کو ”ہدایت کے تارے“ فرمایا اور اپنی اہلِ بیت کو "کشتیٔ نوح"۔ سمندر کا مسافر کشتی اور تاروں دونوں کا محتاج ہوتا ہے۔ پتا چلا کہ اگر کوئی اہلِ بیت کو اپنا لے اور صحابہ کو چھوڑ دے تو وہ بندہ بھی ناکام ہے، اور جو صحابہ کو اپنا لے اور اہلِ بیت کو چھوڑ دے، تو وہ بھی ناکام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ اور اہلِ بیت دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

نماز میں سجدے کی تربیت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ ترجمہ: سجدے میں اعتدال اختیار کرو، اور کوئی شخص اپنی دونوں کہنیاں اس طرح نہ پھیلائے جیسے کتا پھیلائے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 493)

نماز میں جلدی کرنے والوں کی حضور ﷺ نے کتنے پیارے انداز سے تربیت فرمائی۔ فرمایا کہ نماز کو چُوزے کی چونچ مارنے کی طرح نہ پڑھو، جس طرح جلدی جلدی چُوزا چونچ مارتا ہے، اس طرح جلدی جلدی نماز نہ پڑھو۔

ہمیں حضور ﷺ نے نماز محبت، اطمینان اور سکون سے پڑھنے کا ارشاد فرمایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نماز محبت، اطمینان اور سکون سے پڑھیں۔

اچھی اور بری صحبت: قال رسول الله ﷺ: إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ، والجَلِیسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ، وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً

ترجمہ:نیک دوست اور بُرے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک (عطر) بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی جھونکنے والا:مشک والا تمہیں خوشبو دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم اُس کی خوشبو پا لو گے اور لوہار کی بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا اُس کی بدبو تمہیں تکلیف دے گی۔(بخاری: 2101، مسلم: 2628)

زندہ اور مردہ کون؟ عن أبی موسیٰ رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله ﷺ: إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ، وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ترجمہ: جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 6407)

اللہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے تربیتی انداز سے سیکھنے، سمجھنے اور دوسروں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری زبانوں میں بھی تاثیر پیدا فرمائے۔آمین یا رب العالمین


پیارے اسلامی بھائیو ہمارا دین اسلام کتنا خوبصورت دین ہے جو ہمیں ہر طرح کی رہنمائی عطا کرتا ہے ہر چیز کا علم عطا کرتا ہے ،رسول اﷲ ﷺ  نے ہر چیز کی رہنمائی فرمائی ہے کبھی اپنے فرامین کے ذریعے کبھی عملا ً تربیت فرمائی، اسی طرح آپ کے تربیت فرمانے کے جو انداز تھے ان میں سے ایک انداز تشبیہ دے کر بھی تربیت فرمانا ہے، آئیے میں آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں جن میں رسول اللہ ﷺ نے تشبیہ دے کر اپنی امت کی تربیت فرمائی :

(1) میری امت کے حالات: روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میری امت پر بعینہ ویسے حالات آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آئے جیسے جوتی کی جوتی سے برابری حتی کہ اگرکسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا تو میری امت میں بھی وہ ہوگا جو ایسا کرے گا یقیناً بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جاوے گی سوائے ایک ملت کے سب دوزخی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ وہ ایک کون فرقہ ہے فرمایا : وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں اسے ترمذی نے روایت کیا۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:171)

(2) پروانوں سے تشبیہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163 )

(3) جوتی کے تسموں سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

(4) ویران گھر سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

(5) نارنگی سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 حدیث نمبر 995)

اللہ کے  آخری نبی ﷺ نے لوگوں کی تشبیہات سے تربیت فرمائی ۔ تاکہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے فرامین کو سمجھ کر اپنی زندگی بہتر بنا سکیں ۔ آئیے اس کے متعلق آپ بھی پڑھیے ۔

(1) رسول اللہ کا انداز تعلیم: روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ تمہیں سکھاتا ہوں جب تم پاخانے جاؤ تو قبلہ کو منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔( مشکوة المصابیح ، کتاب: الطھارة ، باب: پاخانے کے آداب کا بیان ، صفحہ نمبر: 43 ، حدیث نمبر: 319)

(2) عبادت کرنا: روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو رضائے الٰہی کی تلاش میں ایک دن روزہ رکھے تو اﷲ اسے دوزخ سے اتنا دور کردے گا جیسے اُڑنے والے کوّے کی دوری جب بچہ ہو حتی کہ بوڑھا ہوکر مرجائے ۔ ( مشکوة المصابیح ، الصوم ، باب: نفلی روزے ، صفحہ نمبر: 183 ، حدیث نمبر: 1973)

(3)حرص اور حب جاہ کا نقصان: حضرت سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال و دولت کی حرص اور حب جاہ انسان کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔(فیضان ریاض الصالحین ، جلد نمبر: 4 ، حدیث نمبر: 485 )

(4) سیاہ خضاب کی حرمت: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی حضور ﷺ فرماتے ہیں:

آخر زمانے میں کچھ لوگ سیاہ خضاب کریں گے جیسے کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خشبو نہ سونگھیں گے۔ ( فتاوی رضویہ ، رسالہ: حک العیب فی حرمۃ تسوید الشیب ، جلد نمبر: 23 ، صفحہ نمبر: 496 مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن )

اس کے متعلق اعلی حضرت فرماتے ہیں کہ جنگلی کبوتروں کے سیاہ و نیلگوں ہوتے ہیں ۔ نبی ﷺ نے ان کے بالوں اور داڑھیوں کو ان سے تشبیہ دی ۔( فتاوی رضویہ ، رسالہ: حک العیب فی حرمۃ تسوید الشیب ، جلد نمبر: 23 ، صفحہ نمبر: 496 مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن )

(5)شیطان کی پیروی سے بچنا: روایت ہے حضرت معاذبن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔ (مشکوة المصابیح ، کتاب الایمان ، باب: قرآن و سنت مضبوطی سے پکڑنا ، صفحہ نمبر: 32 ، حدیث نمبر: 174)

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

رسول اللہ  ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لیے مختلف اسالیب استعمال فرمائے، جن میں تشبیہات (مثالیں دینا یا چیزوں کو ایک دوسرے سے تشبیہ دینا) ایک مؤثر طریقہ تھا۔ آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے نہ صرف بات کو سمجھایا بلکہ سامعین کے ذہنوں میں اسے بٹھا دیا۔ اس اندازِ تربیت کو کئی احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں :

(1)منافق کو بکری سے تشبیہ : روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی ﷺ نے : منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے (چکر لگائے)کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی اس بکرے کے پاس۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:57 )

(2)قرآن پڑھنے والے مومن کو نارنگی سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 حدیث نمبر 995)

(3)ہدایت وعلم کو تشبیہ دینا : حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسٰی رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’اللہ پاک نے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نےاللہ عَزَّ وَجَلّ کے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:162 )

(4)دوستی رحمت اور شفقت کو تشبیہ دینا : حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ما سےروایت ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:224 )

(5)علم کو تشبیہ دینا : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے ا س خزانہ کی سی ہے جس سےاللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۔ (احمدودارمی)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 )