اللہ  تبارک وتعالیٰ نے کریم آقا علیہ الصلاۃ والسلام کو تمام لوگوں کے لیے معلم اور ہادی و رہبر بنا کر بھیجا نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام نے لوگوں تک دینِ اسلام کا پیغام پہنچانے اور ان کی ہدایت کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے اور انہیں میں سے ایک طریقہ تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا ہے ۔ آپ ﷺ کا گفتگو کا انداز نہ صرف الفاظ کا مجموعہ تھا بلکہ حکمت، شفقت اور محبت کا اظہار بھی تھا۔ آپ ﷺ کا مقصد لوگوں کو حقیقت سمجھانا اور ان کی زندگیوں میں بہتر تبدیلی لانا تھا۔ یقیناً ہمارے آقا و مولا، نورِ مجسم ﷺ کا اندازِ بیان و تربیت ایسا دلنشین اور پُر اثر تھا کے ان کی باتیں لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا اندازِ مبارک ایسا تھا کہ جو بات آپ ﷺ بیان فرماتے وہ دلوں پر نقش ہو جاتی ۔ آپ ﷺ نے اپنے ارشادات میں کثیر تعداد میں ایسی تشبیہات بیان فرمائی ہیں ۔ ان تشبیہات کی بدولت دین کی تعلیمات کو سمجھنا اور یاد رکھنا عام انسان کے لیے بھی ممکن ہو گیا ہے ۔ یہ تشبیہات صحابہ کرام کے ذہنوں میں راسخ ہوئیں۔

(1) مؤمن، منافق اور تلاوتِ قرآن کی تشبیہ: حضور اکرم ﷺ نے مومن اور منافق کی کیفیت کو تلاوتِ قرآن کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے ایک نہایت جامع تشبیہ بیان فرمائی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مؤمن کی تشبیہ جو قرآن پڑھتا ہے، سنگترے جیسی ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی۔ اور اس مؤمن کی تشبیہ جو قرآن نہیں پڑھتا، کھجور جیسی ہے، اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ اور اس منافق کی تشبیہ جو قرآن پڑھتا ہے، اس پھول کی طرح ہے جو خوشبودار ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔ اور اس منافق کی تشبیہ جو قرآن نہیں پڑھتا، (اندرائن) جیسی ہے، اس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: يريدون أن يبدلوا كلام الله، حدیث نمبر 7560، جلد 9، صفحہ 2959)

(2) اپنی امت کے لیے فکر و غم کی تشبیہ: نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو جہنم کی آگ سے بچانے کی اپنی شدید خواہش اور کوشش کو یوں بیان فرمایا: میری اور تم لوگوں کی تشبیہ اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی۔ جب اس کے گرد روشنی ہو گئی تو پروانے اور دیگر کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص انہیں آگ سے روکنے لگا۔ مگر وہ اس کی بات نہ مانتے۔ میں بھی تمہیں کمر سے پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم اس میں گرے جا رہے ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی، حدیث نمبر 6483، جلد 8، صفحہ 2515۔)

(3) مؤمنوں کے آپس میں تعلق کی تشبیہ: مسلمانوں کے باہمی اتحاد، ہمدردی اور اخوت کو نبی کریم ﷺ نے ایک جسم کے اعضاء سے تشبیہ دی: مؤمنوں کی آپس میں محبت، رحم دلی اور نرمی میں ان کی تشبیہ ایک جسم کی سی ہے۔ جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین وتعاطفہم، حدیث نمبر 2586، جلد 4، صفحہ 1999)

(4) علم کی اہمیت اور لوگوں کے مختلف رویوں کی تشبیہ: علم کی اہمیت اور لوگوں کی اس کے متعلق مختلف کیفیات کو آپ ﷺ نے یوں بیان فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم اور ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے، اس کی تشبیہ اس بارش جیسی ہے جو زمین پر برسی۔ بعض زمین صاف اور زرخیز ہوتی ہے جس نے پانی جذب کر کے گھاس اور پودے اُگائے۔ بعض سخت زمین نے پانی کو روک لیا اور لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ اور بعض زمین ایسی تھی جس نے نہ تو پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگا سکی۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب فضل من علم وعلم، حدیث نمبر 79، جلد 1، صفحہ 43۔)

ان احادیث سے یہ درس ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔ اور یہ بھی سبق ملتا ہے کہ دین کی تعلیمات کو سمجھنا اور یاد رکھنا کتنا آسان ہے، بشرطیکہ انہیں اسی انداز میں پیش کیا جائے جیسا کہ ہمارے آقا ﷺ نے پیش فرمایا۔ اللہ ہمیں ان ارشادات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔