نبی اکرم حضرت محمد ﷺ ایک
کامل معلم بھی ہیں ۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی
اخلاقی، روحانی، سماجی اور فکری تربیت کے لیے مختلف حکیمانہ طریقے اختیار فرمائے،
جن میں سے ایک مؤثر طریقہ تشبیہات (مثالوں) کے ذریعے تعلیم و تربیت دینا تھا۔
تشبیہات کا استعمال انسانی فہم
کو آسان بناتا ہے۔ ایک پیچیدہ بات جب کسی جانی پہچانی چیز سے تشبیہ دے کر بیان کی جاتی ہے تو وہ سننے والے کے دل و دماغ پر زیادہ گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔ آپ ﷺ نے
بھی اس طریقے کو اختیار فرمایا اور نہایت سادہ اور جامع مثالوں سے لوگوں کے دلوں میں
حقائق بٹھا دیے۔
(1) روایت
ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا
اس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے اس سے
بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:3018)
اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں:ایک
تو وہ جو ترجمے سے ظاہر ہوئے کہ اگر اس سے بدتر کوئی مثال ہمارے پاس ہوتی تو ہم وہ
پیش فرماتے مگر ہے نہیں کیونکہ کوئی جانور اپنی قے نہیں کھاتا۔اس صورت میں لنا سے مراد خود اپنی ذات کریم ہے۔دوسرے یہ کہ بدترین مثال ہم لوگوں کے
لیے نہیں ہونی چاہیے یعنی کوشش کرو کہ یہ کہاوت ہم پر چسپاں نہ ہو۔اس صورت میں لَنَا سے مراد عام مسلمان ہیں حضور انور ﷺ کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:3018)
(2) حضرت
سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔( فیضان ریاض
الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)
ویران گھر سے تشبیہ دینے سے مراد : مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ
الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی
آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے
تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا
اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔
(3) حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ
عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے
ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے
اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)
جوتے کے تسمے سے تشبیہ کی وجہ: مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے
جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔حدیث پاک میں
جس تسمے کا ذکر ہے وہ در اصل وہ تسمہ نہیں جو ہمارے یہاں مُراد لیا جاتا ہے بلکہ
اس سے مُراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں
داخل کرتا ہے (جیساکہ فی زمانہ انگوٹھے
والی چپلوں میں یہ تسمہ بناہوا ہوتا ہے جس میں آدمی اپنا انگوٹھا ڈالتا ہے) جوتے میں اگر یہ تسمہ نہ بنایا جائے تو آدمی کے
لیے چلنا دشوار ہوجائے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)
نبی کریم ﷺ کی دعوت و تربیت کا
انداز نہایت حکیمانہ اور دل نشین تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے اقوال و افعال کے ذریعے تعلیماتِ
اسلام کو اس انداز میں پیش فرمایا کہ سامعین کے دلوں میں وہ گہرائی سے اتر گئیں۔
آپ ﷺ نے تشبیہات اور مثالوں کا استعمال کر کے دین کی باتوں کو عام فہم، دلچسپ اور
مؤثر بنایا۔ کبھی دین دار شخص کو بارش جیسا مفید فرمایا، تو کبھی مسلمان کی مثال
کھجور کے درخت سے دی، جو ہر حالت میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ اسی طرح، برے انسان کی
مثال دیے کی مانند دی جو خود جلتا ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔
آپ ﷺ کی تشبیہات میں حکمت، بصیرت
اور فطری مثالوں کی خوبصورتی پوشیدہ تھی، جو نہ صرف دل کو چھوتی تھیں بلکہ عملی
زندگی میں راہنمائی بھی فراہم کرتی تھیں۔ ان تشبیہات کے ذریعے اخلاق، ایمان، تقویٰ،
اخلاص اور عبادات جیسے موضوعات کو دلنشین انداز میں سمجھایا گیا۔ آپ ﷺ کا یہ طریقہ
ہمیں سکھاتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے عمل میں مثالوں اور تشبیہات کا استعمال کس قدر مؤثر ہو سکتا ہے۔
یقیناً، نبی مکرم ﷺ کا یہ
اندازِ ترغیب و تربیت ہمارے لیے ایک نمونہ ہے کہ ہم بھی بات کو سمجھانے اور دوسروں
کو نیکی کی طرف مائل کرنے کے لیے نرم، حکیمانہ اور پرکشش طریقہ اپنائیں، تاکہ پیغامِ
حق دلوں میں اتر جائے۔
اللہ
پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami