رسول اللہ  ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لیے مختلف اسالیب استعمال فرمائے، جن میں تشبیہات (مثالیں دینا یا چیزوں کو ایک دوسرے سے تشبیہ دینا) ایک مؤثر طریقہ تھا۔ آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے نہ صرف بات کو سمجھایا بلکہ سامعین کے ذہنوں میں اسے بٹھا دیا۔ اس اندازِ تربیت کو کئی احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں :

(1)منافق کو بکری سے تشبیہ : روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی ﷺ نے : منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے (چکر لگائے)کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی اس بکرے کے پاس۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:57 )

(2)قرآن پڑھنے والے مومن کو نارنگی سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 حدیث نمبر 995)

(3)ہدایت وعلم کو تشبیہ دینا : حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسٰی رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’اللہ پاک نے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نےاللہ عَزَّ وَجَلّ کے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:162 )

(4)دوستی رحمت اور شفقت کو تشبیہ دینا : حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ما سےروایت ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:224 )

(5)علم کو تشبیہ دینا : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے ا س خزانہ کی سی ہے جس سےاللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۔ (احمدودارمی)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 )