نبی کریم  ﷺ نہ صرف ہدایت کے پیغمبر تھے بلکہ بہترین معلم اور مربی بھی ہیں۔ آپ ﷺ نے تعلیمات کےلیے مختلف اسالیب اپنائے، جن میں ایک مؤثر طریقہ تشبیہات کے ذریعے سمجھانا تھا۔ آپ ﷺ نے روزمرہ کی چیزوں کی مثال دے کر بڑی گہری باتوں کو آسان بنایا، تاکہ ہر فرد بخوبی سمجھ سکے اور عمل کر سکے۔

(1) حضورﷺ کا مومن کو نرم ونازک کھیتی کے ساتھ تشبیہ دینا: کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ، تُفِيئُهَا الرِّيحُ، تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرَى، حَتَّى تَهِيجَ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى أَصْلِهَا، لَا يُفِيئُهَا شَيْءٌ، حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً

ترجمہ حدیث: مومن کی مثال نرم ونازک کھیتی کی مانندہے جسے ہوا ادھر اُدھر جھکاتی اور کبھی اسے سیدھا کرتی رہتی ہے اور منافق کی مثال مضبوط تنے والے صنوبر کی مانند ہے جو ایک ہی دفعہ جھک کرگرپڑتا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب المرضی:حدیث نمبر:5644)

اس حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ نے مومن کے جسمانی طور پر ابتلاء وآزمائش میں مبتلا ہونے کو نرم ونازک کھیتی سے تشبیہ دی ہے جسے ہوا کبھی دائیں اور کبھی بائیں جھکاتی رہتی ہے،اور آپ ﷺ نے منافق کو سخت اور مضبوط تنے و الے درخت سے تشبیہ دی ہے جسے تیز ہوا یکبارگی اکھاڑ پھینکتی ہے۔

(2) نبی کریم ﷺ کا دین اور رسالت کو تشبیہ کے انداز میں سمجھانا: عن أبي موسى رضيَ اللهُ عنه عنِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم قال:إنَّ مَثَلي ومَثَلَ ما بَعَثَني اللهُ به، كمَثَلِ رجلٍ أتى قومَه، فقال: يا قومِ، إنِّي رأيتُ الجيشَ بعينيَّ، وإنِّي أنا النَّذيرُ العُريانُ، فالنَّجاءَ، فأطاعَه طائفةٌ من قومِه، فأدلجوا فانطلَقوا على مَهْلَتِهم، وكذَّبت طائفةٌ منهم، فأصبحوا مكانَهم، فصبَّحَهم الجيشُ، فأهلَكهم واجتاحَهم، فذلك مَثَلُ من أطاعَني واتَّبعَ ما جئتُ به، ومَثَلُ من عصاني وكذَّبَ ما جئتُ به من الحقِّ

ترجمہ حدیث: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، ایسی ہے جیسے اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے (یعنی دشمن کی فوج کو) اور میں صاف صاف ڈرانے والا ہوں، پس جلدی بھاگو۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا۔ پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی اتباع کی اور جس نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا۔(صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث: 61)

(3) ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال:عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ترجمہ حدیث: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الدعوات، حدیث: 6407)

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین