انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ مثال اور تشبیہ کے ذریعے بات کو زیادہ آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ گہری حقیقت اور باریک نکتہ اگر محض الفاظ میں بیان کیا جائے تو عام ذہن کے لیے کبھی مشکل ہو جاتا ہے، لیکن جب اسی بات کو کسی قریب الفہم مثال یا تشبیہ سے بیان کیا جائے تو وہ دل و دماغ میں اتر  جاتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات میں اس اسلوب کو نہایت حکمت اور کمال فصاحت کے ساتھ استعمال فرمایا۔ آپ ﷺ کبھی کسی عملی حالت کو مثال بنا دیتے، کبھی فطرت کے کسی منظر کو، اور کبھی روزمرہ زندگی کی چیزوں کو دلیل بنا کر دین کی حقیقت واضح فرما دیتے۔ اس طرح سننے والے نہ صرف بات کو سمجھتے بلکہ اسے یاد بھی رکھتے اور زندگی میں اس پر عمل کرنے میں آسانی محسوس کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کے فرمودات میں بیان ہونے والی تشبیہات آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ ہمارے سامنے ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔( مراۃ المنا جیح، شرح مشکاۃ، مثابیح ، جلد 4 حدیث نمبر 3018)

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ ہمیں کسی کو دیکھ کر اس سے وہ چیز واپس طلب نہیں کرنی چاہیے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص اس کتے کی طرح ہے ۔اللہ ہمیں ہمیشہ دینے والوں میں سے بنائے کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اللہ ہم پر نوبت نہ لائے ایک ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے:

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کے سینے میں قران نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد 7 حدیث نمبر 1000)

میرے پیارے اسلامی بھائیو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں قرآن پاک نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے جیسے کہ ویران گھر میں جالے لگ جاتے ہیں ویران گھر میں جن آ جاتے ہیں اسی طرح جب انسان کے دل میں قرآن پاک نہیں ہوتو انسان کے دل میں بھی شیطان قبضہ کر لیتا ہے پھر وہ دل شیطان کے قبضے سے چلتا ہے نہ کہ اس انسان کے کہنے پر۔

اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین