پیارے اسلامی بھائیو ہمارا دین اسلام کتنا خوبصورت دین ہے جو ہمیں ہر طرح کی رہنمائی عطا کرتا ہے ہر چیز کا علم عطا کرتا ہے ،رسول اﷲ ﷺ  نے ہر چیز کی رہنمائی فرمائی ہے کبھی اپنے فرامین کے ذریعے کبھی عملا ً تربیت فرمائی، اسی طرح آپ کے تربیت فرمانے کے جو انداز تھے ان میں سے ایک انداز تشبیہ دے کر بھی تربیت فرمانا ہے، آئیے میں آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں جن میں رسول اللہ ﷺ نے تشبیہ دے کر اپنی امت کی تربیت فرمائی :

(1) میری امت کے حالات: روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میری امت پر بعینہ ویسے حالات آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آئے جیسے جوتی کی جوتی سے برابری حتی کہ اگرکسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا تو میری امت میں بھی وہ ہوگا جو ایسا کرے گا یقیناً بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جاوے گی سوائے ایک ملت کے سب دوزخی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ وہ ایک کون فرقہ ہے فرمایا : وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں اسے ترمذی نے روایت کیا۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:171)

(2) پروانوں سے تشبیہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:163 )

(3) جوتی کے تسموں سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:105)

(4) ویران گھر سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1000)

(5) نارنگی سے تشبیہ : حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 حدیث نمبر 995)