محمد حسنین رضا مدنی ( جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
رسول اللہ ﷺ اللہ
کے آخری نبی اور عظیم معلم ، جنہوں نے امت کی رہنمائی کے لیے سادہ مگر حکیمانہ
تعلیمات عطا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے اپنی بات کو دل نشین اور آسان فہم بنانے کے لیے تشبیہات
کا خوبصورت انداز اختیار فرمایا۔ تشبیہ ایسی ادبی صنعت ہے جس میں کسی چیز کو کسی
دوسری چیز سے مشابہ قرار دے کر بات کو زیادہ واضح اور مؤثر بنایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کی
تشبیہات نہ صرف عام فہم ہوتی بلکہ سننے والوں کے لیے ترغیب اور نصیحت کا باعث بھی
بنتی ۔ اس مضمون میں کچھ ایسی احادیث پیش کی جائیں گیں۔ جن میں آپ ﷺ نے تشبیہات کے
ذریعے امت کی تربیت فرمائی، تاکہ ہر شخص ان تعلیمات کو سمجھ کر اپنی زندگی میں
نافذ کر سکے۔
تشبیہات کا استعمال بات کو سادہ
اور پرکشش بناتا ہے، کہ جب کوئی بات مثال یا مشابہت کے ذریعے بیان کی جائے تو وہ زیادہ
واضح اور دل کو لگنے والی ہو جاتی ہے۔"اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایسی چیزوں سے تشبیہ دی جو روزمرہ زندگی
کے زیادہ قریب ہیں"یعنی وہ چیزیں جو
لوگ روز دیکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً درخت، پھل، یا پتھر، وغیرہا ، تاکہ
عام فہم لوگوں کو بھی بات سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ اور اس لیے بھی کہ تشبیہ کے ذریعے
تعلیم ہر طبقے کے فرد کے لیے قابلِ فہم بن جائے، چاہے وہ پڑھے لکھے ہوں یا نہ ہوں۔
یہ تشبیہات نہ صرف اخلاقی اور
روحانی رہنمائی کرتیں ہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے بھی رہنما اصول فراہم کرتیں ہیں،
یعنی ان مثالوں میں صرف دین و ایمان کی باتیں
نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے لیے رہنما و عملی اصول بھی سکھائے جاتے ہیں، جیسے صبر
کرنا، محنت کرنا، سخاوت، اور برائی سے بچنا۔
(1) مومن کی
کھجور کے درخت سے مشابہت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
صحابہ سے فرمایا: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً
لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : هِيَ النَّخْلَةُترجمہ:ایک ایسا درخت ہے جس کے
پتے کبھی نہیں جھڑتے، اور وہ مومن کی مثال ہے۔ بتاؤ، وہ کون سا درخت ہے؟صحابہ کرام
نے مختلف نام پیش کیے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔( صحيح
البخاری، كتاب العلم، باب الحياء فی العلم، ج ١، حدیث ٣٨، حدیث ١٣١)
کھجور کا درخت ہر موسم میں
سرسبز رہتا ہے یعنی کھجور کا درخت گرمی،
سردی، بارش یا خشک سالی میں بھی اپنی ہریالی اور زندگی کو برقرار رکھتا ہے، ویسے ہی
مومن حالات کی سختی یا آسانی میں اپنے ایمان کو کمزور نہیں ہونے دیتا۔ اور کھجور
کا درخت اپنے پھل سے ہر موسم میں انسانوں کو فائدہ دیتا ہے، اسی طرح مومن اپنے
اخلاق، دعا، خیر خواہی اور اعمالِ صالحہ سے ہر حال میں دوسروں کے لیے بھلائی کا ذریعہ
بنتا ہے۔
کجھور کے درخت سے تشبیہ کا مقصد:
یہ ہے کہ مومن کا ایمان حالات یا
وقتی جذبات کے زیرِ اثر کمزور نہیں ہوتا۔ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غم وہ اپنے
ایمان پر قائم رہتا ہے۔ حالات جیسے بھی بدل جائیں، اس کا ایمان مضبوط رہتا ہے اور
وہ دین کی راہ پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اسی لیے بندۂ مومن اپنے اخلاق، عمل، نصیحت
اور خیر خواہی سے ہر وقت دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ لہٰذا مومن کو ہمیشہ ثابت
قدم اور خیر بانٹنے والا ہونا چاہیے۔
(2) صدقہ واپس لینے والے کی جانور سے مشابہت: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ
يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ ترجمہ: جو شخص صدقہ کرے اور پھر
اپنی صدقہ کی ہوئی چیز واپس لے، تو اس کی مثال اُس کتے کی مانند ہے جو قے کرتا ہے
اور پھر اپنی ہی قے کو کھا لیتا ہے۔ ( صحيح مسلم، كتاب الهبات، باب تحريم الرجوع فی
الصدقۃ والهبۃ، ج ٥، ص ٦۴، حدیث ١٦٢٢)
(3) منافق کی سخت درخت سے مشابہت: سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: وَمَثَلُ
الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ
حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ترجمہ: منافق کی مثال اُس مضبوط اور سیدھے درخت کی مانند ہے جسے
کوئی آندھی یا ہوا نہیں جھکاتی ، یہاں تک کہ وہ اچانک ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔( صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب
مثل المؤمن كالزرع ومثل الكافر كشجر الأرز، ج ٨، ص ١٣٦، حدیث ٢٨١٠
وضاحت منافق کا دل تکبر، ضد اور
سختی سے بھرا ہوتا ہے، اس میں عاجزی اور نرمی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ نے
اسے اُس سخت درخت سے تشبیہ دی جو ہوا کے سامنے نہیں جھکتا اور بظاہر مضبوط دکھائی
دیتا ہے، مگر بڑی آفت میں یکدم ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ یہی حال منافق کا ہے کہ وہ
آزمائش یا موت کے وقت ڈھیر ہو جاتا ہے۔ اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ ضد، سختی اور غرور
بربادی کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ ان( ضد، سختی اور غرور والے افراد) میں اصلاح اور
صبر کی طاقت نہیں ہوتی۔
(4) رحم دل لوگوں کی جسم سے مشابہت: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ
وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ
سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ترجمہ: مؤمن ایک دوسرے سے محبت، شفقت اور ہمدردی میں ایسے
ہیں جیسے ایک جسم کے اعضاء، کہ جسم کا ایک عضو بیمار ہو تو سارا جسم درد، بے قراری
اور بخار میں شریک ہو جاتا ہے۔( صحيح مسلم، كتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم
المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم، ج٨، ص ٢٠، حدیث ٢٥٨٦)
یہ جملہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ امتِ مسلمہ
کا رشتہ محض مذہب تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا باہمی تعلق ہے جو محبت، شفقت
اور ہمدردی پر قائم ہے۔ تشبیہ میں جسم کی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ جیسے ایک جسم
میں کوئی زخم یا درد ہو تو اس کا اثر پورے جسم پر محسوس ہوتا ہے۔ آنکھ میں آنسو
آجاتے ہیں، بخار چڑھ جاتا ہے، نیند اُڑ جاتی ہے اسی طرح جب امت کا کوئی فرد یا چند افراد کسی مشکل یا مصیبت میں ہوں تو
باقی مومنین بھی اس درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں، اس کے لیے دعا کرتے ہیں، مدد کرتے
ہیں اور اس کے دکھ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لہذا مسلمانوں کا اتحاد اور
باہمی تعاون اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کسی ایک فرد کی تکلیف سب کو متاثر کرے، اور
سب مل جل کر اس کے علاج اور راحت کا سبب بنیں۔
رسول اللہ ﷺ نے دین کی گہری تعلیمات
کو عام فہم بنانے کے لیے ایسی تشبیہات پیش کیں جو لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جڑی
ہوئی اور سب کے لیے مانوس تھیں، تاکہ پیچیدہ اصول بھی دل و دماغ میں آسانی سے جگہ
بنا لیں۔ یہ تشبیہات محض فہم و وضاحت کے لیے نہیں بلکہ عملی ترغیب کے لیے ہیں، جو
ہمیں قرآن سے مضبوط تعلق، ایمان کی پختگی، باہمی اتحاد، نماز کی پابندی اور مشکلات
میں صبر کا درس دیتی ہیں۔ اس لیے یہ صرف علمی باتیں نہیں، بلکہ زندگی سنوارنے کے لیے
روشن اور رہنما اصول ہیں جن پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔
محمد عاصم اقبال (درجہ سادسہ جامعۃُ المدينہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے لوگوں کو اللہ کی توحید
کی طرف بلانے اور اپنی امت کی دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے نہایت مؤثر اور قابل
رشک تربیت فرمائی۔آپ ﷺ کی تربیت کے مبارک اندازوں میں سے ایک انداز یہ بھی تھا کہ
آپ مثال اور تشبیہ کے ذریعے بات سمجھاتے۔ تشبیہ ہمیشہ ایسی چیز سے دی جاتی جو یا تو پہلے وقوع پذیر ہو چکی ہو یا جس کا پیش
آنا یقینی ہو، تاکہ سننے والے پر اس کا اثر زیادہ ہو اور نصیحت دل میں اتر جائے۔
(1) حضور ﷺ کی پیروی
میں ہی نجات ہے: وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللہ بِهٖ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰى قَوْمًا،
فَقَالَ: يَا قَوْمِ! إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا
النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ،فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ، فَأَطَاعَهٗ طَائِفَةٌ مِنْ
قَوْمِهٖ فَأَدْلَجُوْا،فَانْطَلَقُوْا عَلٰى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ
طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوْا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ
فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا
جِئْتُ بِهٖ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهٖ مِنَ الْحَقِّ
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ رضی
اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے
کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی
قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے، میں کھلا ڈرانے والا ہوں، بچو بچو، کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی
بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ
رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے
لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو
جھٹلادیا۔(مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1 ، کتاب
الایمان ، باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑنا ، صفحہ 28 حدیث 140)
پتا چلا کہ جس نے نبی ﷺ کی ہدایت مانی، وہ بچ گیا جس نے
انکار کیا، وہ تباہ ہوا۔
(2) فرقوں میں بٹو ایک ہی راستہ
تھامو : وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ
عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :
لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي كَمَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ
النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً
لَكَانَ فِي أُمُّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذٰلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ
تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلٰى
ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةٍ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً،
قَالُوا: وَمن هِيَ يَا رَسُولَ الله قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وأَصْحَابِي
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میری امت پر بعینہ ویسے حالات آئیں گے جیسے
بنی اسرائیل پر آئے جیسے جوتی کی جوتی سے برابری حتی کہ اگرکسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا تو میری امت میں بھی وہ ہوگا
جو ایسا کرے گا، یقیناً بنی اسرائیل بہتر
فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ ج آئے گی سوا ایک ملت کے ، لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ
وہ ایک کون فرقہ ہے؟ فرمایا : وہ جس پر میں
اور میرے صحابہ ہیں ۔(مشکوٰۃ المصابیح، جلد
1 ، کتاب الایمان ، باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑنا ، صفحہ 31 ،حدیث 162)
اس حدیث میں ہمیں غیب کی خبر دینے والے نبی ﷺ نے
پہلے ہی بتا دیا کہ امت میں انتشار اور درجنوں فرقے بنیں گے، لیکن
نجات صرف اسی کو ملے گی جو میرے اور میرے
صحابہ کے راستے پر ہوگا۔ آج کے دور میں بھی اصل دین پر قائم رہنا ہی بچاؤ ہے۔
(3) صبح مومن ،شام کافر : عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:
بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ:یُصْبِحُ
الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ویُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا
یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع
اُمَّت ﷺ نے ارشادفرمایا: (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے
گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے
بدلے بیچے گا۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:87)
اس حدیث میں ہمیں آگاہ کیا گیا
ہے کہ ایک زمانے میں اتنے فتنے ہوں گے کہ لوگ صبح مؤمن اور شام کافر ہو جائیں گے، دین دنیا
کے لالچ میں بیچا جائے گا۔
اللہ پاک ہم سب کو حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے
راستے پر چلنے اور ثابت قدم رہنے اور فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد فیصل رومی عطّاری ( درجہ سابعہ مرکزی
جامعہ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
تربیت انسان کی ذاتی ، معاشرتی
اور پیشہ ورانہ ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ عمل عمر، حیثیت یا مقام کی قید سے آزاد ہوتا
ہے اور ہر فرد کے لیے ضروری ہے، چاہے وہ طالب علم ہو، والدین ہو، استاد، ملازم یا
سربراہِ خاندان۔ تربیت کا مقصد صرف معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ رویے، کردار، سوچ
اور عمل میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب تربیت کا عمل
مسلسل اور ہر سطح پر جاری رہے، گھروں سے دفاتر تک، اسکولوں سے سڑکوں تک۔ آج کے پیچیدہ
اور تیز رفتار دور میں مؤثر تربیت نہ صرف انسان کو چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل
بناتی ہے بلکہ اسے دوسروں کے لیے بھی
فائدہ مند بناتی ہے۔
لہٰذا، تربیت کا دائرہ کار سب پر محیط ہونا چاہیے
تاکہ ہم ایک باشعور، بااخلاق اور متوازن معاشرہ تشکیل دے سکیں۔آقا ﷺ معلم کائنات ہیں۔آقا
ﷺ کی تربیت کا انداز دلنشین ہے آپ ﷺ نے انسانوں کے دلوں کو علم، شفقت اور عمل
صالح سے سیراب کیا۔ آپ ﷺ کا کلام روح کو جگاتا، انداز دل کو نرم کرتا اور عمل زندگی کو سنوار دیتا۔ ہر فرد کے ساتھ آپ
ﷺ نے اس کی استعداد، فہم اور حالات کے مطابق گفتگو کی۔ ہر کسی کی دماغی صلاحیت کو سمجھتے تھے۔ جیسے سورج روشنی دیتا ہے مگر جلنے
نہیں دیتا، ویسے ہی آقا ﷺ نے تربیت دی جو روشن بھی کرتی اور محفوظ بھی رکھتی۔ آپ کی تربیت نے جاہلوں کو معلم، ظالموں کو
عادل، اور مشرکوں کو موحد بنا دیا۔ یہ معجزاتی تربیت صرف الفاظ سے نہیں، کردار سے
کی گئی۔جانِ عالم ﷺ کئی طریقوں سے تربیت فرماتے۔کبھی اشارے سے،کبھی مثالوں سے ۔ آج
ہم آقا ﷺ کا تشبیہات سے تربیت فرمانے کے بارے میں جانیں گے:
بدمذہبی کے وبال: بدمذہبیت و حق سے دوری انسان کو تاریک کنوؤں میں دھکیل دیتی ہے کہ
انسان دنیا میں بھی خائب و خاسر ہوتا ہے اور آخرت میں نارِ جہنم کا حقدار قرار
پاتا ہے۔آقا ﷺ نے بھی بدمذہب کے اعمال کو
بیان کیا اور اس کے دین سے نکلنے کو بیان فرمایا گویا کہ وہ دین میں آیا ہی نہیں ۔
عَنْ حُذِیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ ﷺ لَا یَقْبَلُ اللہ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْماً وَّلَا صَلَوۃً وَّلَا صَدَقَۃً وَّلَا حَجًّا
وَّلَا عُمْرَۃً وَّلَا جِھَادًا وَّلَا صَرْفًا وَّلَا عَدْلًا یَّخْرُجُ مِنَ
الْإِسْلَامِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعْرَۃُ مِنَ الْعَجِیْنِ۔ (ابن ماجہ) (سنن ابن ماجہ، باب اجتناب البدع والجدل، ص68،
حدیث:49 المكتبۃ الوحيدیۃ)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم
نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کسی بدمذہب کا نہ روزہ قبول کرتا ہے ، نہ نماز، نہ زکوۃ،
نہ حج، نہ عمرہ، نہ جہاد، نہ نفل ، نہ فرض، بدمذہب دین اسلام سے ایسا نکل جاتا ہے
جیسا کہ گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔
اللہ بدمذہبیت
سے ہماری حفاظت فرمائے اور دو جہان میں
سرخرو فرمائے ۔
بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی پر حق:
بھائی بھائی کا بازو ہوتے ہیں۔
بھائی بھائی سے قوت پاتے ہیں۔اگر اتحاد و
اتفاق پایا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے سامنے کچھ نہیں۔بڑے کا چھوٹے پر حق
ہوتا ہے اسی طرح چھوٹے کا بھی بڑے پر حق ہے۔ آپس میں محبت کا رشتہ ہو، بڑا چھوٹے پر شفقت کرے اور چھوٹا بڑے کی عزت
کرے۔ اسی حق کو حضور ﷺ نے بیان فرمایا:
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقُّ کَبِیْرِ الْإِخْوَۃِ
عَلَی صَغِیْرِہِمْ حَقّ الْوَالِدِ عَلَی وَلَدِہِ
حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بڑے بھائی کا حق چھوٹے
بھائی پر ایسا ہے جیسا کہ باپ کا حق بیٹے پر ۔ (شعب الايمان، فصل في حفظ حق
الوالدين بعد موتهما، فصل،ج6،ص210، حدیث:7929)
ہر صحابی نبیﷺ جنتی جنتی: آقاﷺ کے سارے صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم جنتی ہیں اور کوئی بھی جہنم میں نہیں جا سکتا۔ قرآن پاک و احادیثِ صحیحہ اس بات پر ناطق و شاہد ہیں کہ
سب جنتی اہل عدل و حق ہیں۔انہی کے بارے میں فرمایا کہ ان میں میں سے اہل نار والا
ہونا بعید و ابعد ہے:
عَن ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِّنْ اَرْبَعِينَ فَقَالَ: اَتَرْضَوْنَ
اَنْ تَكُونُوا رُبُعَ اَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا: نَعَمْ ! قَالَ: اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ اَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا: نَعَمْ ! فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ
مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، اِنِّي لَاَرْجُو اَنْ تَكُونُوا نِصْفَ اَهْلِ الْجَنَّةِ
وَذٰلكَ اَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا اِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا
اَنْتُمْ فِي اَهْلِ الشِّرْكِ اِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ
الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ ، اَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ
الْاَحْمَرِ(صحیح بخاری، كتاب الرقاق، باب
كيف الحشر، ص1532، حدیث:6528 المكتبۃ الوحيديۃ)
ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُناعبداللہ
بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک
مرتبہ ہم چالیس ( 40 ) کے قریب اَفراد حضور سرورِ دوعالَم ﷺ کے ساتھ ایک خیمہ میں حاضر تھے ، سرکار ﷺ نے ہم
سے ارشاد فرمایا: ” کیا تم اس بات پر راضی ہوکہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم
نے عرض کی: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” کیا تم اس بات کو پسند کرتے
ہو کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟ ‘‘ ہم نے عرض کی: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد
(ﷺ ) کی جان ہے ! مجھے اُمید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ بنو
گے کیونکہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری تعداد
ایسے ہوگی جیسا کہ سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کے چمڑے میں سیاہ بال ۔ ‘‘
نیک اعمال کی ترغیب دلانا: آقاﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم
کو نیک اعمال پر ابھارتے اور ترغیب دلاتے اس حدیثِ پاک میں جانِ عالم ﷺ نے ایک نیک
عمل پر ترغیب دلائی اور اس کا انعام بیان کیا:
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ
جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ
سَبَّحَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ
مِائَةَ حَجَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللّٰهَ
مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كمَنْ حَمَلَ عَلٰى مِائَةِ فَرَسٍ فِيْ سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَنْ
هَلَّلَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ
مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ
إِسْمَاعِيلَ، وَمَنْ كَبَّرَ اللّٰهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً
بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذٰلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى
بِهٖ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ أَوْ زَادَ عَلٰى مَا قَالَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقالَ:
هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ (سنن الترمذی، باب ما جاء فی
فضل التسبيح والتكبير والتہلیل والتحميد،
ص1161، حدیث:3779)
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے
وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: جو اللہ
کے لیے صبح کو سو بار سبحان الله پڑھے اور سو بار شام کو تو اس
کی طرح ہوگا جو سو
حج کرے اور جو صبح کو سو بار الحمد للہ پڑھے اور سو
بار شام کو تو اس جیسا ہوگا جو اللہ کی راہ میں سو گھوڑے خیرات کرے اور جو صبح کو
سو بار لاالہ الا الله پڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو اولاد حضرت اسماعیل سے سو غلام آزاد کرے اور جو صبح کو سو بار الله اکبر پڑھے اور سو بار شام کو تو کوئی اس سے زیادہ نیکیاں اس دن نہ کرسکے گا بجز
اس کے جو اتنی ہی بار یہ کلمات کہہ لے یا اس سے زیادہ، ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
اگر دنیا میں انسان کامیابی
چاہتا ہے اگر سرخرو ہونا چاہتا ہے تو اس پر آقاﷺ کی اطاعت ضروری ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے
اپنے محبوب ﷺ کی احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
الغرض حضور اکرم ﷺ کا یہ
اسلوب تربیت ایک انوکھا جامع واضح اور موثر ہے کہ آج بھی دنیا میں یہ طریقہ ہر
مدرسہ ہر جامعہ ہر یونیورسٹی ہر کالج ہر اسکول میں پایا جاتا ہے اور اس انداز تربیت
کو مفید اور احسن مانا جاتا ہے یہ بھی حضور اکرم ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ نے امت کی رہنمائی کیلئے جو طریقہ پندرہ سو سال پہلے اختیار فرمایا وہ طریقہ آج بھی کئی صدیوں
کے بعد آپکی امت میں تربیت کے لیے رائج ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی حضور
اکرم ﷺ کے اس انداز تربیت کو اپنائیں ۔
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں
نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر چلنے آپکے انداز آپکے اسلوب تربیت
کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ
محمد
عدنان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق سادھوکی لاہور ، پاکستان)
نبی کریم ﷺ کو
اللہ تعالیٰ نے معلمِ انسانیت بنا کر بھیجا، آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز نہایت حکیمانہ،
مؤثر اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی عقل و فہم کے مطابق بات
پہنچانے کے لیے تشبیہات اور مثالوں کا کثرت سے استعمال فرمایا۔ تشبیہ ایک ایسا
مؤثر اندازِ بیان ہے جس سے گہری بات کو عام فہم انداز میں سمجھایا جا سکتا ہے۔
قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر امثال کے ذریعے حقائق کو واضح
فرمایا اور آپ ﷺ نے بھی اسی حکمت کو اپنایا۔
(1) جنت تم میں سے ہر ایک کے قریب: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ار شادفرما یا: جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی
زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (بخاری
کتاب الرقاق باب الجنت اقرب۔۔۔۔۔الخ ج/4 ص/243 حدیث/6488)
(2) صبح شام کا انتظار نہ کرنا: حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں
کہ رسولُ اللہ ﷺ نے میرے کندھے پکڑ کر ارشاد فرمایا: دنیا میں یوں رہو گویا کہ تم مسافر یا راستہ طے
کرنے والے ہو ۔ “ حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرمایا
کرتے تھے کہ ” جب تم شام کرلو تو صبح کا
انتظار نہ کرو اور جب صبح کرلو تو شام کے منتظر نہ رہو اور حالت صحت میں بیماری کے
لیے اور زندگی میں موت کے لیے تیاری کرلو ۔(ریاض الصالحین باب فضل زھد فی الدنیا
والحث علی التقلل منھا وفضل الفقر ص/148 تحت الحدیث/ 471)
(3) بندے کا حج کرنے کے بعد
لوٹنا: حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اﷲ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا:”جو حج کرے اور فحش کلامی نہ کرے، نہ فسق کی باتیں کرے تو ایسا
لوٹے گا جیسے اُس کی ماں نےاسے آج ہی جنا ہو۔“( ریاض الصالحین جلد/7 حدیث/1274)
محمد عادل (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلامی تعلیمات میں تربیت کا
مقصد انسان کی شخصیت کو فکری، اخلاقی اور عملی لحاظ سے سنوارنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے
تربیتِ اُمت کے لیے مختلف اسالیب اپنائے، جن میں ایک نہایت مؤثر طریقہ تشبیہات اور
مثالوں کے ذریعے تعلیم دینا ہے۔ آپ ﷺ نے
سادہ مگر گہری مثالوں کے ذریعے ایمان، اخلاق، اعمال، دعوت اور معاشرتی نظام کے
اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ سامعین کے علم، فہم اور معاشرتی پس منظر کو مدنظر رکھتے
ہوئے ایسی مثالیں دیتے جو ان کی زبان اور ذہن کے قریب ہوتیں یہ اسلوب نہ صرف اس
زمانے کے عرب معاشرے کے لیے مانوس تھا بلکہ آج بھی نصیحت کو دل میں اتارنے کا بہترین
ذریعہ ہے۔
تشبیہ سے مراد ہے کسی چیز یا کیفیت
کو اس جیسی کسی اور چیز سے مثال دے کر بیان کرنا، تاکہ بات واضح ہو جائے اور ذہن میں
نقش ہو جائے۔
تشبیہ کے فوائد:(1) مشکل اور گہری بات آسان ہو جاتی ہے۔
(2) سامع کی دلچسپی بڑھتی ہے۔
(3) نصیحت ذہن میں دیر تک رہتی ہے۔
(4) عمل پر آمادگی پیدا ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے
کثرت سے مثالیں بیان کی ہیں مثلاً سورہ بقرہ میں ہے:
ترجمۂ کنزالعرفان: ان لوگوں
کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی طرح ہے جس نے سات
بالیاں اگائیں ،ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے
لئے چاہے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔ (پ3، البقرۃ: 261)
اور سورہ حشر میں ان تشبیہات کا
مقصد بھی بیان فرما دیا: وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے
ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں۔(پ28، الحشر:21)
رسول اللہ ﷺ کا اسلوبِ بیان بھی
قرآن کے اس اسلوب سے ہم آہنگ تھا، اس لیے آپ ﷺ کثرت سے تشبیہات دے کر تربیت
فرماتے۔ مثلا:
(1) ایمان اور مؤمن کی مثال: مَثَلُ
الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَلَا يَتَحَاتُّ
(صحیح بخاری جلد2 کتاب الادب
صفحہ: 521 حدیث: 6122) آپ ﷺ نے فرمایا: مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے جس کے
پتے نہیں جھڑتے۔
مومن ہمیشہ نفع بخش ہوتا ہے۔
(2) نیک و بد صحبت کی مثال: مَثَلُ
الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ
فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ
وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ
يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً (صحیح بخاری جلد2 کتاب الذبائح صفحہ: 407 حدیث: 5534)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اچھی اور بری صحبت کی
مثال مشک والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے جس کے پاس
مشک ہے وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے
طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا ( کم از کم ) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو
محظوظ ہو سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تمہیں اس کے
پاس سے ایک ناگوار بدبو آئےگی۔
صحبت اثر رکھتی ہے، لہٰذا اچھی صحبت اختیار کرنی
چاہیے۔
(3) دعوتِ حق اور نبی کا کردار: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ
اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ
اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص
اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ (صحیح بخاری جلد2 کتاب الرقاق صفحہ: 598 حدیث:
6483)
اس حدیث میں نبی ﷺ کی شفقت اور
امت کی غفلت کا بیان۔
محمد
کاشف عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
جمال مصطفی ڈیرہ گجراں لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ
السلام کو اس دنیا میں بھیج کر انسانیت کا سلسلہ شروع فرمایا پھر جب انسانوں کی
ہدایت اور تربیت کے لیے یکے بعد دیگرے کئی
انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا اور سب سے آخر میں ہمارے پیارے آقا حضرت سیدنا
محمد مصطفی ﷺ کو بھیجا ، آپ ﷺ اس امت کے لیے مربی اور معلم بن
کر تشریف لائے ، آپ ﷺ نے مسلمانوں کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی حتی
کہ سمجھانے کے لیے بعض اوقات مثالوں کا استعمال فرماتے تاکہ بات اچھی طرح مخاطب کے
ذہن میں پختہ ہو جائے ،اس مضمون میں چند ایسی احادیث ذکر کی جاتی ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ نے مثالوں کے ساتھ تربیت فرمائی ہے:
(1) وَعَنْ
أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ
يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ رَوَاهُ أَحْمَدُ
روایت ہے ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں
فرمایا رسول الله ﷺ نے:
دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین
میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں۔ (احمد)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:103)
(2) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي
وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهٗ تُرِكَ مِنْهُ
مَوْضِعُ لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ، يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ
بُنْيَانِهٖ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ
اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ وَفِي رِوَايَةٍ
فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ (مُتَّفَقٌ
عَلَيْهِ)
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی
الله عنہ سے فرماتے ہیں: فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے جس کی تعمیر بہت اچھی
کی گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے
تھے اور اچھی تعمیر سے تعجب کرتے تھے سوائے اس اینٹ کے تو میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ پُر کردی مجھ پر
انبیاء ختم کردئیے گئے اور مجھ پر رسول ختم کردیئے گئے ایک روایت میں ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں
اور نبیوں میں آخری نبی ہوں۔ (مسلم و
بخاری) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5745)
(3) عَنْ اَبِيْ مُوْسَى
الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ
الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ
الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ
الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ
الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ (بخاری،کتاب الاطعمۃ،باب ذکر
الطعام،۳/ ۵۳۵،حدیث:۵۴۲۷۔)
ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو موسٰی
اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن
پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی
عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے
منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ
پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا
ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث
نمبر:995)
(4) قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ
يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ
الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
فرمایا رسول الله ﷺ نے: بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ
اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا یہ
پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی
برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (مسلم،بخاری۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1،حدیث نمبر:565 )
(5) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ الصَّائِم
الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللّٰهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ
حتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللہ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی
سی ہے جو دن کا روزہ دار ، رات کو آیات الٰہی کی تلاوت کرنے والا ہو،
نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حتی کہ اﷲ کی
راہ کا مجاہد لوٹ آوے۔ (مسلم،بخاری۔ مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث
نمبر:3788 )
ان احادیث کے مطالعے سے یہ بات
واضح ہوچکی کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت
اس سہل انداز میں فرماتے تھے کہ ہر ہر بات احسن انداز میں ذہن نشین ہو جاتی ۔
اللہ پاک ہم سب کے قلوب و اذہان
کو انوار احادیث سے منور فرمائے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے
اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
رضوان
مقبول قادری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
پیارے آقا ، آخری نبی ، محمد عربی ﷺ کے
مختلف انداز تربیت میں تشبیہات سے تربیت فرمانا فصیح و بلیغ انداز ہے ، جسے کلام عرب میں بہت اہمیت حاصل ہے، یہ حضور اکرم ، خاتم الانبیاء و المرسلین ﷺ کا
حکمت بھرا انداز جس کا فہم آسان ہوتا ہے، جس کی مثالیں کثیر احادیث میں موجود ہے ، جن احادیث میں سے چند درجہ ذیل پڑھتے ہیں:
(1) مدینہ پاک کی فضیلت پر چار احادیث مبارکہ:
(۱) حضرت جابر رضى الله عنہ نے فرمایا کہ ایک اعرابی
نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام پر بیعت کی،
دوسرے دن آیا تو اسے بخار چڑھا ہوا تھا کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجیے! تین بار
اس نے یہی کہا آپ ﷺ نے
انکار کیا پھر فرمایا: الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ
طَيِّبُهَا یعنی کہ مدینہ کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ میل کچیل کو
دور کر کے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔ (صحیح بخاری/کتاب: عمرہ کا بیان/باب: مدینہ
برے آدمی کو نکال دیتا ہے/حدیث نمبر: 1783/صفحہ:665 /جلد: 2/ مکتبہ: ت البغا)
( ٢) حضرت زید بن ثابت رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی ﷺ نے فرمایا: إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي
الْمَدِينَةَ وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ
الْفِضَّةِ یعنی کہ یہ طیبہ
ہے یعنی مدینہ اور یہ مدینہ میل کچیل کو اس طرح دور کرتا ہے جیسے کہ چاندی کے میل
کو آگ دور کرتی ہے۔(صحیح مسلم/کتاب: حج کا بیان/باب: مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے
پاک۔۔۔الخ/حدیث نمبر: 1383/صفحہ: 121/ جلد: 4/ مکتبہ: طبع الترکیہ)
( ٣)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: مَنْ
أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوئٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ
اللَّهُ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ یعنی کہ جو آدمی اس شہر مدینہ والوں کو تکلیف دینے کا
ارادہ کرے گا تو اللہ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسے کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔(صحیح
مسلم/کتاب: حج کا بیان/باب: مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی۔۔۔۔الخ/حدیث
نمبر:1386/صفحہ: 121/جلد: 4/مکتبہ: طبع الترکیہ)
( ٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ
الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا یعنی (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ
سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔ (صحیح بخاری،کتاب: عمرہ کا بیان/ باب: اس بارے
میں کہ ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا۔/حدیث نمبر:1777/صفحہ: 663/جلد: 2/مکتبہ: ت
البغا)
(2) مسجد سے محبت کرنے کی فضیلت: حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه
فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ
لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ لَهُ كَمَا
يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ یعنی جو
مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا
خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے
خوش ہوتے ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب: مساجد اور جماعت کا بیان،باب:
مسجد میں بیٹھے رہنا الخ،حدیث نمبر: 800،صفحہ:
203 )
(3) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضى
الله عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی
سَائِرِ الطَّعَامِ یعنی
کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے
کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔ (شمائل ترمذی،کتاب: حضورِ اقدسﷺ کے سالن کا ذکر،باب:
حضورِ اقدس ﷺ کے سالن کا ذکر،حدیث نمبر: 176/صفحہ: 146)
(4) کسی کو قرض دینے کی فضیلت: حضرت براء بن عازب رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: کوئی شخص کسی کو کچھ دراہم قرض
دے، یا کچھ دودھ قرض دے، یا تنگ دست کو ہدیہ دے اس کو اتنا ثواب ملے گا جیسے غلام
آزاد کرنا۔(ابن ابی شیبہ،کتاب: خرید و فروخت کے مسائل و احکام،باب: قرض اور عطیہ دینے
پر ثواب کا بیان،حدیث نمبر: 23667،صفحہ:302 ،جلد: 12)
(5) رب تعالیٰ کا دیدار : حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروری ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے چاند کی طرف دیکھا، چودھوریں رات کا چاند
تھا اور فرمایا:
إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا
الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا
تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِ
الشَّمْسِ فَافْعَلُوا
یعنی کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی
طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل
نہیں ہوگی۔ پس اگر تمہیں اس کی طاقت ہو کہ سورج طلوع ہونے کے پہلے اور سورج غروب
ہونے کے بعد کی نمازوں میں سستی نہ ہو تو ایسا کرلو۔(صحیح بخاری،کتاب: توحید کا بیان،باب:
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اس دن بعض چہرے ۔۔۔الخ،حدیث نمبر: 6997،صفحہ: 2703،جلد: 6، مکتبہ:ت
البغا )
(6) شیطان کا انسانی جسم میں گردش کرنا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ
الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ شیطان ابن آدم (انسان) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا
ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے ۔ (سنن ابوداؤد،کتاب: سنت کا بیان، باب: مشرکوں کی نابالغ اولاد کا بیان، حدیث
نمبر: 4719، صفحہ: 367،جلد:4)
(7) اہل جنت کا ایک دوسرے کو دیکھنا:حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَائَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ کَمَا
تَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ فِي السَّمَاءِ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالاخانے اس طرح دیکھیں گے کہ جس طرح
تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔ (صحیح مسلم،کتاب: جنت اس کی نعمتیں اور اہل
جنت کا بیان،باب: جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا الخ،حدیث نمبر:2830،صفحہ: 144،جلد:8 ،مکتبہ:
ط الترکیہ)
(8) دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَهْوَنَ
أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ کَمَا يَغْلِ
الْمِرْجَلُ مَا يَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ
لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا
یعنی دوزخ والوں میں سب سے ہلکا
عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی جس سے اس
کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ جس طرح ہانڈی میں پانی جوش سے کھولتا ہے وہ سمجھ رہا ہوگا
کہ اسے سب سے سخت عذاب دیا گیا ہے حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب دیا گیا ہوگا۔ (صحیح
مسلم،کتاب: ایمان کا بیان،باب: دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں،حدیث
نمبر: 364،صفحہ:135 ،جلد: 1/مکتبہ: ط الترکیہ)
(9) روزے کی فضیلت: حضرت مطرف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے
پاس آیا تو انہوں نے (میری ضیافت کے لیے) دودھ منگوایا، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں،
تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
الصَّوْمُ
جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ
روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ
تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے ۔ (سنن نسائی،کتاب: روزوں سے متعلقہ احادیث،باب:
حضرت ابوامامہ کی حدیث الخ،حدیث نمبر:
2107،صفحہ:477 ، جلد: 2)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ کریم ان احادیث کو سمجھنے
اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الکریم خاتم الانبیاء و
المرسلین ﷺ
ارسلان سلیم عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم
سادھوکی لاہور ، پاکستان)
دین اسلام ایک ایسا کامل و اکمل
دین ہے جو زندگی کی ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرماتا ہے ، رہنمائی فرمانے کے کئی طریقے
ہیں جن میں سے ایک تشبیہات سے تربیت فرمانا بھی ہے جیسا کہ نبی پاک ﷺ نے
بارہا مرتبہ تشبیہ دے کر تربیت فرمائی:
(1) عَنْ
عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ
عنہ قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ
بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِامْرِیٍٔ مَّا نَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللہ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ
ہِجْرَتُہٗ اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِامْرَأَۃٍ یَّتَزَوَّجُھَا
فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔ (صحیح البخاری،کتاب بدء
الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ، الحدیث:1، ج1، ص5،صحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب قولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:انما الاعمال۔۔۔الخ، الحدیث:۱۹۰۷، ص۱۰۵۶)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا کہ تمام اعمال کا ثواب نیتوں سے ہے
اور ہر آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوتو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے
اور جس شخص کی ہجر ت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کے واسطے ہوتو اس کی
ہجرت اسی کے لئے ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے ۔( منتخب حدیثیں، حدیث نمبر:1 )
(2) عَنْ
اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً وَّالْحَیَاء شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب امور الایمان، الحدیث:۹، ج۱،ص۱۵)ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ﷺ نے
ارشاد فرمایا کہ ایمان کی شاخیں ساٹھ سے
کچھ زیادہ ہیں اور’’ حیا‘‘ ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ مسلم ،نسائی ،ابودائود ،ابن
ما جہ نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے۔(منتخب حدیثیں، حدیث نمبر:3 )
(3) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ:’’ صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلَی صَلَا
تِہِ فِی سُوْقِہِ وَبَیْتِہِ بِضْعًاوَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً وَذَالِکَ أَنَّ
أَحَدَہُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ
لَا یُرِیْدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ إِلَّا الصَّلَاۃُ ، فَلَمْ یَخْطُ
خَطْوَۃً إِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ
حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی الصَّلَاۃِ مَا
کَانَتِ الصَّلَاۃُ ہِیَ تَحْبِسُہُ،وَالْمَلٰئِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی
أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِی مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ:اللہُمَّ
ارْحَمْہُ اللہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اللہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ مَا لَمْ یُوْذِ فِیْہِ
مَا لَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔
ترجمہ : حضرتِ
سَیِّدُنا ابو ھریرہ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں
کے تاجْوَرﷺ نے ارشاد فرمایا:مرد کی باجماعت نماز کا ثواب اس کی گھر یا بازار میں
پڑھی جانے والی نماز کے مقابلے میں بیس اور اس سے کچھ زیادہ درجے ہے اور یہ اس لئے
ہے کہ جب ان میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کی نِیَّت سے مسجد کی طرف
چلتا ہے اور نماز کے علاوہ اس کاکوئی اور مقصد نہیں ہوتا تو مسجد میں پہنچنے تک ہر
ہر قدم کے بدلے اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ مسجدمیں
داخل ہونے کے بعد جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز ہی میں شمار ہوتا ہے
اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے توجب تک کسی کو تکلیف نہ دے یا
بے وضو نہ ہوتو فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں:’’یا اللہ
عَزَّوجَلَّ ! اِس پر رحم فرما،یا اللہ عَزَّوجَلَّ! اِسے بخش دے، یَا اللہ
عَزَّوجَلَّ ! اِس کی توبہ قبول فرما ۔‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:1 ،حدیث نمبر:10 )
(4) عَنْ
اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ
صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ
اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ
اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ( بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، ۴/۱۹۱، حدیث: ۶۳۰۹) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلم اللّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ
یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِاَرْضٍ فَلاۃٍ ،
فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہُ فَاَیِسَ مِنْہَا، فَاَتٰی
شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّہَا وَقَدْ اَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ ، فَبَیْنَمَا
ہُوَکَذَالِکَ اِذْ ہُوَبِہَا قائِمَۃً عِنْدَہٗ ، فَاَخَذَ بِخِطَامِہَا ، ثُمَّ
قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ : اللہم اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ، اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ( مسلم، کتاب التوبۃ،باب فی
الحض علی التوبۃ والفرح بھا، ص ۱۴۶۹ ، حدیث: ۲۷۴۷)
ترجمہ: خادِمِ رسول حضرتِ سَیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے نَبِیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’
اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش
ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے
۔‘‘(مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں )’’ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے
کہ جیسے تم میں سے کوئی شخص کسی جنگل میں اپنی سُواری پر جائے اور سُواری گم ہو
جائے ، اور سُواری پر اُس کا کھانا اور پانی ہو اور وہ(سُواری کے ملنے سے) مایوس
ہوجائے اور ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے ،پھر اچانک وہ سُواری اس کے پاس کھڑی
ہوئی ہو، وہ اس کی مَہار (یعنی رسی )
پکڑلے ،پھر خوشی کی شدت میں یہ کہے:’’اےاللہ عزَّوَجَلَّ ! تو میرا بندہ ہے اور
میں تیرا ربّ ہوں۔‘‘ شدتِ خوشی میں اس سے الفاظ اُلٹ ہو جائیں۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:1)
رحمتِ دو عالم، معلمِ کامل،
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس نہ صرف انسانیت کے لیے سراپا ہدایت
ہے بلکہ آپ کا اسلوبِ تربیت بھی ہر جن و انس کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کا اندازِ
گفتگو، دل نشین حکمتوں سے مزین اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہوتا۔ آپ ﷺ نے دعوت و تربیت کے لیے جو طریقے
اختیار فرمائے، ان میں ایک نہایت پُراثر اور مؤثر انداز (تشبیہات کے ذریعے تربیت دینا)
بھی ہے۔
تشبیہ دینا، ایک ایسا فطری و
فکری وسیلہ ہے جو خشک باتوں میں روح پھونک دیتا ہے، اور مشکل مفاہیم کو عام فہم انداز
میں واضح کر دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جب بھی کسی پیچیدہ حقیقت کو سمجھانا چاہا،
تو موقع و محل کے مطابق ایک جامع، مختصر مگر بلیغ مثال پیش فرما کر دلوں پر اثر
ڈال دیا۔ یہی وہ اسلوب ہے جو آج بھی تعلیم و تربیت کی دنیا میں بہترین اور لازوال
تصور کیا جاتا ہے۔ آئیے اب کچھ ایسی احادیث
مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں جن میں حضور اکرم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی:
(1) ویران گھر کی طرح: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ
الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ
مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن
عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ
حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں
قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد7 ، حدیث نمبر:1000 )
مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ
الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی
آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے
تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا
اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔ (فیضان
ریاض الصالحین جلد7 ، حدیث نمبر:1000 )
آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یادہے
(2) شیطان آدمی کا بھیڑیا: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ
صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ
الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ
وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ
بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ رَوَاهُ
أَحْمَدُترجمہ:روایت ہے حضرت معاذ بن
جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا
بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔احمد(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث
نمبر:184)
(3) دین کو نقصان پہنچانے والی
شے: عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ
رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ
حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں
چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ
جاہ، انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ،حدیث
نمبر: 485)
رسولِ کریم ﷺ کا
مثالوں کے ذریعے تربیتی اسلوب آج بھی ہمارے لیے رشد و ہدایت کا چراغ ہے۔ آپ کی ہر مثال میں حکمت کا سمندر اور فہم کا
نور پوشیدہ ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان روشن تعلیمات سے سبق لے کر اپنی زندگی کو
سیرتِ نبوی کے مطابق سنواریں۔
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عبد المبین ( تخصص فی الحدیث مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاون لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالی کا احسان ہے جس نے حضور علیہ السلام کی ذات گرامی کو ہماری تعلیم و تربیت کے لیے مبعوث
فرمایا اور تمام عالم کی تربیت و اصلاح کے لیے حضور علیہ
السلام کو معلم اور رحمت بنا کر بھیجا
۔اور حضور ﷺ کو بے شمار اوصاف وکمالات عطا فرمائےاور
حضور ﷺ نے مختلف اندازسے تربیت فرمائی جن
میں سے ایک انداز حضور ﷺ کا
تشبیہات سے لوگوں کی تربیت فرمانا ہے
اوروہ بے شمار احادیث ہیں ان میں سے چند
پیش خدمت ہیں:
(1) حضور ﷺ کا
سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو بادلوں کے
ساتھ تشبیہ دینا: حضرت ابو امامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوا سنا کہ تم
قرآن کی تلاوت کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے
لیے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو ، سورہ بقرہ
اور سورہ آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن
اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی
قطاریں ہوں اور اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔ تم سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے
اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔(مسلم،کتاب
المساجد ومواضع الصلاۃ،باب فضل قرآءۃ القرآن و فضل سورۃ البقرۃ،ج:2، ص 197، رقم
الحدیث:252الناشر:دار الطباعۃ العامرۃ۔ترکیا،الطبعۃ الاولی 1433ھ)
(2) اپنے اصحاب کو ستاروں کے
ساتھ تشبیہ دینا: عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :میر ے اصحاب ستاروں کے طرح ہیں تم
نے ان میں سے کسی کی اقتدا کر لی تم ہدایت پا جاؤ گئے۔(جامع بیان العلم وفضلہ،باب
ذکر الاختلاف من اقاویل۔۔۔الخ،ج:2،ص:925،رقم الحدیث:1760،الناشر:دار ابن
الجوزی۔السعودیۃ ،الطبعۃ الاولی،1414ھ۔ٍ1994م)
(3) ام المومنین حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا کو ثرید کے ساتھ تشبیہ دینا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی
کریم ﷺ سے روایت کرتے ، حضور ﷺ نے
فرمایا کہ عورتوں پر حضرت عائشہ کی
فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید
کی فضیلت ہے۔(بخاری،کتاب الاطعمۃ،باب الثرید،ج:5،ص:2067،رقم
الحدیث: 5103، الناشر:دار ابن کثیر،دار
الیمامۃ۔دمشق،الطبعۃ الخامسۃ، 1414ھ-1993م)
(4) حضور ﷺ کا اپنے اصحاب کو نمک کے ساتھ
تشبیہ دینا: حضور ﷺ نے
اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم لوگوں میں اس طرح ہو گئے جیسے نمک کھانے میں ہوتا ہے۔(مصنف
ابن ابى شيبہ،کتاب الفضائل،باب ماجاء فی الکف عن اصحاب النبی ﷺ ،ج:18،ص:168،الناشر:دار کنوز للنشر والتوزیع۔
الریاض، الطبعۃ الاولی،1436ھ۔2015)
محمد
واسق (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
بے شک نبی کریم ﷺ اپنی
امت کے لیے اسوہ حسنہ ہیں اور نبی کریم ﷺ نے امت کی تعلیم کے لیے ہر اس طریقے کو اختیار
فرمایا ہے جو آسان ہو اور صحابہ کرام اور بعد
میں آنے والے لوگ اس کو آسانی سے سمجھ کر
اس پر عمل پیرا ہو سکیں، انہیں طریقوں میں
سے ایک خوبصورت طریقہ نبی کریم ﷺ کا تشبیہات
کے ذریعے تربیت دینا ہے کہ ایسے انداز سے تربیت دینے میں بات احسن طریقے سے مخاطب
کو سمجھ میں آ جاتی ہے۔
تشبیہ کا لغوی معنی کسی چیز کو دوسری چیز کے
مشابہ قرار دینا ،تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانے کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ
ہوں
(1) مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح: عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ
وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مِثْلُ الْمُسْلِمِ، فَأَخْبِرُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ
فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا
النَّخْلَةُ، فَلَمَّا قَالُوا: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے، وہ مسلمان کی مانند ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ صحابہ جنگل کے درختوں کی
طرف سوچا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں
آیا کہ وہ کھجور ہے، لیکن انہوں نے کچھ کہا نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 61)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح
کھجور تر و تازہ رہتی ہے اس طرح مومن بھی تروتازہ رہتا ہے۔
(2) برے اور اچھے ساتھی کی مثال: عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّمَا
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ،
وَنَافِخِ الْكِيرِفَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ
تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ
الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: نیک
اور بد ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی دھونکنے والے جیسی ہے ، کستوری
والا یا تو تجھے کچھ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا کم از کم اس کی خوشبو
پا لے گا جبکہ بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے
کپڑے جلا دے گا، یا اس کی بدبو تجھے پہنچے
گی۔ (صحیح البخاری، حدیث: 2101)
یہ حدیث صحبت کی اہمیت پر دلالت
کرتی ہے کہ اگر نیک صحبت ہوگی تو نیکی کی
طرف رغبت ہوگی اور اگر بری صحبت ہوگی تو برائی کی طرف رغبت ہوگی۔
(3) علم نہ سیکھنے والے کی مثال: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ:مَثَلُ مَا بَعَثَنِي
اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَ
مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ
الْكَثِيرَ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ
بِهَا النَّاسَ وَأَصَابَ طَائِفَةً
مِنْهَا أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: جو علم
اور ہدایت اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش ایک زمین پر
پڑی۔ کچھ زمین زرخیز تھی، پانی جذب کیا اور گھاس اگائی؛ کچھ نے پانی محفوظ رکھا جس
سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہےاور کچھ زمین بنجر تھی، نہ پانی روکا نہ کچھ اگایا۔(صحیح
البخاری، حدیث: 79)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنے
والا کو خود کو بھی نفع دیتا ہے اور دوسروں کو بھی نفع دیتا ہے اور علم حاصل نہ
کرنے والا وہ خود کو بھی نفع نہیں دیتا اور دوسروں کو بھی نفع نہیں دیتا۔
(4) منافق اور مؤمن کی مثال: نبیِّ کریم ﷺ نے
فرمایا: مؤمن کی مثال نرم سبز پودے کی طرح
ہے، جسے ہوائیں جھکاتی اور اٹھاتی رہتی ہیں (یعنی آزمائشیں آتی رہتی ہیں)جبکہ
کافر کی مثال سیدھے مضبوط درخت جیسی ہے، جو ایک دم ہی کٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری،
حدیث: 5644)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مومنین پہ آزمائشیں آتی
رہتی ہیں جبکہ کافر کے پاس چونکہ ایمان کی دولت نہیں ہوتی تو اسے دائمی عذاب کے ساتھ موت آتی ہے۔
احادیث کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ
بات معلوم ہوئی کہ تشبیہ کلام کو کس قدر موثر بنا دیتی ہے لہذا اساتذہ کو چاہیٔے
کہ وہ اپنے طلبہ کرام کو اپنے کلام میں والدین کو چاہیٔے کہ وہ اپنے اولاد کو اپنی
نصیحت میں تشبیہ دے کر سمجھائیں تاکہ وہ کلام
ان کے ذہنوں میں موثر انداز سے بیٹھ جائے
اور وہ اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔
انس
احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
رسولِ اکرم ﷺ نے تعلیم و تربیت
کے لیے تشبیہات کا بھی استعمال فرمایا، تاکہ مخاطبین کو پیچیدہ مفاہیم
آسان اور دلنشین انداز میں سمجھائے جا سکیں۔ ذیل میں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں جن میں آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تربیت
فرمائی۔
(1) انسان کو پروانے کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ
رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ
رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص
اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، حدیث نمبر 2285)
علامہ ابو زکریا یحیٰ بن شرف
نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’رسول
اللہ ﷺ نے جاہلین ومخالفین جو گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم میں گرتےہیں ، انہیں پروانوں سے تشبیہ دی جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں
حالانکہ اُن جاہلوں کو اُس میں گرنے سے
منع کیا گیا ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے
ساتھ اِس وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ
دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ گرتے
ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ: حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب فرماتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کسی کے گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے
اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی
) جگہ سے پکڑتا ہے۔ ‘‘ کیونکہ یہاں گرفت
مضبوط ہوتی ہے ۔( فیضانِ ریاض الصالحین ، جلد 2، صفحہ نمبر 531،532)
(2) مومن کو سونے کی ڈلی کے ساتھ تشبیہ دینا: عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي ،
أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ:وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ
الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ،
وَلَمْ تَنْقُصْ
ترجمہ: حضرت عبداللہ ا بن عمرو
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی پاک ﷺ کو فرماتے سنا، نبی پاک ﷺ نے
فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مومن کی مثال
سونے کی ڈلی کی مانند ہے، جسے اگر اس کا مالک آگ میں ڈالے تو نہ اس کا رنگ بدلتا
ہے اور نہ اس کا وزن کم ہوتا ہے۔( مسند احمد، حدیث نمبر 6872)
جس طرح خالص سونا آگ میں ڈالنے سے نہ اس کا رنگ
بدلتا ہے اور نہ ہی اس کا وزن کم ہوتا ہے، اسی طرح ایک سچا مؤمن آزمائشوں اور مصیبتوں
میں ثابت قدم رہتا ہے، اس کا ایمان متزلزل نہیں ہوتا۔
(3) مسلمان کو کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ
مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ،
فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ
النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي
أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک درختوں میں ایک ایسا درخت ہے
جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ درخت مسلمان کی مثل ہے، مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟
لوگ جنگل کے درختوں کے متعلق سوچنے لگے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے
دل میں یہ بات آئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر (بڑے صحابہ کے درمیان ہونے کی) حیا
کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ﷺ! آپ ہمیں اس درخت کے متعلق بتا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ (
صحیح بخاری ، کتاب العلم، حدیث نمبر 61)
کھجور کے درخت کو مسلمان کے مثل
کہنے کی وجہ: نیک مسلمان اور کھجور کے درخت میں کئی باتیں ایک جیسی ہیں مثلاً: نیک
مسلمان بھی کھجور کے درخت کی طرح سایہ دار ہوتا ہے، اُس کا کردار کھجور کی
طرح عمدہ ہوتا ہے ، جیسے کھجور کی لکڑی ایندھن،
شہتیر، لاٹھی، چھڑی بن کر بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ ایسے ہی نیک مسلمان کے اچھے اعمال، سچائی، دیانت داری وغیرہ معاشرے کی
ترقی و خوشحالی کا سبب بنتے ہیں۔ ( ضیاء القاری فی شرح مختصر البخاری ، جلد 1،
صفحہ نمبر 498)
(4) مومن کو شہد کی مکھی کے ساتھ تشبیہ دینا: عن
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ،
إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ، أَكَلَتْ طَيِّبًا، وَوَضَعَتْ
طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ، وَلَمْ تُفْسِدْ
ترجمہ:قسم ہے اُس ذات کی جس کے
قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے، جو پاکیزہ
چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ چیز پیدا کرتی
ہے، اور جب کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو نہ اسے توڑتی ہے اور نہ ہی نقصان پہنچاتی ہے۔( مسند احمد ، حدیث نمبر 6872)
شہد کی مکھی صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ شہد پیدا کرتی ہے، اور جہاں بیٹھتی
ہے وہاں نقصان نہیں پہنچاتی ۔ اسی طرح مؤمن حلال رزق حاصل کرتا ہے، پاکیزہ اعمال
کرتا ہے، اور دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
نبی پاک ﷺ کا
تشبیہات سے تربیت کا مقصد دلوں کو متاثر کرنا، مفہوم کو ذہن نشین کرنا اور عمل کی
طرف مائل کرنا ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم
تعلیم و تربیت میں سادہ، موثر اور حکمت سے بھرپور انداز اپنائیں جیسا نبی کریم ﷺ نے
انداز اپنایا۔ اگر آج ہم نبی کریم ﷺ کی اس حکمت کو اپنائیں تو معاشرے میں اخلاق،
کردار اور تربیت میں انقلاب آ سکتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
Dawateislami