محمد حسنین رضا مدنی ( جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
رسول اللہ ﷺ اللہ
کے آخری نبی اور عظیم معلم ، جنہوں نے امت کی رہنمائی کے لیے سادہ مگر حکیمانہ
تعلیمات عطا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے اپنی بات کو دل نشین اور آسان فہم بنانے کے لیے تشبیہات
کا خوبصورت انداز اختیار فرمایا۔ تشبیہ ایسی ادبی صنعت ہے جس میں کسی چیز کو کسی
دوسری چیز سے مشابہ قرار دے کر بات کو زیادہ واضح اور مؤثر بنایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کی
تشبیہات نہ صرف عام فہم ہوتی بلکہ سننے والوں کے لیے ترغیب اور نصیحت کا باعث بھی
بنتی ۔ اس مضمون میں کچھ ایسی احادیث پیش کی جائیں گیں۔ جن میں آپ ﷺ نے تشبیہات کے
ذریعے امت کی تربیت فرمائی، تاکہ ہر شخص ان تعلیمات کو سمجھ کر اپنی زندگی میں
نافذ کر سکے۔
تشبیہات کا استعمال بات کو سادہ
اور پرکشش بناتا ہے، کہ جب کوئی بات مثال یا مشابہت کے ذریعے بیان کی جائے تو وہ زیادہ
واضح اور دل کو لگنے والی ہو جاتی ہے۔"اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ایسی چیزوں سے تشبیہ دی جو روزمرہ زندگی
کے زیادہ قریب ہیں"یعنی وہ چیزیں جو
لوگ روز دیکھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً درخت، پھل، یا پتھر، وغیرہا ، تاکہ
عام فہم لوگوں کو بھی بات سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔ اور اس لیے بھی کہ تشبیہ کے ذریعے
تعلیم ہر طبقے کے فرد کے لیے قابلِ فہم بن جائے، چاہے وہ پڑھے لکھے ہوں یا نہ ہوں۔
یہ تشبیہات نہ صرف اخلاقی اور
روحانی رہنمائی کرتیں ہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے بھی رہنما اصول فراہم کرتیں ہیں،
یعنی ان مثالوں میں صرف دین و ایمان کی باتیں
نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے لیے رہنما و عملی اصول بھی سکھائے جاتے ہیں، جیسے صبر
کرنا، محنت کرنا، سخاوت، اور برائی سے بچنا۔
(1) مومن کی
کھجور کے درخت سے مشابہت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
صحابہ سے فرمایا: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً
لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : هِيَ النَّخْلَةُترجمہ:ایک ایسا درخت ہے جس کے
پتے کبھی نہیں جھڑتے، اور وہ مومن کی مثال ہے۔ بتاؤ، وہ کون سا درخت ہے؟صحابہ کرام
نے مختلف نام پیش کیے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔( صحيح
البخاری، كتاب العلم، باب الحياء فی العلم، ج ١، حدیث ٣٨، حدیث ١٣١)
کھجور کا درخت ہر موسم میں
سرسبز رہتا ہے یعنی کھجور کا درخت گرمی،
سردی، بارش یا خشک سالی میں بھی اپنی ہریالی اور زندگی کو برقرار رکھتا ہے، ویسے ہی
مومن حالات کی سختی یا آسانی میں اپنے ایمان کو کمزور نہیں ہونے دیتا۔ اور کھجور
کا درخت اپنے پھل سے ہر موسم میں انسانوں کو فائدہ دیتا ہے، اسی طرح مومن اپنے
اخلاق، دعا، خیر خواہی اور اعمالِ صالحہ سے ہر حال میں دوسروں کے لیے بھلائی کا ذریعہ
بنتا ہے۔
کجھور کے درخت سے تشبیہ کا مقصد:
یہ ہے کہ مومن کا ایمان حالات یا
وقتی جذبات کے زیرِ اثر کمزور نہیں ہوتا۔ مشکل ہو یا آسانی، خوشی ہو یا غم وہ اپنے
ایمان پر قائم رہتا ہے۔ حالات جیسے بھی بدل جائیں، اس کا ایمان مضبوط رہتا ہے اور
وہ دین کی راہ پر ثابت قدم رہتا ہے۔ اسی لیے بندۂ مومن اپنے اخلاق، عمل، نصیحت
اور خیر خواہی سے ہر وقت دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ لہٰذا مومن کو ہمیشہ ثابت
قدم اور خیر بانٹنے والا ہونا چاہیے۔
(2) صدقہ واپس لینے والے کی جانور سے مشابہت: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ
يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ ترجمہ: جو شخص صدقہ کرے اور پھر
اپنی صدقہ کی ہوئی چیز واپس لے، تو اس کی مثال اُس کتے کی مانند ہے جو قے کرتا ہے
اور پھر اپنی ہی قے کو کھا لیتا ہے۔ ( صحيح مسلم، كتاب الهبات، باب تحريم الرجوع فی
الصدقۃ والهبۃ، ج ٥، ص ٦۴، حدیث ١٦٢٢)
(3) منافق کی سخت درخت سے مشابہت: سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: وَمَثَلُ
الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ
حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ترجمہ: منافق کی مثال اُس مضبوط اور سیدھے درخت کی مانند ہے جسے
کوئی آندھی یا ہوا نہیں جھکاتی ، یہاں تک کہ وہ اچانک ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔( صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة والجنة والنار، باب
مثل المؤمن كالزرع ومثل الكافر كشجر الأرز، ج ٨، ص ١٣٦، حدیث ٢٨١٠
وضاحت منافق کا دل تکبر، ضد اور
سختی سے بھرا ہوتا ہے، اس میں عاجزی اور نرمی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ نے
اسے اُس سخت درخت سے تشبیہ دی جو ہوا کے سامنے نہیں جھکتا اور بظاہر مضبوط دکھائی
دیتا ہے، مگر بڑی آفت میں یکدم ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ یہی حال منافق کا ہے کہ وہ
آزمائش یا موت کے وقت ڈھیر ہو جاتا ہے۔ اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ ضد، سختی اور غرور
بربادی کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ ان( ضد، سختی اور غرور والے افراد) میں اصلاح اور
صبر کی طاقت نہیں ہوتی۔
(4) رحم دل لوگوں کی جسم سے مشابہت: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ
وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ
سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ترجمہ: مؤمن ایک دوسرے سے محبت، شفقت اور ہمدردی میں ایسے
ہیں جیسے ایک جسم کے اعضاء، کہ جسم کا ایک عضو بیمار ہو تو سارا جسم درد، بے قراری
اور بخار میں شریک ہو جاتا ہے۔( صحيح مسلم، كتاب البر والصلۃ والآداب، باب تراحم
المؤمنين وتعاطفهم وتعاضدهم، ج٨، ص ٢٠، حدیث ٢٥٨٦)
یہ جملہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ امتِ مسلمہ
کا رشتہ محض مذہب تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا باہمی تعلق ہے جو محبت، شفقت
اور ہمدردی پر قائم ہے۔ تشبیہ میں جسم کی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ جیسے ایک جسم
میں کوئی زخم یا درد ہو تو اس کا اثر پورے جسم پر محسوس ہوتا ہے۔ آنکھ میں آنسو
آجاتے ہیں، بخار چڑھ جاتا ہے، نیند اُڑ جاتی ہے اسی طرح جب امت کا کوئی فرد یا چند افراد کسی مشکل یا مصیبت میں ہوں تو
باقی مومنین بھی اس درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں، اس کے لیے دعا کرتے ہیں، مدد کرتے
ہیں اور اس کے دکھ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لہذا مسلمانوں کا اتحاد اور
باہمی تعاون اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کسی ایک فرد کی تکلیف سب کو متاثر کرے، اور
سب مل جل کر اس کے علاج اور راحت کا سبب بنیں۔
رسول اللہ ﷺ نے دین کی گہری تعلیمات
کو عام فہم بنانے کے لیے ایسی تشبیہات پیش کیں جو لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جڑی
ہوئی اور سب کے لیے مانوس تھیں، تاکہ پیچیدہ اصول بھی دل و دماغ میں آسانی سے جگہ
بنا لیں۔ یہ تشبیہات محض فہم و وضاحت کے لیے نہیں بلکہ عملی ترغیب کے لیے ہیں، جو
ہمیں قرآن سے مضبوط تعلق، ایمان کی پختگی، باہمی اتحاد، نماز کی پابندی اور مشکلات
میں صبر کا درس دیتی ہیں۔ اس لیے یہ صرف علمی باتیں نہیں، بلکہ زندگی سنوارنے کے لیے
روشن اور رہنما اصول ہیں جن پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔
Dawateislami