نبی کریم  ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ انسانیت بنا کر بھیجا، آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز نہایت حکیمانہ، مؤثر اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی عقل و فہم کے مطابق بات پہنچانے کے لیے تشبیہات اور مثالوں کا کثرت سے استعمال فرمایا۔ تشبیہ ایک ایسا مؤثر اندازِ بیان ہے جس سے گہری بات کو عام فہم انداز میں سمجھایا جا سکتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر امثال کے ذریعے حقائق کو واضح فرمایا اور آپ ﷺ نے بھی اسی حکمت کو اپنایا۔

(1) جنت تم میں سے ہر ایک کے قریب: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ار شادفرما یا: جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (بخاری کتاب الرقاق باب الجنت اقرب۔۔۔۔۔الخ ج/4 ص/243 حدیث/6488)

(2) صبح شام کا انتظار نہ کرنا: حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے میرے کندھے پکڑ کر ارشاد فرمایا: دنیا میں یوں رہو گویا کہ تم مسافر یا راستہ طے کرنے والے ہو ۔ “ حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرمایا کرتے تھے کہ ” جب تم شام کرلو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرلو تو شام کے منتظر نہ رہو اور حالت صحت میں بیماری کے لیے اور زندگی میں موت کے لیے تیاری کرلو ۔(ریاض الصالحین باب فضل زھد فی الدنیا والحث علی التقلل منھا وفضل الفقر ص/148 تحت الحدیث/ 471)

(3) بندے کا حج کرنے کے بعد لوٹنا: حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اﷲ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا:”جو حج کرے اور فحش کلامی نہ کرے، نہ فسق کی باتیں کرے تو ایسا لوٹے گا جیسے اُس کی ماں نےاسے آج ہی جنا ہو۔“( ریاض الصالحین جلد/7 حدیث/1274)