دین اسلام ایک ایسا کامل و اکمل دین ہے جو زندگی کی ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرماتا ہے ، رہنمائی فرمانے کے کئی طریقے ہیں جن میں سے ایک تشبیہات سے تربیت فرمانا بھی ہے جیسا کہ نبی پاک  ﷺ نے بارہا مرتبہ تشبیہ دے کر تربیت فرمائی:

(1) عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِامْرِیٍٔ مَّا نَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہ وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللہ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِامْرَأَۃٍ یَّتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔ (صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ، الحدیث:1، ج1، ص5،صحیح مسلم،کتاب الامارۃ،باب قولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:انما الاعمال۔۔۔الخ، الحدیث:۱۹۰۷، ص۱۰۵۶)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام اعمال کا ثواب نیتوں سے ہے اور ہر آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوتو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس شخص کی ہجر ت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کے واسطے ہوتو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے ۔( منتخب حدیثیں، حدیث نمبر:1 )

(2) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً وَّالْحَیَاء شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب امور الایمان، الحدیث:۹، ج۱،ص۱۵)ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کی شاخیں ساٹھ سے کچھ زیادہ ہیں اور’’ حیا‘‘ ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری کے علاوہ مسلم ،نسائی ،ابودائود ،ابن ما جہ نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے۔(منتخب حدیثیں، حدیث نمبر:3 )

(3) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:’’ صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلَی صَلَا تِہِ فِی سُوْقِہِ وَبَیْتِہِ بِضْعًاوَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً وَذَالِکَ أَنَّ أَحَدَہُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ إِلَّا الصَّلَاۃَ، لَا یَنْہَزُہُ إِلَّا الصَّلَاۃُ ، فَلَمْ یَخْطُ خَطْوَۃً إِلَّا رُفِعَ لَہُ بِہَا دَرَجَۃٌ وَحُطَّ عَنْہُ بِہَا خَطِیْئَۃٌ حَتّٰی یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِی الصَّلَاۃِ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ ہِیَ تَحْبِسُہُ،وَالْمَلٰئِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی أَحَدِکُمْ مَادَامَ فِی مَجْلِسِہِ الَّذِی صَلّٰی فِیْہِ یَقُوْلُوْنَ:اللہُمَّ ارْحَمْہُ اللہُمَّ اغْفِرْ لَہُ اللہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ مَا لَمْ یُوْذِ فِیْہِ مَا لَمْ یُحْدِثْ فِیْہِ۔

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ھریرہ رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے کہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرﷺ نے ارشاد فرمایا:مرد کی باجماعت نماز کا ثواب اس کی گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز کے مقابلے میں بیس اور اس سے کچھ زیادہ درجے ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب ان میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے صرف نماز ہی کی نِیَّت سے مسجد کی طرف چلتا ہے اور نماز کے علاوہ اس کاکوئی اور مقصد نہیں ہوتا تو مسجد میں پہنچنے تک ہر ہر قدم کے بدلے اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ۔ مسجدمیں داخل ہونے کے بعد جب تک وہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے نماز ہی میں شمار ہوتا ہے اور جب تم میں سے کوئی شخص نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے توجب تک کسی کو تکلیف نہ دے یا بے وضو نہ ہوتو فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں:’’یا اللہ عَزَّوجَلَّ ! اِس پر رحم فرما،یا اللہ عَزَّوجَلَّ! اِسے بخش دے، یَا اللہ عَزَّوجَلَّ ! اِس کی توبہ قبول فرما ۔‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:1 ،حدیث نمبر:10 )

(4) عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ( بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، ۴/۱۹۱، حدیث: ۶۳۰۹) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلم اللّٰہُ اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ حِیْنَ یَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنْ اَحَدِکُمْ کَانَ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ بِاَرْضٍ فَلاۃٍ ، فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ وَعَلَیْہَا طَعَامُہٗ وَشَرَابُہُ فَاَیِسَ مِنْہَا، فَاَتٰی شَجَرَۃً فَاضْطَجَعَ فِیْ ظِلِّہَا وَقَدْ اَیِسَ مِنْ رَاحِلَتِہٖ ، فَبَیْنَمَا ہُوَکَذَالِکَ اِذْ ہُوَبِہَا قائِمَۃً عِنْدَہٗ ، فَاَخَذَ بِخِطَامِہَا ، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ : اللہم اَنْتَ عَبْدِیْ وَاَنَا رَبُّکَ، اَخْطَاَ مِنْ شِدَّۃِ الْفَرَحِ ( مسلم، کتاب التوبۃ،باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بھا، ص ۱۴۶۹ ، حدیث: ۲۷۴۷)

ترجمہ: خادِمِ رسول حضرتِ سَیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے نَبِیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔‘‘(مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں )’’ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی شخص کسی جنگل میں اپنی سُواری پر جائے اور سُواری گم ہو جائے ، اور سُواری پر اُس کا کھانا اور پانی ہو اور وہ(سُواری کے ملنے سے) مایوس ہوجائے اور ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے ،پھر اچانک وہ سُواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہو، وہ اس کی مَہار (یعنی رسی ) پکڑلے ،پھر خوشی کی شدت میں یہ کہے:’’اےاللہ عزَّوَجَلَّ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا ربّ ہوں۔‘‘ شدتِ خوشی میں اس سے الفاظ اُلٹ ہو جائیں۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:1)