تربیت انسان کی ذاتی ، معاشرتی اور پیشہ ورانہ ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ عمل عمر، حیثیت یا مقام کی قید سے آزاد ہوتا ہے اور ہر فرد کے لیے ضروری ہے، چاہے وہ طالب علم ہو، والدین ہو، استاد، ملازم یا سربراہِ خاندان۔ تربیت کا مقصد صرف معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ رویے، کردار، سوچ اور عمل میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔ معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب تربیت کا عمل مسلسل اور ہر سطح پر جاری رہے، گھروں سے دفاتر تک، اسکولوں سے سڑکوں تک۔ آج کے پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں مؤثر تربیت نہ صرف انسان کو چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتی  ہے بلکہ اسے دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بناتی ہے۔

لہٰذا، تربیت کا دائرہ کار سب پر محیط ہونا چاہیے تاکہ ہم ایک باشعور، بااخلاق اور متوازن معاشرہ تشکیل دے سکیں۔آقا ﷺ معلم کائنات ہیں۔آقا ﷺ کی تربیت کا انداز دلنشین ہے آپ ﷺ نے انسانوں کے دلوں کو علم، شفقت اور عمل صالح سے سیراب کیا۔ آپ ﷺ کا کلام روح کو جگاتا، انداز دل کو نرم کرتا اور عمل زندگی کو سنوار دیتا۔ ہر فرد کے ساتھ آپ ﷺ نے اس کی استعداد، فہم اور حالات کے مطابق گفتگو کی۔ ہر کسی کی دماغی صلاحیت کو سمجھتے تھے۔ جیسے سورج روشنی دیتا ہے مگر جلنے نہیں دیتا، ویسے ہی آقا ﷺ نے تربیت دی جو روشن بھی کرتی اور محفوظ بھی رکھتی۔ آپ کی تربیت نے جاہلوں کو معلم، ظالموں کو عادل، اور مشرکوں کو موحد بنا دیا۔ یہ معجزاتی تربیت صرف الفاظ سے نہیں، کردار سے کی گئی۔جانِ عالم ﷺ کئی طریقوں سے تربیت فرماتے۔کبھی اشارے سے،کبھی مثالوں سے ۔ آج ہم آقا ﷺ کا تشبیہات سے تربیت فرمانے کے بارے میں جانیں گے:

بدمذہبی کے وبال: بدمذہبیت و حق سے دوری انسان کو تاریک کنوؤں میں دھکیل دیتی ہے کہ انسان دنیا میں بھی خائب و خاسر ہوتا ہے اور آخرت میں نارِ جہنم کا حقدار قرار پاتا ہے۔آقا ﷺ نے بھی بدمذہب کے اعمال کو بیان کیا اور اس کے دین سے نکلنے کو بیان فرمایا گویا کہ وہ دین میں آیا ہی نہیں ۔

عَنْ حُذِیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ ﷺ لَا یَقْبَلُ اللہ لِصَاحِبِ بِدْعَۃٍ صَوْماً وَّلَا صَلَوۃً وَّلَا صَدَقَۃً وَّلَا حَجًّا وَّلَا عُمْرَۃً وَّلَا جِھَادًا وَّلَا صَرْفًا وَّلَا عَدْلًا یَّخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ کَمَا تَخْرُجُ الشَّعْرَۃُ مِنَ الْعَجِیْنِ۔ (ابن ماجہ) (سنن ابن ماجہ، باب اجتناب البدع والجدل، ص68، حدیث:49 المكتبۃ الوحيدیۃ)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کسی بدمذہب کا نہ روزہ قبول کرتا ہے ، نہ نماز، نہ زکوۃ، نہ حج، نہ عمرہ، نہ جہاد، نہ نفل ، نہ فرض، بدمذہب دین اسلام سے ایسا نکل جاتا ہے جیسا کہ گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔

اللہ بدمذہبیت سے ہماری حفاظت فرمائے اور دو جہان میں سرخرو فرمائے ۔

بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی پر حق: بھائی بھائی کا بازو ہوتے ہیں۔ بھائی بھائی سے قوت پاتے ہیں۔اگر اتحاد و اتفاق پایا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے سامنے کچھ نہیں۔بڑے کا چھوٹے پر حق ہوتا ہے اسی طرح چھوٹے کا بھی بڑے پر حق ہے۔ آپس میں محبت کا رشتہ ہو، بڑا چھوٹے پر شفقت کرے اور چھوٹا بڑے کی عزت کرے۔ اسی حق کو حضور ﷺ نے بیان فرمایا:

عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقُّ کَبِیْرِ الْإِخْوَۃِ عَلَی صَغِیْرِہِمْ حَقّ الْوَالِدِ عَلَی وَلَدِہِ

حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسا کہ باپ کا حق بیٹے پر ۔ (شعب الايمان، فصل في حفظ حق الوالدين بعد موتهما، فصل،ج6،ص210، حدیث:7929)

ہر صحابی نبیﷺ جنتی جنتی: آقاﷺ کے سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم جنتی ہیں اور کوئی بھی جہنم میں نہیں جا سکتا۔ قرآن پاک و احادیثِ صحیحہ اس بات پر ناطق و شاہد ہیں کہ سب جنتی اہل عدل و حق ہیں۔انہی کے بارے میں فرمایا کہ ان میں میں سے اہل نار والا ہونا بعید و ابعد ہے:

عَن ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِّنْ اَرْبَعِينَ فَقَالَ: اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا رُبُعَ اَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا: نَعَمْ ! قَالَ: اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ اَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْنَا: نَعَمْ ! فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، اِنِّي لَاَرْجُو اَنْ تَكُونُوا نِصْفَ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَذٰلكَ اَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا اِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا اَنْتُمْ فِي اَهْلِ الشِّرْكِ اِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ ، اَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَحْمَرِ(صحیح بخاری، كتاب الرقاق، باب كيف الحشر، ص1532، حدیث:6528 المكتبۃ الوحيديۃ)

ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم چالیس ( 40 ) کے قریب اَفراد حضور سرورِ دوعالَم ﷺ کے ساتھ ایک خیمہ میں حاضر تھے ، سرکار ﷺ نے ہم سے ارشاد فرمایا: ” کیا تم اس بات پر راضی ہوکہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے عرض کی: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟ ‘‘ ہم نے عرض کی: ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (ﷺ ) کی جان ہے ! مجھے اُمید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ بنو گے کیونکہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری تعداد ایسے ہوگی جیسا کہ سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کے چمڑے میں سیاہ بال ۔ ‘‘

نیک اعمال کی ترغیب دلانا: آقاﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو نیک اعمال پر ابھارتے اور ترغیب دلاتے اس حدیثِ پاک میں جانِ عالم ﷺ نے ایک نیک عمل پر ترغیب دلائی اور اس کا انعام بیان کیا:

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ سَبَّحَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ حَجَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللّٰهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كمَنْ حَمَلَ عَلٰى مِائَةِ فَرَسٍ فِيْ سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَنْ هَلَّلَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ، وَمَنْ كَبَّرَ اللّٰهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذٰلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى بِهٖ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ أَوْ زَادَ عَلٰى مَا قَالَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ (سنن الترمذی، باب ما جاء فی فضل التسبيح والتكبير والتہلیل والتحميد، ص1161، حدیث:3779)

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: جو اللہ کے لیے صبح کو سو بار سبحان الله پڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو سو حج کرے اور جو صبح کو سو بار الحمد للہ پڑھے اور سو بار شام کو تو اس جیسا ہوگا جو اللہ کی راہ میں سو گھوڑے خیرات کرے اور جو صبح کو سو بار لاالہ الا الله پڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو اولاد حضرت اسماعیل سے سو غلام آزاد کرے اور جو صبح کو سو بار الله اکبر پڑھے اور سو بار شام کو تو کوئی اس سے زیادہ نیکیاں اس دن نہ کرسکے گا بجز اس کے جو اتنی ہی بار یہ کلمات کہہ لے یا اس سے زیادہ، ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

اگر دنیا میں انسان کامیابی چاہتا ہے اگر سرخرو ہونا چاہتا ہے تو اس پر آقاﷺ کی اطاعت ضروری ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی کی بارگاہ اقدس میں دعا ہے اپنے محبوب ﷺ کی احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

الغرض حضور اکرم ﷺ کا یہ اسلوب تربیت ایک انوکھا جامع واضح اور موثر ہے کہ آج بھی دنیا میں یہ طریقہ ہر مدرسہ ہر جامعہ ہر یونیورسٹی ہر کالج ہر اسکول میں پایا جاتا ہے اور اس انداز تربیت کو مفید اور احسن مانا جاتا ہے یہ بھی حضور اکرم ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ نے امت کی رہنمائی کیلئے جو طریقہ پندرہ سو سال پہلے اختیار فرمایا وہ طریقہ آج بھی کئی صدیوں کے بعد آپکی امت میں تربیت کے لیے رائج ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی حضور اکرم ﷺ کے اس انداز تربیت کو اپنائیں ۔

اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر چلنے آپکے انداز آپکے اسلوب تربیت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ