انس
احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
رسولِ اکرم ﷺ نے تعلیم و تربیت
کے لیے تشبیہات کا بھی استعمال فرمایا، تاکہ مخاطبین کو پیچیدہ مفاہیم
آسان اور دلنشین انداز میں سمجھائے جا سکیں۔ ذیل میں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں جن میں آپ ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تربیت
فرمائی۔
(1) انسان کو پروانے کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ
رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ
رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص
اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، حدیث نمبر 2285)
علامہ ابو زکریا یحیٰ بن شرف
نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’رسول
اللہ ﷺ نے جاہلین ومخالفین جو گناہوں اور شہوت کے سبب نارِ جہنم میں گرتےہیں ، انہیں پروانوں سے تشبیہ دی جو دُنیوی آگ میں گرتے ہیں
حالانکہ اُن جاہلوں کو اُس میں گرنے سے
منع کیا گیا ہے۔نیز انسانوں کو پروانوں کے
ساتھ اِس وجہ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ
دونوں خود کو ہلاک کرنے پر حریص ہوتے ہیں اوراِس جہالت میں دونوں برابر ہیں ۔ گرتے
ہوئے شخص کو کمر سے پکڑنے کی وجہ: حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب فرماتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کسی کے گرنے کا خوف کرتا ہے تو اُسے
اُس کے (پاجامہ یا تہبند باندھنے کی
) جگہ سے پکڑتا ہے۔ ‘‘ کیونکہ یہاں گرفت
مضبوط ہوتی ہے ۔( فیضانِ ریاض الصالحین ، جلد 2، صفحہ نمبر 531،532)
(2) مومن کو سونے کی ڈلی کے ساتھ تشبیہ دینا: عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي ،
أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ:وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَكَمَثَلِ
الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَخَ عَلَيْهَا صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ،
وَلَمْ تَنْقُصْ
ترجمہ: حضرت عبداللہ ا بن عمرو
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی پاک ﷺ کو فرماتے سنا، نبی پاک ﷺ نے
فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مومن کی مثال
سونے کی ڈلی کی مانند ہے، جسے اگر اس کا مالک آگ میں ڈالے تو نہ اس کا رنگ بدلتا
ہے اور نہ اس کا وزن کم ہوتا ہے۔( مسند احمد، حدیث نمبر 6872)
جس طرح خالص سونا آگ میں ڈالنے سے نہ اس کا رنگ
بدلتا ہے اور نہ ہی اس کا وزن کم ہوتا ہے، اسی طرح ایک سچا مؤمن آزمائشوں اور مصیبتوں
میں ثابت قدم رہتا ہے، اس کا ایمان متزلزل نہیں ہوتا۔
(3) مسلمان کو کھجور کے درخت کے ساتھ تشبیہ دینا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ
مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ،
فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ
النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي
أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک درختوں میں ایک ایسا درخت ہے
جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ درخت مسلمان کی مثل ہے، مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟
لوگ جنگل کے درختوں کے متعلق سوچنے لگے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے
دل میں یہ بات آئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر (بڑے صحابہ کے درمیان ہونے کی) حیا
کی وجہ سے کچھ نہ کہا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ﷺ! آپ ہمیں اس درخت کے متعلق بتا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ (
صحیح بخاری ، کتاب العلم، حدیث نمبر 61)
کھجور کے درخت کو مسلمان کے مثل
کہنے کی وجہ: نیک مسلمان اور کھجور کے درخت میں کئی باتیں ایک جیسی ہیں مثلاً: نیک
مسلمان بھی کھجور کے درخت کی طرح سایہ دار ہوتا ہے، اُس کا کردار کھجور کی
طرح عمدہ ہوتا ہے ، جیسے کھجور کی لکڑی ایندھن،
شہتیر، لاٹھی، چھڑی بن کر بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔ ایسے ہی نیک مسلمان کے اچھے اعمال، سچائی، دیانت داری وغیرہ معاشرے کی
ترقی و خوشحالی کا سبب بنتے ہیں۔ ( ضیاء القاری فی شرح مختصر البخاری ، جلد 1،
صفحہ نمبر 498)
(4) مومن کو شہد کی مکھی کے ساتھ تشبیہ دینا: عن
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ،
إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ، أَكَلَتْ طَيِّبًا، وَوَضَعَتْ
طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ، وَلَمْ تُفْسِدْ
ترجمہ:قسم ہے اُس ذات کی جس کے
قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے، جو پاکیزہ
چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ چیز پیدا کرتی
ہے، اور جب کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو نہ اسے توڑتی ہے اور نہ ہی نقصان پہنچاتی ہے۔( مسند احمد ، حدیث نمبر 6872)
شہد کی مکھی صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ شہد پیدا کرتی ہے، اور جہاں بیٹھتی
ہے وہاں نقصان نہیں پہنچاتی ۔ اسی طرح مؤمن حلال رزق حاصل کرتا ہے، پاکیزہ اعمال
کرتا ہے، اور دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
نبی پاک ﷺ کا
تشبیہات سے تربیت کا مقصد دلوں کو متاثر کرنا، مفہوم کو ذہن نشین کرنا اور عمل کی
طرف مائل کرنا ہے ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم
تعلیم و تربیت میں سادہ، موثر اور حکمت سے بھرپور انداز اپنائیں جیسا نبی کریم ﷺ نے
انداز اپنایا۔ اگر آج ہم نبی کریم ﷺ کی اس حکمت کو اپنائیں تو معاشرے میں اخلاق،
کردار اور تربیت میں انقلاب آ سکتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
Dawateislami